ستمبر 7, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

بائے بائے خارگ : ٹرمپ کی اے آئی تصویر سے ایران میں خوف، خارگ جزیرے پر حملے کا خدشہ

واشنگٹن، 7 ستمبر ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں ایک امریکی جنگی طیارے کو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرۂ خارگ کی جانب بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تصویر کے ساتھ ٹرمپ نے ’Bye Bye, Kharg‘ یعنی ’’بائے بائے خارگ‘‘ لکھا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں جنگی طیارے کے سامنے ایک جزیرہ دھماکوں اور شعلوں کی لپیٹ میں دکھائی دیتا ہے۔ اس منظر سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ تاہم، ٹرمپ کی پوسٹ میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا کہ تصویر میں دکھایا گیا حملہ حقیقت میں ہوا ہے۔

ایران کی معیشت اور کرنسی بھی ٹرمپ کے نشانے پر

ٹرمپ نے صرف خارگ جزیرے سے متعلق تصویر ہی شیئر نہیں کی بلکہ ایران کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتِ حال کو اجاگر کرنے والی متعدد پوسٹس بھی جاری کیں۔

ان پوسٹس میں ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی اور ملک میں بڑھتی مہنگائی کو نمایاں کیا گیا۔ ایک گرافک میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی کرنسی تباہ ہو چکی ہے، جبکہ ایک دوسری پوسٹ میں ایران میں ’’ہائپر انفلیشن‘‘ یعنی بے قابو افراطِ زر کا ذکر کیا گیا۔

ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے چارٹس کے مطابق ایرانی ریال کی قدر تقریباً 22 لاکھ 70 ہزار ریال فی امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

تیل برآمدات میں کمی کا بھی دعویٰ

ٹرمپ نے اپنی پوسٹس میں ایران کی تیل برآمدات میں کمی کو بھی امریکی دباؤ کے اثرات کے طور پر پیش کیا۔ ایک گرافک میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی تیل کی برآمدات 2025 میں تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ کی سطح سے 2026 میں تقریباً صفر تک پہنچ گئی ہیں، اگرچہ بعد میں کچھ بحالی کا بھی ذکر کیا گیا۔

دوسری جانب ایران کے حکام نے اقتصادی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات کو مسترد کیا ہے کہ امریکی اقتصادی دباؤ تہران کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ایرانی وزیر معیشت علی مدنی زادہ کا کہنا ہے کہ ملک کی اقتصادی اصلاحات کی ذمہ داری ایران کی حکومت اور عوام کی ہے، امریکا کی نہیں۔

خارگ جزیرہ کیوں اہم ہے؟

جزیرۂ خارگ ایران کے لیے انتہائی اہم تیل برآمدی مرکز ہے اور ملک کی توانائی کی آمدنی کے بنیادی ذرائع میں شمار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی دباؤ کے دوران خارگ مسلسل واشنگٹن کی دھمکیوں اور بیانات کا مرکز بنا ہوا ہے۔

گزشتہ 31 اگست کو بھی ٹرمپ نے ایک AI سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے خارگ جزیرے کو تباہ کرنے کا پیغام دیا تھا۔ اس وقت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا تھا کہ ٹرمپ کی پوسٹ کا مقصد ایران کو پیغام دینا تھا، نہ کہ یہ اعلان کرنا کہ جزیرے پر فوجی حملہ کیا جا رہا ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے بھی کہا تھا کہ خارگ پر ایسا حملہ نہیں کیا گیا۔

خارگ کے قریب آئل ٹینکر پر حملے سے کشیدگی بڑھی

تازہ صورتحال میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی فوج نے ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔ ان ٹینکروں میں سے ایک خارگ جزیرے کے قریب موجود تھا۔

ایرانی ذرائع نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ خارگ کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی میزائل حملہ ہوا، تاہم اس حوالے سے دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر بھی شدید کشیدگی

خارگ کے معاملے کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک نیا پابندی والا بحری زون قائم کرے گا اور اس علاقے میں داخل ہونے والے جہازوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تہران آئندہ چند روز میں نئے بحری راستوں اور پابندی والے زون کا نقشہ جاری کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

دریں اثنا، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران روزانہ اوسطاً صرف 10 کموڈیٹی بحری جہاز اس راستے سے گزرے، جو مئی کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔

عالمی تیل مارکیٹ پر بھی اثر

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں کمی نے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.25 فیصد بڑھ کر 97.48 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 92.62 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

اس صورتحال میں ٹرمپ کی خارگ سے متعلق نئی AI تصویر نے اس خدشے کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے کہ اگر ایران کے اس اہم تیل برآمدی مرکز کو حقیقت میں نشانہ بنایا گیا تو عالمی توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

تاہم، اب تک ٹرمپ کی ’بائے بائے خارگ‘ پوسٹ کو براہِ راست فوجی حملے کا اعلان نہیں کہا جا سکتا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ واشنگٹن آئندہ خارگ جزیرے کے خلاف کوئی عملی فوجی کارروائی کرے گا یا نہیں۔

Related posts

یوگی حکومت کے دعوے کی کھلی پول، نوئیڈا میں 492 صنعتی یونٹ ہوچکے ہیں بند

Hamari Duniya News

دو ہزار روپے سے زائد یوپی آئی ادائیگیوں پر لگے گا چارج!، آر بی آئی گورنر نے افواہوں پر لگایا بریک

Hamari Duniya News

اقتدار کے ایوانوں سے انصاف کی آواز خاموش، اجیت پوار کی ناگہانی رخصت ایک قومی خسارہ:سید جلال الدین

Hamari Duniya News