21.7 C
New York
اکتوبر 3, 2026
Sports کھیلTop News

ظہیر خان، آج تم بہت یاد آئے

محمد خان بلرام پوری

کرکٹ صرف رنز، وکٹوں اور اسکور بورڈ کا کھیل نہیں، یہ لمحات کو پہچاننے اور انہیں اپنے حق میں بدلنے کا فن بھی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب میچ آخری مرحلے میں پہنچتا، مخالف ٹیم جیت کے قریب دکھائی دیتی اور اچانک گیند ہاتھ میں لیے ایک بائیں ہاتھ کا فاسٹ باؤلر ہندوستان کے لیے امید بن کر سامنے آتا۔

نام تھا ظہیر خان۔

آج جب ہندوستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 351 رنز کا بڑا اسکور کھڑا کرنے کے باوجود پانچ وکٹوں سے شکست کھائی تو نہ جانے کیوں بار بار یہی خیال آیا—
ظہیر خان، آج تم بہت یاد آئے۔

ظہیر کی سب سے بڑی خوبی صرف رفتار یا سوئنگ نہیں تھی۔ وہ میچ کو پڑھنا جانتے تھے۔ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ کس وقت وکٹ کی ضرورت ہے، کس بلے باز کو کس گیند سے پریشان کیا جا سکتا ہے اور کب ایک یارکر، ایک اندر آتی ہوئی گیند یا معمولی سی رفتار میں تبدیلی پورے مقابلے کا نقشہ بدل سکتی ہے۔

2011 ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف بنگلورو کا مقابلہ آج بھی اس کی شاندار مثال ہے۔ ہندوستان نے 338 رنز بنائے تھے اور انگلینڈ کے کپتان اینڈریو اسٹراس 158 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو جیت کی طرف لے جا رہے تھے۔ اسٹراس اور ایان بیل نے تیسری وکٹ کے لیے 170 رنز کی شراکت قائم کر دی تھی۔ ہندوستان شدید دباؤ میں تھا۔

پھر ظہیر خان نے گیند سنبھالی اور چند ہی گیندوں میں منظر بدل دیا۔

انہوں نے ایان بیل اور اینڈریو اسٹراس کو مسلسل دو گیندوں پر آؤٹ کیا۔ اس کے بعد بھی ایک وکٹ حاصل کی۔ ظہیر نے صرف چھ گیندوں میں تین رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کرکے انگلینڈ کی مضبوط پوزیشن کو ہلا کر رکھ دیا۔ بی سی سی آئی کے مطابق ان کے اس اسپیل نے ہندوستان کو دوبارہ مقابلے میں واپس لا کھڑا کیا تھا۔ ایسے بے شمار میچ ہیں جس کا رخ ظہیر خان نے اپنے دم پرموڑ دیا تھا۔

جب میچ ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہوتا، وہ میچ میں واپس آنے کا راستہ نکالتے تھے۔ ان کی گیند میں صرف سوئنگ نہیں تھا، اس میں اعتماد تھا۔ وہ بڑے بلے بازوں کے خلاف بڑے مواقع پر گیند کرنے سے گھبراتے نہیں تھے۔ آخری اووروں میں جب چند رنز ہی میچ کا فیصلہ کرنے والے ہوتے، تو ظہیر کے یارکر اور درست لائن و لینتھ بلے باز کے لیے سب سے بڑا امتحان بن جاتے تھے۔

آج کے میچ میں ہندوستان نے 351 رنز بنائے۔ ایسا اسکور جس کے بعد شائقین کو یقین تھا کہ اب گیند باز اس مقابلے کو ہندوستان کی جھولی میں ڈال دیں گے۔ لیکن شائی ہوپ نے 162 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر ہندوستانی باؤلنگ کو بے بس کردیا اور ویسٹ انڈیز نے ہدف حاصل کر لیا۔

یہاں کسی ایک موجودہ گیند باز کو موردِ الزام ٹھہرانا شاید درست نہیں، مگر ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے:

اگر آج ظہیر خان جیسا تجربہ کار، دباؤ میں وکٹ نکالنے والا گیند باز ہوتا تو کیا میچ کے آخری مرحلے میں ہندوستان کے پاس کوئی ایسا ہتھیار ہوتا جو ہوپ کی طوفانی پیش قدمی روک سکتا؟

اس کا جواب صرف قیاس ہے، تاریخ نہیں۔ لیکن ظہیر خان کے کیریئر نے ہمیں بارہا دکھایا کہ وہ بڑے مواقع پر میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

2011 ورلڈ کپ کے فائنل میں بھی ان کا آغاز شاندار تھا۔ سری لنکا کے خلاف پہلے پانچ اووروں میں ظہیر نے صرف چھ رنز دیے اور اپل تھرنگا کی وکٹ حاصل کی۔ ورلڈ کپ میں وہ 21 وکٹوں کے ساتھ مشترکہ طور پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز رہے۔

یعنی ظہیر صرف پرانی یاد نہیں، ہندوستانی کرکٹ کے اس دور کی علامت تھے جب ایک بڑا میچ آخری مرحلے میں پہنچنے کے بعد بھی شائقین کو یقین رہتا تھا کہ گیند ہاتھ میں ہے تو امید ابھی زندہ ہے۔

آج ہندوستان کے پاس بہترین بلے باز ہیں، بڑے اسکور بنانے کی صلاحیت ہے، لیکن بعض شکستیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ کرکٹ ٹیم صرف رنز بنانے والوں سے نہیں بنتی۔ کبھی کبھی ٹیم کو ایسے گیند باز کی ضرورت ہوتی ہے جو مشکل وقت میں گیند لے کر کہے: "فکر مت کرو، ابھی میچ باقی ہے۔” اور ہندوستانی کرکٹ میں یہ جملہ سن کر جس چہرے کا خیال آتا ہے، وہ ہے—

 آج 351 رنز بنانے کے باوجود ہندوستان ہار گیا، اور شاید اسی لیے آج ظہیر خان بہت یاد آئے۔

Related posts

ساکیت میں دو خاتون صحافیوں سے مبینہ مارپیٹ پر عمران پرتاپ گڑھی برہم، پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Hamari Duniya News

انجمن ترقی اردو (دہلی) کے زیر اہتمام بہ اشتراک غالب انسٹی ٹیوٹ و غالب اکیڈمی، یوم غالب کا انعقاد

Hamari Duniya News

برکس سربراہ اجلاس: نئی دہلی میں گلوبل ساؤتھ کی آواز مضبوط، امن، تجارت اور عالمی نظام میں اصلاحات پر زور

Hamari Duniya News