22.8 C
New York
اگست 16, 2026
Delhi دہلیTop News

قومی ترانے سے متعلق گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹس پر امیت مالویہ اور اشوک شریواستو کو قانونی نوٹس

نئی دہلی، 15 اگست(ہماری دنیا نیوز): رچناتمک کانگریس کے قومی چیئرمین اور سابق رکن لوک سبھا سندیپ دکشت نے قومی ترانے سے متعلق مبینہ طور پر گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹس کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی و سوشل میڈیا ہیڈ امیت مالویہ اور ڈی ڈی نیوز کے سینئر کنسلٹنگ ایڈیٹر اشوک شریواستو کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ یہ نوٹس سندیپ دکشت کے وکلا امبوج دکشت اور امریش رنجن پانڈے کے ذریعے بھیجے گئے ہیں۔

قانونی نوٹس کے مطابق یہ معاملہ 13 اگست 2026 کو کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقدہ رچناتمک کانگریس کے قومی کنونشن کے دوران قومی ترانے سے متعلق پیش آنے والے ایک واقعے سے جڑا ہے۔

نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پروگرام کے دوران قومی ترانہ پہلے ہی مکمل طور پر بجایا جاچکا تھا۔ اس کے بعد اسٹیج پر موجود افراد نے وہاں موجود لوگوں سے گفتگو شروع کردی تھی۔ اسی دوران آڈیو سسٹم میں غیر ارادی طور پر پیدا ہونے والی تکنیکی غلطی کے باعث قومی ترانہ دوبارہ بجنے لگا، جسے آڈیو آپریٹر نے فوری طور پر روک دیا۔

قانونی نوٹس کے مطابق اسٹیج پر موجود افراد، جن میں سندیپ دکشت اور راہل گاندھی بھی شامل تھے، کو اس بات کا پہلے سے علم نہیں تھا کہ قومی ترانہ دوبارہ بجایا جائے گا۔

سوشل میڈیا پوسٹس پر اعتراض

سندیپ دکشت کے وکلا نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ سوشل میڈیا پوسٹس میں واقعے کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ اسٹیج پر موجود افراد جان بوجھ کر قومی ترانے کے دوران اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اور انہوں نے دانستہ طور پر قومی ترانے کی توہین کی۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے اصل تسلسل اور پس منظر کو نظر انداز کرکے پیش کیے جانے سے عوام کے درمیان ایک ایسا تاثر پیدا ہوا جو مکمل آڈیو ویژول ریکارڈنگ سے مطابقت نہیں رکھتا۔

مکمل ریکارڈنگ سے حقیقت واضح ہونے کا دعویٰ

قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مکمل اور غیر ترمیم شدہ آڈیو ویژول ریکارڈنگ سے واقعے کی اصل ترتیب واضح ہوتی ہے۔ وکلا کے مطابق ریکارڈنگ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قومی ترانے کا دوبارہ بجنا غیر ارادی تھا اور آڈیو آپریٹر نے اسے فوری طور پر روک دیا تھا۔

پوسٹس حذف کرنے اور وضاحت کا مطالبہ

قانونی نوٹس کے ذریعے امیت مالویہ اور اشوک شریواستو سے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس فوری طور پر حذف کرنے، غیر مشروط معافی مانگنے، وضاحت اور تردید جاری کرنے اور مبینہ الزامات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ آئندہ اسی نوعیت کے یا ملتے جلتے الزامات دوبارہ عائد نہ کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

نوٹس میں متنازع مواد کی تیاری، ایڈیٹنگ اور اشاعت سے متعلق تمام الیکٹرانک ریکارڈ اور مواد محفوظ رکھنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے قانونی کارروائی کے دوران پیش کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ قانونی نوٹس میں عائد کیے گئے الزامات متعلقہ فریقین کے مؤقف ہیں، جن پر حتمی فیصلہ قانونی کارروائی یا عدالت کے ذریعے ہی ہوگا۔

Related posts

تسمیہ جونیئر ہائی اسکول کا 34 واں سالانہ جلسہ نہایت ہی شان وشوکت کے ساتھ منعقد 

Hamari Duniya News

رنگ صوفیانہ کے موقع پر عظیم الشان آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد

Hamari Duniya News

قرآن پر عمل کامیابی کی ضمانت، مدارس دین کی اساس: مولانا زبیر رحمانی

Hamari Duniya News