نئی دہلی، 7 ستمبر(ہماری دنیا نیوز)۔ دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں پیئنگ گیسٹ (پی جی) کے طور پر استعمال ہونے والی پانچ منزلہ عمارت کے اچانک منہدم ہونے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی ہے۔ حادثے کے بعد این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروس، دہلی پولیس، ڈی ڈی ایم اے، ایم سی ڈی اور دیگر ایجنسیوں کی ٹیمیں دوسرے روز بھی ملبے میں پھنسے لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کارروائی میں مصروف ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اب تک 11 افراد کو ملبے سے بحفاظت نکالا جاچکا ہے۔
یہ حادثہ اتوار کی دوپہر تقریباً 1:30 بجے ساؤتھ کیمپس کے قریب ستیہ نکیتن میں پیش آیا۔ عمارت پی-14 کے نام سے درج تھی اور اس میں طلبہ کے لیے پی جی رہائش چل رہی تھی۔ یہ علاقہ دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس اور سری وینکٹیشور کالج کے قریب واقع ہے اور یہاں بڑی تعداد میں طلبہ پی جی، ہاسٹل اور کرائے کے کمروں میں رہتے ہیں۔
ملبے میں مزید افراد کی تلاش جاری
حادثے کے بعد بڑی تعداد میں افراد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ریسکیو ٹیمیں انتہائی احتیاط کے ساتھ ملبہ ہٹا رہی ہیں، کیونکہ ملبے کے اندر مزید افراد کے زندہ ہونے کا امکان برقرار ہے۔ رات بھر جاری رہنے والی کارروائی کے بعد بھی سرچ آپریشن روکا نہیں گیا ہے۔
حادثے کے دوران عمارت میں موجود کچھ افراد نے فون کے ذریعے مدد طلب کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ ریسکیو ٹیموں نے بھاری مشینری کے ساتھ ساتھ دستی طریقوں سے بھی ملبے کو ہٹایا تاکہ ممکنہ طور پر زندہ افراد کو نقصان نہ پہنچے۔
بیسمنٹ میں تعمیراتی کام پر سوالات
ابتدائی تحقیقات میں عمارت کے بیسمنٹ میں جاری مرمت اور تعمیراتی کام کو بھی جانچ کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کے مطابق بیسمنٹ میں کھدائی کے دوران ایک ستون کے سرکنے سے عمارت کا توازن بگڑنے کا خدشہ ہے، جس کے بعد پوری عمارت منہدم ہوگئی۔ تاہم حادثے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
رپورٹس کے مطابق عمارت تقریباً 40 سے 50 سال پرانی تھی۔ بیسمنٹ میں پانی جمع ہونے اور کمزور بنیاد سمیت دیگر عوامل بھی تحقیقات میں زیر غور ہیں۔
عمارت کے پاس تعمیراتی اجازت اور فائر این او سی پر بھی سوال
ابتدائی شہری ادارہ جاتی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمارت کے پاس منظور شدہ بلڈنگ پلان اور فائر این او سی سے متعلق بھی سوالات موجود ہیں۔ ایم سی ڈی کے ایک عہدیدار کے مطابق عمارت میں غیر مجاز تعمیرات کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ عمارت تقریباً 55 مربع گز کے پلاٹ پر بنی تھی اور اس میں بیسمنٹ کے علاوہ متعدد منزلیں تھیں۔ ستیہ نکیتن جیسے گنجان آباد علاقے میں پرانی رہائشی عمارتوں کو کئی منزلہ پی جی میں تبدیل کیے جانے کے معاملے نے بھی انتظامیہ کی نگرانی پر سوال اٹھائے ہیں۔
حادثے کے بعد انتظامیہ نے احتیاطی طور پر منہدم ہونے والی عمارت سے متصل عمارت کو بھی خالی کرا دیا۔ ایم سی ڈی نے اسے خستہ حال قرار دیتے ہوئے سیل بھی کیا ہے تاکہ کسی دوسرے حادثے کا خطرہ نہ رہے۔
ایم سی ڈی نے ستیہ نکیتن حادثے کے بعد چار منزل سے زیادہ اونچی غیر قانونی تعمیرات کو سیل کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد گنجان آباد علاقوں میں غیر مجاز اور غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا ہے۔
مالک اور دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر
دہلی پولیس نے مبینہ مالک ہری رام اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق جنوبی کیمپس تھانے میں بی این ایس کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے ذمہ دار افراد کی تلاش کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔
تحقیقات میں عمارت کے مالک، ٹھیکیدار اور تعمیراتی کام میں شامل افراد سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔ اس بات کی بھی جانچ ہورہی ہے کہ بیسمنٹ میں تعمیراتی یا مرمتی کام کے لیے ضروری اجازت حاصل کی گئی تھی یا نہیں۔
وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو کی نگرانی کی
دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے جائے حادثہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔ ان کے ساتھ وزیر کپل مشرا اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حادثے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امدادی کارروائی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور جو بھی اس سانحے کا ذمہ دار پایا جائے گا، اسے بخشا نہیں جائے گا۔
ایل جی اور دیگر حکام نے بھی لیا جائے حادثہ کا جائزہ
لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو نے بھی جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور دہلی پولیس، فائر سروس، ڈی ڈی ایم اے اور دیگر ایجنسیوں کو باہمی تال میل کے ساتھ ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت دی۔
مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے فون پر بات کرکے صورتحال کی معلومات حاصل کیں اور مرکز کی جانب سے ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے ایمس نئی دہلی اور دیگر مرکزی سرکاری اسپتالوں کو زخمیوں کے علاج کے لیے ضروری انتظامات کی ہدایت بھی دی۔
وزیراعظم مودی نے بھی اظہارِ افسوس کیا
وزیراعظم نریندر مودی نے ستیہ نکیتن حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکام جائے حادثہ پر امدادی کارروائی میں مصروف ہیں اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے۔
طلبہ کی حفاظت اور پی جی نظام پر اٹھے سوال
اس حادثے کے بعد دہلی میں طلبہ کے لیے چلنے والے پی جی اور ہاسٹل کی عمارتوں کی حفاظت ایک بار پھر بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ ستیہ نکیتن میں دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب بڑی تعداد میں پی جی اور نجی ہاسٹل موجود ہیں، جن میں ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے طلبہ رہتے ہیں۔
حادثے نے پرانی عمارتوں میں غیر مجاز تعمیرات، فائر سیفٹی، بلڈنگ پلان، پی جی رجسٹریشن اور شہری اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ تحقیقات میں حادثے کی اصل وجہ کیا سامنے آتی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔
