مجلسِ منتظمہ کے اجلاس میں اہم تجاویز منظور، ملک بھر کی تمام اکائیاں ایک ہی دن حکام کو میمورنڈم پیش کریں گی، یکساں سول کوڈ کو تفریق پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا
نئی دہلی، 30 اکتوبر : جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کا سالانہ اجلاس آج میوات کے ڈی ایل ایف اسپرنگ فیلڈ، سہسولا پٹی، پیپاکا، ضلع نوح (ہریانہ) میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی پرچم کشائی کے ساتھ شروع ہوگیا۔ اجلاس میں ملک بھر سے تقریباً دو ہزار ارکانِ منتظمہ، ممتاز علماء اور مشاہیر شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس کے پہلے ہی روز مدارسِ اسلامیہ کے تحفظ، مساجد و دیگر اسلامی شعائر کے خلاف انہدامی کارروائیوں کی روک تھام اور یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے معاملے پر اہم تجاویز منظور کی گئیں۔
اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے دوٹوک مطالبہ کیا کہ مساجد، عیدگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات پر بلڈوزر کارروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور منظوری و جانچ کے نام پر مدارس کو ہراساں کرنے اور ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔
مدارس کو آئینی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ
مدارس کے تحفظ سے متعلق منظور کردہ تجویز میں کہا گیا کہ منظوری اور جانچ کے نام پر مدارس کو نشانہ بنانا، ان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرنا اور اقلیتی تعلیمی اداروں کو متنازع بنانے کی کوششیں تشویش ناک ہیں۔ حکومتِ ہند اور متعلقہ قانونی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسی کارروائیاں فوری بند کی جائیں اور مدارس کو آئینِ ہند کے تحت حاصل حقوق اور تحفظات کی ضمانت دی جائے۔
ساتھ ہی مدارس کے ذمہ داران کو بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے اداروں کی اراضی کے کاغذات، منظور شدہ نقشہ جات، ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے شناختی کوائف اور مالیاتی کھاتوں کے آڈٹ سمیت تمام دستاویزات مکمل شفافیت کے ساتھ مرتب کرکے محفوظ رکھیں۔
مساجد کے انہدام اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے پر تشویش
مساجد اور دیگر اسلامی شعائر کے تحفظ سے متعلق دوسری تجویز میں ملک بھر میں مساجد، عیدگاہوں، درگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش ظاہر کی گئی۔ تجویز میں کہا گیا کہ مساجد محض عمارتیں نہیں بلکہ مسلمانوں کے عقیدے، اجتماعی شناخت اور آئینِ ہند کی دفعات 25 اور 26 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کی عملی علامت ہیں۔
جمعیۃ نے پلیسز آف ورشپ (اسپیشل پروویژنز) ایکٹ 1991 کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت برقرار رکھنا اور تاریخی تنازعات کو دوبارہ کھولنے سے روکنا ہے۔ تجویز میں سپریم کورٹ کے ایودھیا فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عدالت نے بھی اس قانون کو آئین کے بنیادی سیکولر ڈھانچے کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
اجلاس میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے اس قانون کی روح کو نظر انداز کرتے ہوئے عبادت گاہوں کے سروے کے احکامات جاری کیے جانے پر تشویش ظاہر کی گئی۔ اس سلسلے میں سنبھل کی تاریخی جامع مسجد کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یک طرفہ سروے کے حکم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے امن و امان کو شدید متاثر کیا۔
مجلسِ منتظمہ نے حکومتِ ہند اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے 12 دسمبر 2024 کے عبوری حکم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور 1991 کے پلیسز آف ورشپ ایکٹ کے منافی نئے دعووں کو ابتدائی مرحلے میں ہی خارج کیا جائے۔

اسی طرح بلدیاتی، ریونیو اور ترقیاتی اداروں کی جانب سے مناسب قانونی کارروائی اور متاثرہ فریق کو منصفانہ موقع دیے بغیر مساجد کے انہدام کی کارروائیوں کو روکنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
ملک بھر میں ایک ہی دن میمورنڈم پیش کریں گی جمعیۃ کی اکائیاں
اجلاس کا ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ جمعیۃ علماء ہند کی تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیلی اکائیاں مرکزی جمعیۃ کی جانب سے مقرر کردہ ایک ہی تاریخ اور وقت پر اپنے اپنے علاقوں کے متعلقہ حکام کو میمورنڈم پیش کریں گی۔
اس کے علاوہ تمام اکائیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے تعاون سے مساجد کی اراضی، خسرہ و کھتونی کے اندراجات، بلدیاتی ٹیکس اور دیگر قانونی دستاویزات کی جانچ اور تکمیل کا کام آئندہ چھ ماہ میں مکمل کرائیں۔
یکساں سول کوڈ کو تفریق پر مبنی قرار دے کر مسترد کردیا
یکساں سول کوڈ سے متعلق منظور کردہ تجویز میں اس قانون کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی نوعیت میں تفریق پر مبنی قرار دیا گیا۔ جمعیۃ نے اس حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ کو ملک کے سماجی اور مذہبی تنوع کے تناظر میں ناقابلِ قبول قرار دیا۔
مساجد سے متعلق تجویز پروفیسر نعمان شاہ جہاں پوری، نائب صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش نے پیش کی، جس کی تائید ماسٹر احسان الٰہی، ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء اتراکھنڈ اور مفتی جمیل الرحمن، ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء مشرقی یوپی زون نے کی۔
مدارس سے متعلق تجویز مولانا شمس الدین بجلی نے پیش کی، جبکہ اس کی تائید مفتی عبدالقوی، صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے کی۔ یکساں سول کوڈ سے متعلق تجویز مولانا عبدالواحد کھتری، ناظم اعلیٰ جمعیۃ راجستھان نے پیش کی، جس کی تائید مولانا اسلام الحق اسجد، صدر جمعیۃ علماء وسط یوپی، مولانا محمود الحسن کھیروا، رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند اور مولانا مفتی عبدالرزاق امروہوی نے کی۔
اجلاس 31 اکتوبر تک جاری رہے گا
واضح رہے کہ اس سے قبل 29 اکتوبر کو نئی دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر واقع مدنی ہال میں مجلسِ عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں مجلسِ منتظمہ کے لیے مختلف تجاویز کے مسودوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مجلسِ عاملہ کی منظور کردہ تجاویز آج مجلسِ منتظمہ میں پیش کی گئیں۔
اجلاس کا آغاز مولانا محمد یحییٰ کریمی، ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش کے خطبۂ استقبالیہ سے ہوا۔ اس کے بعد ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کے ساتھ سکریٹری رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر معروف شاعر قاری احسان محسن نے اپنا کلام بھی پیش کیا، جبکہ ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند (شمالی ہند) مولانا مفتی ذاکر حسین قاسمی نے تجویزِ تعزیت پیش کی۔
اجلاس 31 اکتوبر کو دوپہر تک جاری رہے گا، جس میں ملک کی موجودہ صورت حال اور مسلمانوں کو درپیش سماجی، تعلیمی، ملی اور تنظیمی چیلنجز سے متعلق مزید اہم تجاویز پیش کی جائیں گی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کا اہم خطاب بھی اجلاس کا اہم حصہ ہوگا۔
