18.3 C
New York
اکتوبر 19, 2026
National قومی خبریںTop News

اب نہرو، گاندھی یا یادو کو اپنا لیڈر نہیں بنائیں گے، رام پور میں اسدالدین اویسی کا اعلان

مسلم نوجوانوں کو قیادت کا موقع دینے پر زور، کہا اب دَری بچھانے والا دور ختم ہوگا، اب مسلمان رکن اسمبلی اور رکن پارلیمٹ بنیں گے

نئی دہلی، 19 اکتوبر (ہماری دنیا نیوز)۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ریاست میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اسی دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اتوار کو رام پور میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور سماج وادی پارٹی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اب نہرو، گاندھی یا کسی یادو کو اپنا لیڈر نہیں بنائیں گے، بلکہ ان کی صفوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں قیادت  کریں گے۔

جلسے میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اسدالدین اویسی سبز پگڑی پہنے ہوئے نظر آئے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مسلم نوجوانوں کی صلاحیتوں، سیاسی نمائندگی اور قیادت میں ان کی شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں میں بھی اتنی ہی صلاحیت ہے جتنی دوسرے نوجوانوں میں، لیکن انہیں آگے بڑھنے کے لیے مناسب پلیٹ فارم نہیں ملتا۔

مسلم نوجوانوں کو قیادت کا موقع دے رہی ہے اے آئی ایم آئی ایم: اویسی

اسدالدین اویسی نے کہا کہ مسلم نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے کہا، ’’میں ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ مسلم نوجوانوں میں بھی اتنی ہی قابلیت ہے جتنی دوسروں میں ہے۔ آپ میں صلاحیت ہے، لیکن آپ کو پلیٹ فارم نہیں دیا جاتا۔ اے آئی ایم آئی ایم آپ کو پلیٹ فارم دے رہی ہے۔ آئیے، آگے بڑھیے، لیڈر بنیے، ملک کی خدمت کیجیے اور مظلوموں کو انصاف دلائیے۔‘‘

انہوں نے نوجوانوں اور لڑکیوں کو سیاست میں آگے آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کی جماعت کی صفوں میں نوجوان نسل قیادت کرے گی۔ اویسی کے اس بیان کو اتر پردیش میں مسلم نوجوانوں کی سیاسی نمائندگی بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

’’عبدل صرف دری بچھانے کے لیے پیدا نہیں ہوا‘‘

اپنے خطاب کے دوران اسدالدین اویسی نے سیاسی جماعتوں میں مسلم کارکنوں کے کردار اور قیادت میں ان کی نمائندگی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کو اس بات سے تکلیف ہوتی ہے کہ اب عبداللہ لیڈر کیوں بنے گا۔

اویسی نے کہا، ’’عبدل صرف دری بچھائے گا اور جب دری بچھ جائے گی تو نہرو، گاندھی اور یادو کی طرح تکیہ لگا کر اس پر آرام سے بیٹھیں گے اور ہم سے دور سے پوچھیں گے کہ عبدل، کیسے ہو؟ عبدل دری بچھانے کے لیے پیدا نہیں ہوا ہے۔ اب عبدل دری نہیں بچھائے گا، بلکہ لیڈر بنے گا، رکن اسمبلی بنے گا اور ان شاء اللہ رکن پارلیمنٹ بھی بنے گا۔‘‘

ان کے اس بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ مسلم نوجوانوں کو صرف سیاسی جلسوں کے انتظامات اور جماعتوں کے لیے کام کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں فیصلہ سازی اور قیادت کے عہدوں تک پہنچنے کے مواقع بھی ملنے چاہئیں۔

اکھلیش یادو اور یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز

اے آئی ایم آئی ایم کے صدر نے اپنے خطاب کے دوران سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے شاعرانہ انداز میں کہا:

’’کچھ دیر کی خاموشی ہے، پھر شور آئے گا، اکھلیش، بابا! تمہارا وقت آیا ہے، ہمارا دور آئے گا۔‘‘

اسدالدین اویسی کے اس بیان کو ریاست میں اے آئی ایم آئی ایم کی سیاسی موجودگی مضبوط کرنے اور نوجوانوں کو اپنی جماعت کی جانب راغب کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ مسلم نوجوانوں کو اپنی قیادت خود تیار کرنی چاہیے اور ملک کی خدمت کے ساتھ مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے سیاسی میدان میں آگے آنا چاہیے۔

اتر پردیش کی سیاست میں کانگریس، بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان پہلے ہی سیاسی مقابلہ جاری ہے۔ ایسے میں اویسی کا یہ خطاب مسلم نوجوانوں کی سیاسی قیادت اور نمائندگی کے سوال کو ایک بار پھر مرکز میں لے آیا ہے۔

Related posts

تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت پر ایران کا میزائل حملہ، مشرق وسطیٰ میں27امریکی اڈوں پر ایران نے کئے حملے

Hamari Duniya News

ملک کے سامنے درپیش مسائل اور بین الاقوامی بحران پر وزیراعظم کی خاموشی باعث تشویش:ڈاکٹر ادریس قریشی

Hamari Duniya News

۔Jamaat-e-Islami Hind نے وندے ماترم قانون پر نظرثانی اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ

Hamari Duniya News