پولیس سے جھڑپیں، سرکاری عمارتوں اور دکانوں کو نقصان، سیکڑوں گرفتار، صدر میکرون نے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا
پیرس، 18 اکتوبر (ہماری دنیا نیوز): فرانس میں بڑھتی مہنگائی، ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے، قوتِ خرید میں کمی اور سرکاری خدمات کی بگڑتی صورتِ حال کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔ ہفتہ 17 اکتوبر کو پیرس سمیت متعدد شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جن کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، گاڑیوں اور عمارتوں میں آگ لگائی گئی اور کئی مقامات پر دکانوں میں لوٹ مار کی اطلاعات سامنے آئیں۔

France Protests Over Inflation Turn Violent, Hundreds Arrested
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق، فرانس کی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں 110 احتجاجی مارچوں میں تقریباً 5.5 لاکھ افراد کی شرکت کا اندازہ ظاہر کیا، جبکہ منتظمین اور مزدور تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی تعداد تقریباً 8 لاکھ رہی۔ احتجاج میں طلبہ، مزدور یونینوں اور حکومت کی معاشی پالیسیوں سے ناراض شہریوں نے شرکت کی۔
پیرس، لیون اور مارسی میں حالات کشیدہ
احتجاج کے دوران دارالحکومت پیرس میں مظاہرین نے پولیس پر مختلف اشیا اور آتش بازی کے سامان پھینکے، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ متعدد گاڑیوں اور کوڑے دانوں میں آگ لگنے کے علاوہ کچھ دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پیرس کے بعض میٹرو اسٹیشن بھی بند کیے گئے۔

France Protests Over Inflation Turn Violent, Hundreds Arrested
فرانس کے تیسرے بڑے شہر لیون میں تقریباً 20 ہزار افراد نے احتجاج میں شرکت کی، جہاں ایک سیاحتی دفتر میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ بندرگاہی شہر مارسی میں دکانوں اور میونسپل پولیس اسٹیشن کو نقصان پہنچا، جبکہ مظاہرین کچھ دیر کے لیے سٹی ہال کی عمارت کے داخلی حصے میں داخل ہوگئے۔ لیموج شہر میں سٹی ہال میں بھی آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ بورڈو، رین، تولوز، مونٹ پیلیئر اور گرینوبل سمیت دیگر شہروں میں بھی کشیدگی دیکھی گئی۔
سیکڑوں افراد گرفتار، صدر میکرون کا سخت موقف
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق، احتجاج کے دوران ملک بھر میں تقریباً 400 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکام نے تشدد، سرکاری عمارتوں پر حملوں اور لوٹ مار کے واقعات کا الزام انتہا پسند گروہوں اور شرپسند عناصر پر عائد کیا ہے۔
France Protests Over Inflation Turn Violent, Hundreds Arrested
صدر ایمانوئل میکرون نے سرکاری عمارتوں، کاروباری اداروں اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کے حق کا تحفظ کیا جائے گا، لیکن تشدد اور انتشار پھیلانے والوں کو سزا دی جائے گی۔
مہنگائی کے ساتھ تعلیم اور عوامی خدمات بھی احتجاج کی وجہ
یہ مظاہرے محض مہنگائی تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان میں تعلیمی اداروں کی خراب صورتِ حال، اساتذہ کی کمی، کم اجرت، پنشن اور عوامی خدمات کے تحفظ جیسے مسائل بھی اٹھائے گئے۔ فرانس کی اہم مزدور تنظیم سی جی ٹی نے زیادہ اجرت، بہتر پنشن، قیمتوں میں کمی اور عوامی خدمات کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔
France Protests Over Inflation Turn Violent, Hundreds Arrested
احتجاج میں 2018 کی ’یلو ویسٹ‘ تحریک کی بھی جھلک نظر آئی۔ اس تحریک میں بھی معاشی نابرابری، ایندھن کی قیمتوں اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر عوام سڑکوں پر نکلے تھے۔ اس بار بھی کئی مظاہرین پیلی جیکٹیں پہن کر احتجاج میں شریک ہوئے۔
France Protests Over Inflation Turn Violent, Hundreds Arrested
18 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، احتجاج کے دوران گرفتاریوں کی تعداد مختلف اوقات میں مختلف بتائی گئی ہے۔ اے پی کی رپورٹ میں تقریباً 400 گرفتاریاں درج ہیں، جبکہ رائٹرز کی ایک رپورٹ میں دن کے درمیانی حصے تک 272 افراد کی گرفتاری کا ذکر ہے۔ اس لیے گرفتاریوں کی حتمی تعداد میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔
France Protests Over Inflation Turn Violent, Hundreds Arrested
فرانس میں یہ احتجاج حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ عوامی بے چینی میں مہنگائی کے ساتھ معاشی نابرابری اور بنیادی سہولیات سے متعلق شکایات بھی شامل ہو گئی ہیں۔ آنے والے دنوں میں حکومت کے معاشی اقدامات اور احتجاج پر قابو پانے کی حکمت عملی پر ملک کی سیاسی صورتِ حال کا انحصار ہوگا۔
