علی گڑھ، 6 نومبر(ہماری دنیا نیوز)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں آٹھ سال کے طویل وقفے کے بعد ہونے والے طلبہ یونین انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ انتخابی نتائج میں محمد نعمان اشرف نے صدر، نشرا نعیم نے نائب صدر اور محمد حمدان نے معزز سکریٹری کے عہدے پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان انتخابات میں سب سے زیادہ توجہ نشرا نعیم کی کامیابی پر مرکوز ہے، جنہوں نے یونیورسٹی کی تاریخ میں طلبہ یونین کے تین اہم عہدوں میں سے کسی ایک پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون بن کر تاریخ رقم کی ہے۔
5 نومبر کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد رات دیر گئے ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی اور 6 نومبر کی صبح نتائج سامنے آئے۔ تقریباً آٹھ سال بعد طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابی عمل کی تکمیل کو یونیورسٹی کی طلبہ سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر کے عہدے پر نعمان اشرف کی کامیابی، 7797 ووٹ حاصل کیے

صدر کے عہدے کے لیے سخت مقابلے میں محمد نعمان اشرف نے 7,797 ووٹ حاصل کرکے کامیابی درج کی۔ ان کے مقابلے میں محمد انتخاب کو 3,676 ووٹ ملے اور وہ دوسرے مقام پر رہے۔ اس طرح نعمان اشرف نے 4,121 ووٹوں کے بڑے فرق سے کامیابی حاصل کی۔
صدر کے عہدے کے لیے مجموعی طور پر نو امیدوار میدان میں تھے۔ دیگر امیدواروں میں شرجیل اقبال کو 1,807، محمد زہیر احمد کو 1,274، عبدالواحد کو 361، اسمر فریدی کو 345، آمنہ ارشاد کو 136، شرجیل محمد خان کو 33 اور ساحل خان کو 14 ووٹ ملے۔
نشرا نعیم پہلی خاتون نائب صدر منتخب
نائب صدر کے عہدے پر لا فیکلٹی کی طالبہ نشرا نعیم نے 7,091 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ ان کے مقابلے میں ثاقب علی خان کو 5,818 ووٹ ملے اور وہ دوسرے نمبر پر رہے۔
نشرا نعیم کی کامیابی اس اعتبار سے تاریخی ہے کہ وہ اے ایم یو طلبہ یونین کے صدر، نائب صدر اور معزز سکریٹری کے تینوں اہم عہدوں میں سے کسی ایک پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
ان کی کامیابی کو یونیورسٹی کی طلبہ سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نشرا نعیم نے اپنی کامیابی کو پوری طلبہ برادری کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک وژن کے ساتھ نئی لکیر کھینچی ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
نائب صدر کے انتخاب میں ثاقب علی خان کے علاوہ محمد سدان کو 1,525، ایمن حفیظ خان کو 603، عرفہ خان کو 196، سید ایان احمد کو 75 اور اشفاق حسین کو 69 ووٹ ملے۔
محمد حمدان معزز سکریٹری منتخب
معزز سکریٹری کے عہدے پر محمد حمدان نے 8,385 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ ان کے حریف احمد فراز راجی کو 6,882 ووٹ ملے، جبکہ محمد اویس کو 144 ووٹ حاصل ہوئے۔
اس طرح طلبہ یونین کے تینوں اہم عہدوں پر نئے نمائندوں کا انتخاب مکمل ہو گیا ہے۔
74.64 فیصد طلبہ نے حق رائے دہی کا استعمال کیا
اے ایم یو طلبہ یونین کے انتخابات میں طلبہ کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ یونیورسٹی میں مجموعی طور پر 20,742 طلبہ ووٹر درج تھے، جن میں سے 15,523 طلبہ نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس طرح ووٹنگ کا تناسب 74.64 فیصد رہا۔
5 نومبر کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ووٹنگ ہوئی۔ یونیورسٹی کی 13 فیکلٹیوں میں پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے، جبکہ طالبات کے لیے ویمنز کالج میں بھی ووٹنگ کا انتظام کیا گیا تھا۔
20 روزہ احتجاج اور بھوک ہڑتال کے بعد انتخابات کا انعقاد
قابل ذکر ہے کہ اے ایم یو میں آخری مرتبہ 2018 میں طلبہ یونین کے انتخابات ہوئے تھے۔ اس کے بعد تقریباً آٹھ سال تک انتخابی عمل معطل رہا۔ طلبہ مسلسل یونین کی بحالی اور انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔
اس سال 21 ستمبر سے طلبہ نے یونین کی بحالی اور انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے مطالبے پر احتجاج شروع کیا تھا۔ یہ احتجاج تقریباً 20 روز تک جاری رہا۔ اس دوران طالب علم یاسر فہد نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال بھی شروع کر دی تھی، جس کے بعد احتجاج میں مزید شدت آگئی۔
طلبہ کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے 9 اکتوبر کو انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ اسی دوران پروکٹر پروفیسر محمد نوید خان کی جگہ پروفیسر نفیس احمد انصاری کو نیا پروکٹر مقرر کیا گیا۔ انتظامیہ کے اس فیصلے کے بعد طلبہ نے اپنا احتجاج ختم کیا اور یاسر فہد نے بھی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد 29 اکتوبر کو امیدواروں نے نامزدگی داخل کی اور انتخابی مہم شروع کی۔ 3 نومبر کو امیدواروں کے درمیان آخری تقریری مقابلہ بھی منعقد ہوا، جس میں انہوں نے اپنے منشور اور طلبہ سے متعلق مسائل پر اپنے خیالات پیش کیے۔
طلبہ یونین سے نئی امیدیں وابستہ
آٹھ سال بعد منتخب ہونے والی نئی طلبہ یونین سے طلبہ کو تعلیمی، انتظامی اور بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل کے حل کی امید ہے۔ طلبہ کے اہم مسائل میں تعلیمی سہولیات کی بہتری، فیس سے متعلق معاملات، ریسرچ اسکالرز کے مسائل، روزگار کے مواقع، خواتین کی سلامتی اور یونیورسٹی کے مختلف مراکز میں زیر تعلیم طلبہ کے مسائل شامل ہیں۔
نئی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج طلبہ کے ان مطالبات کو یونیورسٹی انتظامیہ تک مؤثر انداز میں پہنچانا اور انتخابی وعدوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کرنا ہوگا۔
آٹھ سال بعد انتخابات کے انعقاد اور نئی قیادت کے انتخاب سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ سیاست کا ایک نیا دور شروع ہونے کی توقع ہے۔
