21.1 C
New York
ستمبر 3, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

ایران کا امریکی اڈوں پر جوابی حملہ، اردن، بحرین، کویت اور عراق میں میزائلوں اور ڈرون کی بارش، چاروں طرف تباہی

تہران/عمان/منامہ/کویت سٹی، 2 ستمبر (ہ س)۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے اہداف پر تازہ حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی فوجی تنصیبات اور مفادات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو کہا کہ اس نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی شروع کی ہے۔ تاہم ایرانی فوج کی جانب سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور بڑے پیمانے پر فوجی سازوسامان تباہ ہونے کے دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ امریکی حکام نے ابتدائی طور پر اردن میں کسی امریکی جانی نقصان کی تردید  کی ہے۔ دوسری جانب ایرانی حملوں کے بعد کویتی حکام نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ ایک ایرانی ڈرون رہائشی کمپلیکس سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ لگ گئی۔ 

کویتی حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ کویتی میڈیا کے مطابق ڈرون حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں امریکی کمانڈروں کے کیمپ اور رہائش گاہ، علی السالم فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق علی السالم ایئر بیس پر میزائل اور ڈرون حملے میں کئی امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ علی السالم ایئر بیس پر موجود متعدد امریکی ڈرون طیارے بھی حملے میں تباہ ہوئے ہیں۔

اردن میں امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اردن میں امریکی میرین بیس کیمپ تیتن کو بھاری بیلسٹک میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک اور کئی اہم فوجی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے۔

ایرانی دعوے کے برعکس امریکی حکام نے کہا ہے کہ اردن میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک کسی امریکی فوجی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

پرنس حسن ایئر بیس پر ڈرونز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اردن کے پرنس حسن ایئر بیس میں امریکی ڈرونز کے ہینگرز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوج کے مطابق حملے میں RQ-4 اور MQ-9 طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرونز تباہ ہوئے جبکہ بعض پائلٹ اور تکنیکی عملہ بھی ہلاک ہوا۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے یہی دعویٰ رپورٹ کیا ہے۔ تاہم ان نقصانات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اردن نے 13 میں سے 10 میزائل مار گرائے

اردن کی مسلح افواج کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 بیلسٹک میزائلوں میں سے 10 کو فضا میں ہی روک دیا گیا، جبکہ تین میزائل آبادی سے دور غیر آباد علاقوں میں گرے۔

اردنی حکام نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ملک کے مختلف علاقوں میں آنے والے خطرات سے نمٹا۔ امریکی حکام کے مطابق اردن میں موجود امریکی فوجیوں کو اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔

بحرین میں امریکی اڈے کو ڈرون حملے کا دعویٰ

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر امریکی فوجیوں اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب بحرین نے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک کر تباہ کر دیا گیا۔ بحرین یا امریکا کی جانب سے ایرانی حملے میں بڑے پیمانے پر امریکی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔

کویت میں بھی میزائل اور ڈرون خطرہ

کویت کی فوج نے بدھ کو بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کیا۔ کویتی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے آنے والے حملوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔

رپورٹس کے مطابق کویت میں بھی دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کی آوازیں سنی گئیں، تاہم بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی فوری طور پر اطلاع نہیں ملی۔

عراق کے اربیل میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پاسدارانِ انقلاب نے عراق کے شمالی علاقے اربیل میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی مشترکہ میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی فوج کے مطابق حملے میں ایک مرمتی مرکز، تکنیکی سازوسامان کے گودام اور امریکی نگرانی کے غبارے سے متعلق ایک نظام کو نقصان پہنچا۔ ایرانی حکام نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم عراق اور امریکا نے ان دعووں کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں کی۔

امریکا نے ایران کو مزید سخت کارروائی کی دھمکی دی

ایرانی جوابی حملوں سے قبل امریکا نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے اہداف اور آبنائے ہرمز کے قریب متعدد مقامات پر تازہ فضائی کارروائی کی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق حملوں کا مقصد ایرانی فوجی تنصیبات اور خطے میں امریکی افواج کو لاحق خطرات کو کم کرنا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے جوابی کارروائیاں جاری رکھیں تو امریکا مزید سخت حملے کرے گا۔ اس کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے تنازع کے وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلنے کا خدشہ

ایران اور امریکا کے درمیان تازہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کئی محاذوں تک پھیل گئی ہے۔ اردن، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی فوجی موجودگی اب ایرانی جوابی کارروائیوں کی زد میں آ گئی ہے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی انتہائی حساس ہے۔ خطے میں فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تازہ واقعات نے یہ خدشہ مزید گہرا کر دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی کسی بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

Related posts

تیسری عالمی جنگ! ایک ساتھ سات ممالک کے امریکی بیس پر ایران کے حملے

Hamari Duniya News

سعودی عرب پر حملہ: خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی

Hamari Duniya News

پانی پت روڈ پر نالے اوور فلو، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

Hamari Duniya News