نئی دہلی، 19 اکتوبر: ہندوستانی شیئر بازار میں پیر کے روز زبردست گراوٹ درج کی گئی، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) کا سینسیکس کاروبار کے دوران 900 پوائنٹس سے زیادہ نیچے آگیا، جبکہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی بھی 23 ہزار کی سطح سے نیچے پھسل گیا۔ بازار میں فروخت کے دباؤ کے باعث سرمایہ کاروں کی دولت میں بھاری کمی آئی۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق، بازار کی مجموعی مالیت میں تقریباً 5 لاکھ کروڑ روپے تک کی کمی دیکھی گئی۔
گزشتہ ہفتے شیئر بازار میں اچھی تیزی دیکھی گئی تھی، لیکن نئے ہفتے کے پہلے ہی کاروباری دن اس تیزی پر بریک لگ گیا۔ خاص طور پر نجی بینکوں کے شیئرز میں فروخت، خام تیل کی بلند قیمتوں اور عالمی حالات سے متعلق خدشات نے سرمایہ کاروں کے حوصلے پست کردیے۔
بازار میں گراوٹ کی 5 بڑی وجوہات
نجی بینکوں کے شیئرز میں بھاری فروخت: ایچ ڈی ایف سی بینک اور ایکسس بینک کے حصص میں نمایاں گراوٹ نے بازار پر دباؤ بڑھایا۔ سہ ماہی نتائج اور منافع کے مارجن سے متعلق خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کردیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ: عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت تقریباً 108 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہنے سے ہندوستان کی درآمدات، مہنگائی اور روپے پر دباؤ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت: اکتوبر میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی جانب سے ہندوستانی حصص سے تقریباً 52,100 کروڑ روپے نکالے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے بازار کے جذبات متاثر ہوئے۔
عالمی بازاروں سے کمزور اشارے: بین الاقوامی بازاروں میں اتار چڑھاؤ اور ٹیکنالوجی حصص سے متعلق خدشات نے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کیا۔
منافع وصولی کا دباؤ: گزشتہ ہفتے بازار میں نمایاں تیزی کے بعد کئی سرمایہ کاروں نے منافع حاصل کرنے کے لیے حصص فروخت کیے، جس سے گراوٹ مزید بڑھ گئی۔
اب آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کی نظر اب کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج، خام تیل کی قیمتوں، غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ اور عالمی حالات پر رہے گی۔ نفٹی کا 23 ہزار کی سطح سے نیچے بند ہونا بازار میں محتاط رویے کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم صرف ایک دن کی گراوٹ کی بنیاد پر مزید بڑی مندی کی پیش گوئی کرنا درست نہیں ہوگا۔ آئندہ کاروباری دنوں میں خریداری کی واپسی اور اہم حصص کی کارکردگی بازار کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
