اجمیر، راجستھان،27 اگست(ہماری دنیا نیوز)۔
اجمیر شریف کی تاریخی درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے مقدس احاطے میں منعقد ہونے والا 18واں انٹرنیشنل صوفی رنگ فیسٹیول 2026 تین روزہ روحانی، ثقافتی اور فنونِ لطیفہ کی سرگرمیوں کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔ فیسٹیول کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد زائرین، عقیدت مندوں اور فن سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور مقدس فنون، لائیو خطاطی اور صوفیانہ موسیقی سے محظوظ ہوئے۔
فیسٹیول کی اختتامی تقریب تاریخی محفل خانہ، درگاہ اجمیر شریف میں منعقد ہوئی، جس کی نگرانی چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی سید سلمان چشتی، فیسٹیول ڈائریکٹر ڈاکٹر عظیم ایس میمن اور فیسٹیول کوآرڈینیٹر حاجی محمود احمد شیخ نے کی۔

اختتامی پروگرام کا آغاز معروف قوال آفتاب قادری اندوری کی روح پرور محفلِ سما سے ہوا، جس کے بعد سید فضیل چشتی نے تلاوتِ قرآنِ مجید پیش کی۔ روحانی ماحول میں منعقد ہونے والی اس تقریب نے فیسٹیول کے تین روزہ سفر کو ایک پُروقار اختتام عطا کیا۔
نوجوان نسل کو روحانی اور تخلیقی فنون سے جوڑنا مقصد
اختتامی تقریب میں اظہارِ تشکر کرتے ہوئے چشتی فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی سید سلمان چشتی نے ملک کے مختلف شہروں اور ریاستوں سے آنے والے زائرین، خطاطوں اور فنکاروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فنکاروں اور خطاطوں نے اپنے اپنے علاقوں میں مقدس فنِ تحریر کی روایت کو زندہ رکھا اور اسے خواجہ غریب نوازؒ کی بارگاہ تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی نوجوان کسی قلم کو کاغذ پر مقدس یاد کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی کیفیت اور احساس بیدار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فیسٹیول کی اصل کامیابی یہی ہے کہ نئی نسل تخلیقی، روحانی اور مقدس فنون کی جانب راغب ہو۔
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی پذیرائی
اختتامی تقریب کے دوران فیسٹیول میں خصوصی طور پر شرکت کرنے والی ممتاز شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا۔ ان میں ہالی ووڈ پروڈیوسر آرنو کریمر، سابق صدر اجمیر بار ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ ٹنڈن صاحب، انجمن سیدزادگان خدامِ خواجہ کے سکریٹری جناب سید کلیم الدین چشتی، انجمن کے سینئر رکن سید منور چشتی، سرو دھرم میتری سنستھان کے صدر جناب پرکاش جین، این سی پی یو ایل (وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند، نئی دہلی) سے وابستہ جناب محمد قاسم، انجمن کے نوجوان رکن سید مقصود چشتی خوشحالی، چشتی فاؤنڈیشن کے نوجوان اراکین سیدہ ثمر چشتی، سید سرحان علی چشتی اور سید علی زید چشتی کے علاوہ سینئر کنسلٹنٹ اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ستیش شیو نانی شامل تھے۔

تقریباً 40 فنکاروں اور خطاطوں کو اعزاز
فیسٹیول میں شریک تقریباً 40 فنکاروں اور خطاطوں کو بھی شال اور یادگاری مومنٹو پیش کرکے اعزاز سے نوازا گیا۔ اعزاز حاصل کرنے والوں میں آفتاب قادری، اریب عمر، امان حسین، احسن شیخ، اقصیٰ خان، افشاں خان، الفیہ مدینہ، انیل کمار چوہان، عائشہ صدیقہ، بی بی تبسم، ثریا قریشی، درخشاں فاطمہ، دلِ نور فاطمہ، ایلیزا رفعت، حفیظہ تسنیم، گل ایوبی، گلشن فاطمہ، غیاث الدین شیخ، امتیاز انصاری، ارشاد علی بنارسی، جمال احمد، کے بی آرٹس کے عبدالقدیر اور یاسین باپو، خورشید عالم، مادیہ سلطانہ، محمد رفیق، منصب آرٹس، مصیرہ منصوری، معین نواب، منور اعظمی، شیخ نیاز احمد، راجیش چوہان، سیدہ ناہید، ثائقہ رشید، شاہجہاں، سیدہ صوفی علی، سراج الدین شیخ، وکرم راؤ، ظفر رضا خان اور ضیاء الدین چشتی سمیت دیگر فنکار شامل تھے۔
عالمی امن اور بھائی چارے کے لیے اجتماعی دعا
تین روزہ فیسٹیول کا اختتام عالمی امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بھائی چارے اور پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا۔ دعا کی قیادت ظہور بابا اور جناب منور چشتی صاحب نے مشترکہ طور پر کی۔
فیسٹیول نے صوفیانہ روایت، روحانی موسیقی، خطاطی اور ہندوستان کے گنگا جمنی تہذیبی ورثے کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں مختلف مذاہب، طبقات اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے محبت، امن اور باہمی احترام کے پیغام کے ساتھ شرکت کی۔
فیسٹیول کا بنیادی پیغام:
"سب سے محبت، کسی سے عداوت نہیں” (Love Towards All, Malice Towards None)۔
