21.1 C
New York
ستمبر 3, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

 نیپال نے تین بڑے ممالک سے سیلاب کی ’معاوضہ‘ رقم مانگ لی، کہا: یہ امداد نہیں موسمیاتی انصاف کا معاملہ ہے

کاٹھمنڈو، 3 ستمر: نیپال نے حالیہ تباہ کن سیلاب اور موسمیاتی آفت سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے امریکا، چین اور بھارت سے مالی معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیپال کا کہنا ہے کہ ملک کا گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں حصہ نہایت معمولی ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا سامنا اسے انتہائی شدت سے کرنا پڑ رہا ہے۔ 

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے کہا ہے کہ حکومت نے اپنی سفارتی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے محض بین الاقوامی امداد طلب کرنے کے بجائے’’موسمیاتی انصاف اور معاوضے‘‘ پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ خیرات یا عطیہ حاصل کرنے کا نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کا ہے۔

 چین، امریکا اور بھارت سے معاوضے کا مطالبہ

وزیر خارجہ شیشیر خانال نے چین، امریکا اور بھارت کو دنیا کے بڑے گرین ہاؤس گیس اخراج کرنے والے ممالک قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کم اخراج والے ممالک کو بڑے صنعتی ممالک سے معاوضہ ملنا چاہیے۔

ان کے مطابق چین دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کا سب سے بڑا اخراج کرنے والا ملک، امریکا دوسرے اور بھارت تیسرے نمبر پر ہے۔ نیپال کا مؤقف ہے کہ بڑے صنعتی ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ممالک کے نقصانات میں حصہ ڈالیں جو موسمیاتی بحران پیدا کرنے میں بہت کم کردار رکھتے ہیں لیکن اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ 

خانال نے کہا کہ نیپال کی وزارت خزانہ نے اس سلسلے میں متعلقہ بین الاقوامی شراکت داروں کو باضابطہ خط بھیج دیا ہےاور آئندہ عالمی فورمز پر بھی یہ معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ 

 ’یہ خیرات نہیں، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے‘

نیپالی وزیر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک کو عالمی موسمیاتی بحران کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، حالانکہ اس بحران میں اس کا حصہ انتہائی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمالیائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور پہاڑی علاقوں میں آنے والی تباہ کن سیلابی لہروں کا تعلق عالمی موسمیاتی تبدیلی سے ہے۔ ان کے بقول، بین الاقوامی امداد کو محض خیرات سمجھنے کے بجائے موسمیاتی نقصانات کے ازالے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

 26 اگست کا تباہ کن سیلاب

نیپال میں26 اگست 2026 کو بھوٹے کوشی دریا کے علاقے میں آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ رسووا، نوواکوت، دھادنگ اور دیگر علاقوں میں مکانات، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے اور دیگر بنیادی ڈھانچے شدید متاثر ہوئے۔

نیپال کے پولیس اعداد و شمار کے مطابق یکم ستمبر تک1,066 افراد ہلاک اور تقریباً 4,606 افراد لاپتہ تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تباہی کا مکمل تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ 

مالیاتی حکام کے ابتدائی اندازے کے مطابق بحالی اور تعمیر نو پر 4 سے 5 ارب ڈالر تک خرچ آ سکتا ہے۔ 

 ’ہمالیائی سونامی‘ قرار

وزیر خارجہ شیشیر خانال نے اس تباہی کو عام سیلاب قرار دینے کے بجائے’ہمالیائی سونامی‘ سے تشبیہ دی ہے۔ ان کے مطابق پہاڑی علاقوں سے آنے والی پانی، برف اور ملبے کی انتہائی تیز رفتار لہروں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز، برفانی تودوں اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی اثرات کو سمجھنا اور مستقبل میں ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید وارننگ سسٹم تیار کرنا ضروری ہے۔ 

 عالمی ’لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ‘ سے بھی مدد طلب

نیپال نے صرف تین ممالک سے معاوضے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ Fund for Responding to Loss and Damage (FRLD) سے بھی فوری مالی معاونت کی درخواست کی ہے۔ یہ عالمی موسمیاتی مالیاتی نظام کا حصہ ہے جسے COP27 میں قائم کیا گیا اور COP28 میں اسے فعال کیا گیا۔

نیپالی حکومت نے کہا ہے کہ تباہی کا حجم ملک کی اپنی مالی اور انتظامی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے عالمی موسمیاتی فنڈ سے فوری مدد ضروری ہے تاکہ متاثرین کی بحالی، بنیادی سہولیات کی بحالی اور تعمیر نو کا عمل شروع کیا جاسکے۔ 

 بھارت اور چین کی امداد پر نیپال کا شکریہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف نیپال بڑے ممالک سے موسمیاتی معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہے، دوسری طرف بھارت اور چین سمیت کئی ممالک کی جانب سے ملنے والی ہنگامی امداد کا خیرمقدم بھی کیا گیا ہے۔

نیپالی وزیراعظم بالیندر شاہ نے پارلیمنٹ میں بھارت اور چین کی جانب سے فوری امداد اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔ بھارت نے امدادی سامان اور خصوصی تکنیکی ٹیمیں بھیجیں، جبکہ چین نے بھی امدادی سامان، تکنیکی مدد اور ماہرین کی معاونت فراہم کی۔ 

نیپال کے مطابق امریکا، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات، قطر، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک نے بھی مختلف شکلوں میں امداد اور تعاون کی پیشکش کی ہے۔ 

 موسمیاتی انصاف کی نئی سفارتی مہم

نیپال کا تازہ مطالبہ عالمی سطح پر یعنی موسمیاتی انصاف کی بحث کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔ نیپال کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جن ممالک کا کاربن اخراج کم ہے اور جو عالمی موسمیاتی بحران میں نسبتاً معمولی کردار رکھتے ہیں، انہیں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے بھاری نقصانات کا بوجھ اکیلے نہیں اٹھانا چاہیے۔

وزیر خارجہ خانال کے مطابق نیپال اس معاملے کو آئندہ بین الاقوامی اجلاسوں اور سفارتی پلیٹ فارمز پر مسلسل اٹھائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمالیائی گلیشیئرز کا تحفظ صرف نیپال کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی پانی، خوراک، توانائی اور ماحولیاتی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔ 

Related posts

یواے ای کو شدید دھچکا، اس افریقی ملک نے یو اے ای کے ساتھ اپنے تمام معاہدے منسوخ کردیئے

Hamari Duniya News

قطر کے قومی دن پر دوحہ میں شاندار فوجی پریڈ کا انعقاد

Hamari Duniya News

آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران کی نئی شرطیں، امریکا کے سامنے رکھ دیے 6 مطالبات

Hamari Duniya News