نئی دہلی،12 اکتوبر ( ہماری دنیا نیوز): دہلی میں احتجاج اور مظاہروں کے لیے اہم مقام سمجھے جانے والے جنتر منتر کو اب باضابطہ طور پر احتجاجی مقام کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اس فیصلے کے بعد اب جنتر منتر پر مظاہروں کی اجازت نہیں ہوگی اور احتجاج کرنے والوں کو مقررہ متبادل مقامات کا رخ کرنا پڑے گا۔
اس فیصلے سے سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور مختلف مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے گروپوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ جنتر منتر طویل عرصے سے دہلی میں دھرنوں، احتجاجی مظاہروں اور عوامی تحریکوں کا اہم مرکز رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کی جانب سے 11 اکتوبر کو جاری حکم کے تحت احتجاجی مقامات سے متعلق سابقہ ضابطے میں جزوی ترمیم کی گئی ہے۔ احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے لیے متبادل مقام کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
نئے ضابطے الگ سے جاری ہوں گے
دہلی پولیس کے مطابق ان تینوں مقامات پر احتجاج کے انعقاد کے لیے معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) اور تفصیلی رہنما ہدایات الگ سے جاری کی جائیں گی۔ فی الحال نئے مقامات پر احتجاج کے لیے اجازت، وقت اور دیگر شرائط سے متعلق تفصیلات کا انتظار ہے۔
جنتر منتر کئی دہائیوں سے سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، طلبہ گروپوں اور مختلف عوامی تحریکوں کے احتجاج کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہاں مظاہرین اپنی شکایات اور مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لیے دھرنے دیتے رہے ہیں۔ اب اس مقام کو مقررہ احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کیے جانے کے بعد دہلی میں احتجاج کے انتظامات میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔
