نومبر 4, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

امریکی وسط مدتی انتخابات میں بڑا سیاسی الٹ پھیر، اپوزیشن ڈیموکریٹس کا دونوں ایوانوں پر قبضہ، کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ گئے ٹرمپ

ٹرمپ حکومت کے لیے انتخابی نتائج بڑا دھچکا، سینیٹ میں ریپبلکنز کی اہم نشستیں ڈیموکریٹس نے چھین لیں، ایوانِ نمائندگان میں بھی اکثریت حاصل کرنے کے امکانات روشن

نئی دہلی، 4 نومبر (ہماری دنیا نیوز): امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے ملکی سیاست میں بڑی تبدیلی کے اشارے دے دیے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کئی اہم ریاستوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ کی متعدد اہم نشستیں اپنے نام کرکے ایوانِ بالا کا کنٹرول حاصل کرنے کی راہ ہموار کرلی ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

امریکی میڈیا کی تازہ رپورٹوں کے مطابق ڈیموکریٹس نے جنوبی کیرولائنا، ٹیکساس اور اوہائیو سمیت کئی اہم ریاستوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے لیے ایک بڑے سیاسی امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں چار نشستیں ریپبلکنز سے چھین کر اکثریت حاصل کرلی ہے۔ اس کامیابی میں آئیووا، کنساس، ٹیکساس اور دیگر ریاستوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی کامیابی نے اہم کردار ادا کیا۔ ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو نے کین پیکسٹن کو شکست دی، جبکہ اوہائیو میں سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیروڈ براؤن نے ریپبلکن سینیٹر جون ہسٹڈ کو ہرا کر دوبارہ سینیٹ میں واپسی کی راہ ہموار کی۔

شمالی کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر نے ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست ڈیموکریٹس کے نام کی۔ جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے بھی کامیابی حاصل کی، جبکہ جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف دوبارہ منتخب ہوگئے۔

دوسری جانب امریکی ٹی وی چینل این بی سی نیوز نے پیش گوئی کی ہے کہ ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے۔ اس ایوان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے اور اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں۔ ڈیموکریٹس نے نیو جرسی، پنسلوانیا، شمالی کیرولائنا اور کینٹکی سمیت اہم انتخابی حلقوں میں ریپبلکن امیدواروں کو شکست دی۔ تاہم اے پی کی رپورٹ میں ایوانِ نمائندگان کے حتمی نتائج کو ابھی غیر واضح قرار دیا گیا ہے۔

مہنگائی اور ایران جنگ انتخابی نتائج پر اثرانداز

انتخابی نتائج کے حوالے سے امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافہ، ایران جنگ اور حکومتی بدعنوانی سے متعلق خدشات ووٹروں کی ترجیحات میں نمایاں رہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق بڑی تعداد میں امریکی شہری ملک کی موجودہ سمت اور معاشی صورت حال سے ناخوش ہیں، جس کا فائدہ ڈیموکریٹک پارٹی کو پہنچا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بیلٹ پر موجود نہیں تھے، اگر وہ انتخاب لڑ رہے ہوتے تو ریپبلکن پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتی۔

گورنر کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کی کامیابی

وسط مدتی انتخابات کے دوران 36 ریاستوں میں گورنر کے عہدوں کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی۔ جارجیا میں ڈیموکریٹ رہنما کیشا لانس باٹمز نے کامیابی حاصل کرکے تاریخ رقم کی، جبکہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جینا ہینوجوسا نے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے دی۔ دوسری جانب فلوریڈا میں ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز گورنر منتخب ہوئے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی کامیابی اور ایوانِ نمائندگان میں ان کی برتری صدر ٹرمپ کی آئندہ دو سالہ حکمرانی کے لیے اہم چیلنج ثابت ہوسکتی ہے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی مضبوط پوزیشن سے حکومتی پالیسیوں کی نگرانی، تحقیقات اور قانون سازی کے معاملات میں ریپبلکن انتظامیہ کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

Related posts

نوجوانوں کی عالمی قیادت کو نیا پلیٹ فارم، مسک فاؤنڈیشن اور اقوام متحدہ کا ’گلوبل یوتھ نیٹ ورک‘ قائم

Hamari Duniya News

قانون کی حکمرانی اور تخلیقی وفورکا سنگم، شیریں ظفر کی کتاب ’’عین رشید خان(مونوگراف )‘‘ کا اجرا

Hamari Duniya News

Supreme Court :سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ میں درختوں کی کٹائی پر پابندی لگائی، ریاستی حکومت کو نوٹس جاری

Hamari Duniya News