نئی دہلی، 6 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز): قومی راجدھانی دہلی میں منگل کو انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج نے اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کر لیا جب دہلی پولیس نے کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر اپوزیشن رہنماو¿ں کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی آکاش وانی بھون کے احاطے میں کئی گھنٹوں تک جاری دھرنے کے بعد کی گئی۔
اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے آج پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ شروع کیا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے معاملے پر وضاحت کا تھا۔ پولیس نے مارچ کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر بیریکیڈنگ کی تھی۔
آکاش وانی بھون میں دھرنے پر بیٹھے راہل اور پرینکا
پولیس کی جانب سے مارچ روکے جانے کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنما آکاش وانی بھون کے احاطے میں بیٹھ گئے۔ رپورٹس کے مطابق راہل اور پرینکا سمیت متعدد رہنماو¿ں نے تقریباً نو گھنٹے تک دھرنا دیا۔ پولیس کی جانب سے احتجاج ختم کرکے احاطہ خالی کرنے کی درخواست کی گئی، لیکن مظاہرین نے کہا کہ انہیں الیکشن کمیشن تک جانے دیا جائے یا پھر احتجاج کے لیے متبادل مقام فراہم کیا جائے۔احتجاج کے دوران راہل گاندھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، پھر انہیں الیکشن کمیشن کے دفتر تک جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ملک میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی
مارچ کے دوران مرکزی دہلی میں پولیس، نیم فوجی دستوں اور ریپڈ ایکشن فورس کی اضافی تعیناتی کی گئی۔ کئی مقامات پر بیریکیڈ لگائے گئے، جس کے باعث ٹریفک کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی۔ احتجاج میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن اور دیگر اپوزیشن رہنما بھی شامل ہوئے۔ کئی کارکنوں اور اپوزیشن رہنماو¿ں کو پہلے ہی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوئی جب راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کچھ رہنما آکاش وانی بھون کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ پولیس نے احتجاج ختم کرانے کی کوشش کی، تاہم رہنماؤں کے وہاں سے نہ ہٹنے پر شام کے وقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

الیکشن کمیشن پر اپوزیشن کے سوالات
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی عمل سے متعلق اس کے خدشات پر الیکشن کمیشن کو وضاحت دینی چاہیے۔ احتجاج میں شامل رہنماو¿ں نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کے حکام کی طرف سے کہا گیا کہ انہیں کسی سیاسی جماعت کی جانب سے باقاعدہ ملاقات کی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن اور انتخابی ادارے کے درمیان جاری تنازع مزید نمایاں ہوگیا۔
بی جے پی کا ردعمل
بی جے پی نے احتجاج کے دوران آکاش وانی بھون کے احاطے میں داخل ہونے اور SIR کی مخالفت کو لے کر راہل گاندھی پر تنقید کی ہے۔ سرکاری نیوز آن ایئر کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی نے راہل گاندھی پر آکاش وانی بھون میں داخل ہونے اور SIR کی مخالفت کے حوالے سے حملہ کیا۔
دوسری طرف کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹر فہرستوں سے متعلق سوالات اٹھانے کے لیے ہے۔آکاش وانی بھون کے باہر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماو¿ں کی حراست نے دہلی کی سیاست میں ایک بار پھر الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کے درمیان جاری تنازع کو مرکز میں لا دیا ہے۔
