تل ابیب، 07 اگست: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں مبینہ طور پر حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) کے منصوبے میں ناکامی کے بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے ادارے کے دو اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق برطرف کیے جانے والے افسران میں موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور ایران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں عہدیداروں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ کو چند ماہ قبل ہی اس منصب پر تعینات کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایران میں حکومت مخالف سرگرمیوں کو تقویت دینے، اپوزیشن گروپوں کی حمایت کرنے اور داخلی سیاسی تبدیلی کے امکانات پیدا کرنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ امریکا کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے میں ممکنہ فضائی عسکری تحفظ اور بعد از حکومت تبدیلی کے منظرنامے پر بھی غور کیا گیا تھا۔
چینل 12 نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ منصوبہ یا تو ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام ہو گیا یا پھر کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکا، جس کے بعد اسے ختم کر دیا گیا اور متعلقہ افسران کو اس کی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موساد کے سربراہ رومن گوفمین اور برطرف کیے گئے دونوں عہدیداروں کے درمیان تعلقات ابتدا ہی سے کشیدہ تھے، جبکہ یہ فیصلے موساد کی قیادت اور بالخصوص ایران سے متعلق پالیسی میں وسیع تبدیلیوں کے تناظر میں کیے گئے۔
اسرائیلی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ منصوبے میں ایران کی ممکنہ نئی سیاسی قیادت اور حکومت کی تبدیلی کے بعد کی صورتحال پر امریکی حکام کے ساتھ رابطہ کاری بھی شامل تھی، تاہم یہ کوشش آگے نہ بڑھ سکی۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس سے قبل بھی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی آسان ہدف نہیں اور اس کے کامیاب ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔
