مولانا محمد لقمان امام وخطیب مسجد طارق الثاقب
ہندوستان ایک کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور جمہوری ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے ماننے والے صدیوں سے ایک ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس تنوع کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری کے مذہبی عقائد اور ضمیر کی آزادی کا احترام کیا جائے۔
“وندے ماترم” برصغیر کی آزادی کی تحریک سے وابستہ ایک معروف قومی گیت ہے، جس نے ایک تاریخی کردار ادا کیا۔ تاہم اس کے مکمل متن کے بعض حصوں پر ابتدا ہی سے مسلم علماء اور مفکرین نے مذہبی بنیادوں پر اعتراض کیا۔ ان کا اعتراض گیت کی حب الوطنی پر نہیں تھا، بلکہ ان اشعار پر تھا جن میں وطن کو دیوی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے اور اس کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو اسلامی عقیدۂ توحید سے ہم آہنگ نہیں۔
اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ عبادت، سجدہ، استعانت اور الوہیت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں۔ قرآن کریم اعلان کرتا ہے: “تم اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔” اسی اصول کی وجہ سے مسلمان کسی بھی ایسی عبارت یا عمل سے احتراز کرتا ہے جس میں غیر اللہ کی الوہیت یا عبادت کا مفہوم پایا جائے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ وطن سے محبت اسلام کے خلاف نہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا، اور اسلامی تعلیمات انسان کو اپنے وطن کی خدمت، امن و امان کے قیام اور معاشرے کی بھلائی کی ترغیب دیتی ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کا مؤقف وطن سے بے زاری نہیں بلکہ اپنے عقیدے کی پاسداری ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے بھی وطن سے محبت کا اظہار اپنی مشہور نظم “سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا” میں کیا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسلمان کی سب سے بڑی شناخت اس کا ایمان اور عقیدۂ توحید ہے۔ ان کے نزدیک وطن کی محبت قابلِ قدر ہے، مگر اسے عبادت یا تقدیس کے درجے تک پہنچانا اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اسی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی طور پر عام طور پر “وندے ماترم” کے ابتدائی حصے ہی سرکاری مواقع پر پڑھے جاتے ہیں، جبکہ وہ اشعار جن میں دیویوں کا ذکر ہے، عموماً شامل نہیں کیے جاتے۔ یہ طرزِ عمل اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مختلف مذہبی حساسیتوں کا احترام جمہوری معاشرے کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی یا فرقہ وارانہ رنگ دینے کے بجائے آئین ہند کی روح کے مطابق دیکھا جائے، جو ہر شہری کو مذہبی آزادی اور ضمیر کے مطابق عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اپنے عقیدے کی بنیاد پر “وندے ماترم” کے بعض حصے پڑھنے سے گریز کرتا ہے، تو اسے وطن دشمنی قرار دینا نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ آئینی اعتبار سے۔
ہندوستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام شہری ایک دوسرے کے مذہبی عقائد کا احترام کریں، اختلاف کو دشمنی میں نہ بدلیں اور باہمی اعتماد کے ساتھ ملک کی خدمت کریں۔ مسلمانوں نے آزادی کی تحریک سے لے کر آج تک وطن کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اور وہ اپنے دینی عقیدے اور قومی ذمہ داری دونوں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں۔
اختتامیہ
ایک مہذب اور جمہوری معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ اکثریت اور اقلیت دونوں کے مذہبی احساسات کا احترام کرے۔ “وندے ماترم” کے بارے میں مسلمانوں کا مؤقف کسی تصادم کا نہیں بلکہ عقیدۂ توحید کی پاسداری اور آئینی مذہبی آزادی کے حق کا اظہار ہے۔ اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور قومی یکجہتی ہی ہندوستان کی اصل طاقت ہے۔
