31 C
New York
اگست 7, 2026
Regional News علاقائی خبریںTop News

فیروز پپو قتل کیس میں بڑا فیصلہ، سابق رکن پارلیمان رضوان ظہیر، بیٹی زیبہ اور داماد رمیز نعمت خان بری

بلرام پور، 7 اگست(محمد خان ہماری دنیا نیوز)۔

اترپردیش کے بلرام پور ضلع کے معروف فیروز احمد عرف پپو قتل کیس میں ایم پی-ایم ایل اے خصوصی عدالت نے جمعہ کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق رکن پارلیمان رضوان ظہیر، ان کی بیٹی زیبہ رضوان اور داماد رمیز نعمت خان کو قتل کی سازش کے الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ ان تینوں کے خلاف الزامات کو مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

یہ مقدمہ تلسی پور نگر پنچایت کے سابق چیئرمین فیروز احمد عرف پپو کے قتل سے متعلق ہے، جنہیں 4 جنوری 2022 کی رات تلسی پور-جروہ روڈ پر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے بعد علاقے میں سیاسی اور سماجی سطح پر زبردست ہلچل پیدا ہوگئی تھی۔

سیاسی رقابت کے پس منظر میں قتل کا الزام

پولیس کی تفتیش میں قتل کو مبینہ سیاسی رقابت سے جوڑا گیا تھا۔ پولیس کا الزام تھا کہ تلسی پور اسمبلی حلقے سے انتخابی ٹکٹ کی دعویداری کو لے کر فیروز پپو اور رضوان ظہیر کے درمیان سیاسی اختلافات تھے اور اسی پس منظر میں قتل کی سازش رچی گئی۔

دستیاب عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقتول فیروز پپو 2022 کے اسمبلی انتخابات میں تلسی پور سے انتخاب لڑنے اور سیاسی جماعت سے ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہش مند تھے۔ تفتیش میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ سیاسی مقبولیت اور ٹکٹ کی دعویداری کو لے کر تنازع پیدا ہوا تھا۔ تاہم مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کو ان الزامات کو عدالت کے سامنے شک سے بالاتر ثابت کرنا تھا۔

پانچ افراد کے خلاف درج ہوا تھا مقدمہ

قتل کے بعد پولیس نے سابق رکن پارلیمان رضوان ظہیر، ان کی بیٹی زیبہ رضوان اور داماد رمیض نعمت سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیجا تھا۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد پولیس نے ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی، جس کے بعد مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہوئی۔

2026 میں بھی اس مقدمے کی سماعت مسلسل جاری رہی۔ مارچ میں عدالت نے مقدمے کی سماعت کے لیے متعدد تاریخیں مقرر کیں، جبکہ اس وقت تک رضوان ظہیر، زیبہ رضوان اور رمیز نعمت کو ضمانت مل چکی تھی۔

جولائی میں مکمل ہوئی حتمی بحث

مقدمے میں استغاثہ اور دفاع کی جانب سے گواہوں کے بیانات، دستاویزی شواہد اور دیگر مواد عدالت کے سامنے پیش کیے گئے۔ 24 جولائی 2026 کو ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں دونوں فریقوں کی حتمی بحث مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور 7 اگست کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

جمعہ کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف قتل کی سازش کا الزام قانونی طور پر شک سے بالاتر ثابت نہیں ہوتا۔ اسی بنیاد پر رضوان ظہیر، زیبہ رضوان اور رمیز نعمت خان کو بری کر دیا گیا۔

ایف آئی آر میں شروع میں نامزد نہیں تھے رضوان ظہیر

اس مقدمے کی عدالتی کارروائی میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا تھا کہ ابتدائی ایف آئی آر میں رضوان ظہیر یا دیگر ملزمان کے نام براہ راست درج نہیں تھے۔ ایف آئی آر مقتول کے بھائی افروز احمد عرف رنکو کی شکایت پر درج ہوئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ 4 جنوری 2022 کی رات تقریباً 10 بج کر 20 منٹ پر فیروز پپو گھر واپس جا رہے تھے، اسی دوران ان پر حملہ کیا گیا۔

بعد کی تفتیش میں پولیس نے سیاسی رقابت اور مبینہ سازش کے زاویے کو سامنے رکھتے ہوئے رضوان ظہیر، ان کی بیٹی اور داماد سمیت دیگر افراد کو ملزم بنایا تھا۔

رضوان ظہیر کا سیاسی پس منظر

رضوان ظہیر تلسی پور اسمبلی حلقے سے تین مرتبہ رکن اسمبلی اور بلرام پور لوک سبھا حلقے سے دو مرتبہ رکن پارلیمان رہ چکے ہیں۔ ان کے سیاسی کیریئر کے دوران وہ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے۔ ان کی بیٹی زیبہ رضوان بھی تلسی پور اسمبلی حلقے سے انتخاب لڑ چکی ہیں۔

فیروز پپو قتل کیس میں گرفتاری کے بعد یہ معاملہ اترپردیش کی سیاست میں بھی خاصا زیر بحث رہا تھا۔ پولیس نے رضوان ظہیر کے خلاف گینگسٹر ایکٹ سمیت دیگر کارروائیاں بھی کی تھیں اور ان کی جائیداد ضبط کیے جانے کی کارروائی کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔

عدالت کے فیصلے سے تینوں کو بڑی راحت

ایم پی-ایم ایل اے عدالت کے تازہ فیصلے سے رضوان ظہیر، زیبہ رضوان اور رمیز نعمت خان کو اس قتل کیس میں بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ تاہم عدالت کا یہ فیصلہ اس مقدمے میں عائد الزامات کی تفتیش یا پولیس کے ابتدائی دعووں کی تصدیق نہیں بلکہ اس بات کا عدالتی فیصلہ ہے کہ پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر استغاثہ ان تینوں کے خلاف جرم کو مطلوبہ معیار پر ثابت نہیں کر سکا۔

قانونی طور پر اگر فریقِ استغاثہ یا شکایت کنندہ عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو دستیاب قانونی راستوں کے تحت اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا راستہ موجود رہتا ہے۔

چار سال سے زائد عرصے سے زیرِ سماعت یہ مقدمہ اب اپنے ایک اہم مرحلے میں پہنچ گیا ہے، جہاں ایم پی-ایم ایل اے عدالت کے فیصلے نے سابق رکن پارلیمان رضوان ظہیر اور ان کے خاندان کو قتل کی سازش کے مقدمے میں بڑی راحت فراہم کی ہے۔

Related posts

رنگ صوفیانہ کے موقع پر عظیم الشان آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد

Hamari Duniya News

حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے 456ویں عر س مبارک پرہوگا رنگ صوفیانہ

Hamari Duniya News

۔42 برس سے مال خانہ میں محفوظ غیر قانونی اسلحہ تلف، ’آپریشن کلین‘ کے تحت بڑی کارروائی

Hamari Duniya News