26.9 C
New York
اگست 6, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

ایران جنگ کے دوران امریکی اسلحوں کے ذخائر ختم ہونے کی رپورٹ لیک ہونے پر ٹرمپ برہم، کارووائی کی دھمکی

امریکی اسلحوں

 وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی سخت تردید

واشنگٹن: ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی اسلحہ ذخائر سے متعلق متضاد دعووں نے واشنگٹن میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے اہم ہتھیاروں کی کمی پر وضاحت طلب کی، جبکہ دوسری جانب وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور خود صدر ٹرمپ نے ان خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

کیمپ ڈیوڈ اجلاس میں وضاحت طلب کرنے کا دعویٰ

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے میری لینڈ میں واقع کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے امریکی اسلحہ ذخائر، بالخصوص طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی کمی پر جواب طلب کیا۔

رپورٹ میں دو باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا خیال تھا کہ اسلحے کی قلت کا مسئلہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے، تاہم اجلاس میں انہیں بتایا گیا کہ صورتحال اب بھی تشویشناک ہے، جس پر انہوں نے وزیر دفاع سے وضاحت طلب کی۔

ایران کے خلاف فوجی آپشنز محدود ہونے کا دعویٰ

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسلحے کی قلت کے باعث ایران کے خلاف مزید وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کے امکانات محدود ہو گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہی وجہ تھی کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف بعض مجوزہ حملوں کی منظوری نہیں دی، حالانکہ اس سے قبل وہ تہران کو سخت فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے چکے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اجلاس کے دوران اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے اس صورتحال کی ذمہ داری نائب وزیر دفاع اسٹیفن فائنبرگ پر عائد کی اور کہا کہ صدر کو اسلحہ ذخائر کی حقیقی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں رکھا گیا۔

میزائل دفاعی نظام پر دباؤ

امریکی میڈیا اور بعض دفاعی تجزیوں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران امریکہ نے اپنے تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز استعمال کر لیے، جبکہ پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائل ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ نئی پیداوار کے لیے معاہدے کیے جا رہے ہیں، تاہم جدید پیٹریاٹ میزائلوں کی تیاری اور فراہمی میں دو سال تک کا وقت لگ سکتا ہے، جس کے باعث امریکی دفاعی منصوبہ بندی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کا سخت ردعمل

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ان تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس ہر قسم کے گولہ بارود اور اسلحے کا "بہت بڑا ذخیرہ” موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ:

"امریکہ کے پاس خصوصاً اہم اقسام کے گولہ بارود کی وافر مقدار موجود ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر نیا اسلحہ بھی تیار کیا جا رہا ہے اور ضرورت کے مطابق فوج کو فراہم کیا جائے گا۔”

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی دفاعی صنعت ملکی تاریخ کی تیز ترین توسیع سے گزر رہی ہے، جہاں نئی فیکٹریاں اور پیداواری مراکز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

لیکس پر سخت کارروائی کی دھمکی

صدر ٹرمپ نے حساس معلومات میڈیا تک پہنچانے والوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ:

"غداری پر مبنی معلومات لیک کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں گے اور انہیں طویل قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

وائٹ ہاؤس کی واضح تردید

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کو "سو فیصد جعلی خبر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع کے ساتھ موجود تھیں اور میڈیا میں بیان کیا گیا واقعہ کبھی پیش ہی نہیں آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کو وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر مکمل اعتماد حاصل ہے اور ان کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں۔

پینٹاگون کا مؤقف

ادھر پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے بھی میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے کبھی صدر یا کسی اور کو امریکی اسلحہ ذخائر کے بارے میں گمراہ نہیں کیا۔

ان کے مطابق اسلحہ ذخائر میں کمی اور صدر و وزیر دفاع کے درمیان اختلافات سے متعلق تمام دعوے "مکمل طور پر من گھڑت اور بے بنیاد” ہیں۔

متضاد دعوے، حقیقت کیا ہے؟

فی الحال امریکی میڈیا کی رپورٹس اور ٹرمپ انتظامیہ کے سرکاری بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ایک طرف میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران جنگ کے دوران امریکی میزائل دفاعی ذخائر پر شدید دباؤ آیا اور اس کے باعث بعض فوجی فیصلے متاثر ہوئے، جبکہ دوسری طرف وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور خود صدر ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ کے پاس نہ صرف وافر مقدار میں اسلحہ موجود ہے بلکہ دفاعی پیداوار بھی ریکارڈ سطح پر جاری ہے۔ سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اگر اس معاملے پر مزید سرکاری دستاویزات یا کانگریس کی سماعتیں سامنے آتی ہیں تو اسلحہ ذخائر کی حقیقی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔

Related posts

شہزادہ محمد بن سلمان نے روضہ رسول پر حاضری دی، ریاض الجنہ میں ادا کی نماز

Hamari Duniya News

اردو مشترکہ ہندوستانی تہذیب اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت ہے: ڈاکٹر شمس اقبال

Hamari Duniya News

استقبال ماہ رمضان مبارک پروگرام، مفتیان کرام اور ائمہ کرام کی عزت افزائی

Hamari Duniya News