21.5 C
New York
اگست 28, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

نیپال میں قیامت خیز سیلاب، ملبے سے تین دن بعد بھی نکل رہی ہیں لاشیں، ہلاکتیں 469 تک پہنچ گئیں، دوبارہ سیلاب کا خطرہ

کاٹھمنڈو، 28 اگست (ہماری دنیا نیوز): نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ قدرتی آفت کے تیسرے روز بھی متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نیپال پولیس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔

بھوٹے کوشی دریا میں اچانک آیا سیلاب

یہ تباہی 26 اگست کو نیپال کے شمالی علاقے میں واقع بھوٹے کوشی دریا کے آس پاس شروع ہوئی۔ نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر برف، چٹان اور ملبے کے کھسکنے کے بعد دریا میں اچانک پانی اور مٹی کا انتہائی طاقتور ریلا آیا، جس نے راستے میں آنے والی سڑکوں، پلوں، مکانات، بجلی کے منصوبوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

ابتدائی طور پر اس واقعے کو زلزلے سے جوڑا گیا تھا، تاہم بعد کی اطلاعات میں اسے گلیشیئر یا برفانی تودے کے انہدام اور اس کے نتیجے میں آنے والے شدید ملبے کے ریلے سے منسلک کیا گیا۔

30سے زائد ممالک کے شہری لاپتہ

اس سانحے نے بین الاقوامی تشویش بھی پیدا کر دی ہے، کیونکہ متاثرہ علاقہ سیاحوں، ٹریکروں اور کیلاش مانسروور جانے والے یاتریوں کے لیے اہم راستہ ہے۔

نیپال کی وزارت خارجہ کے 27 اگست کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 33 ممالک کے 596 غیر ملکی شہری تاحال لاپتہ تھے۔ اس فہرست میں سب سے زیادہ بھارتی شہری شامل تھے۔ اس وقت 178 بھارتی شہریوں میں سے 167 کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ یوکرین، امریکہ، ملائیشیا، آسٹریلیا، برطانیہ، چین، کینیڈا، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کے شہری بھی لاپتا افراد میں شامل تھے۔

تازہ غیر سرکاری اور میڈیا رپورٹس میں لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد میں بھی اتار چڑھاؤ سامنے آ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ مختلف اداروں کی جانب سے الگ الگ وقت پر اعداد و شمار جمع کیا جانا اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں دشواری ہے۔

بھارت کے شہری بھی بڑی تعداد میں متاثر

بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد نیپال میں مذہبی اور سیاحتی سفر پر تھی۔ سرکاری نیپالی فہرست میں 178 بھارتی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جن میں سے 11 کو تلاش کر لیا گیا تھا اور 167 کی تلاش جاری تھی۔

بھارتی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے متعدد خاندان اپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ حکام کی جانب سے لاپتہ افراد کی شناخت اور ان کے مقام کی تصدیق کے لیے مختلف ذرائع سے معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

ہزاروں افراد متاثر، سڑکیں اور پل تباہ

سیلاب نے نیپال کے سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں مواصلاتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ متعدد سڑکیں اور پل پانی اور ملبے میں بہہ گئے، جس کے باعث امدادی ٹیموں کو کئی علاقوں تک پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 کلومیٹر سڑکوں اور درجنوں پلوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ بجلی کے متعدد منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بعض علاقوں میں زمینی راستے مکمل طور پر منقطع ہونے کے بعد فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد اور لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا رہا ہے۔

سرنگ میں پھنسے 350 افراد کو بچایا گیا

ریسکیو کارروائیوں کے دوران نیپالی فوج نے ایک سرنگ میں پھنسے تقریباً 350 افراد کو محفوظ نکال لیا۔ یہ کارروائی اس وقت انتہائی اہم ثابت ہوئی جب سیلاب کے باعث کئی راستے بند ہو گئے اور بڑی تعداد میں لوگ مختلف مقامات پر پھنس گئے تھے۔

حکام دریاؤں کے کناروں، تباہ شدہ عمارتوں اور ملبے کے ڈھیروں میں لاپتا افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم مسلسل بارش، خراب موسم اور تباہ شدہ سڑکوں کے باعث امدادی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوبارہ سیلاب کا خطرہ

متاثرہ علاقے میں ایک اور بڑا خطرہ ثانوی سیلاب کا ہے۔ ملبے اور چٹانوں کے باعث پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہونے سے بعض مقامات پر مصنوعی جھیل جیسی صورتحال بن گئی ہے۔ اگر پانی کا دباؤ بڑھا اور یہ رکاوٹ ٹوٹ گئی تو نیچے کی جانب آباد علاقوں میں دوبارہ شدید سیلاب آ سکتا ہے۔

اسی خطرے کے پیش نظر حکام دریا کے بہاؤ اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

حکومت اور فوج کی امدادی کارروائیاں جاری

نیپال حکومت نے فوج، پولیس، مسلح پولیس فورس، مقامی انتظامیہ اور صحت کے اداروں کو بڑے پیمانے پر ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں لگا دیا ہے۔ متاثرہ افراد کو نکالنے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور بے گھر خاندانوں کو ضروری اشیا پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

نیپال کی وزارت خارجہ کے مطابق حکومت تمام دستیاب وسائل کو تلاش، بچاؤ، انخلا اور امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ لاپتا افراد اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی تصدیق کا عمل جاری ہے، اس لیے آنے والے گھنٹوں میں تعداد میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی امداد

قدرتی آفت کی شدت کے پیش نظر بین الاقوامی امدادی اداروں نے بھی مدد کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے متاثرہ آبادی کے لیے ہنگامی امداد اور ضروری اشیا کی فراہمی میں تعاون کر رہے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں سب سے بڑی ترجیح لاپتا افراد کی تلاش، زخمیوں کا علاج اور خطرناک علاقوں سے لوگوں کا انخلا ہے۔

Related posts

کارپوریٹ اور خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے فیس میں بے تحاشہ اضافہ،  حکومت کی خاموشی پر کےکویتا کا استفسار، قانون سازی کا پرزور مطالبہ

Hamari Duniya News

قومی لوک عدالت میں ریکارڈ 1,90,725 مقدمات کا نپٹارہ، 5 کروڑ سے زائد کی سیٹلمنٹ

Hamari Duniya News

مکہ مکرمہ میں بین الاقوامی قرآن مقابلے کا اختتام، دنیا بھر کے حفاظ میں 1 کروڑ 2 لاکھ 60 ہزار ریال کے انعامات تقسیم

Hamari Duniya News