نومبر 2, 2026
National قومی خبریںTop News

اعظم خان کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں جیل بھیجا گیا، غازی آباد کی خصوصی عدالت کا حکم، ڈاسنا جیل میں رہیں گے ایس پی لیڈر

غازی آباد، یکم نومبر (ایچ ڈی نیوز): سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر لیڈر اور اترپردیش کے سابق کابینی وزیر اعظم خان کو غازی آباد کی خصوصی پی ایم ایل اے عدالت نے 14 دنوں کی عدالتی حراست میں جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد انہیں غازی آباد کی ڈاسنا جیل میں رکھا جائے گا۔ اس سے قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اعظم خان کو عدالت میں پیش کرکے پوچھ گچھ کے لیے 14 دنوں کی تحویل (کسٹڈی ریمانڈ) کی درخواست دی تھی، تاہم عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیجنے کا فیصلہ سنایا۔

اعظم خان کو اتوار کو سخت سکیورٹی کے درمیان غازی آباد کی خصوصی پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں ای ڈی نے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی اور اس سے وابستہ جوہر ٹرسٹ کی فنڈنگ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ سے متعلق اپنی دلیلیں پیش کیں۔ تحقیقاتی ایجنسی نے اس معاملے میں رقم کے لین دین اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے اعظم خان سے تفصیلی پوچھ گچھ کی ضرورت بتاتے ہوئے 14 دنوں کی تحویل مانگی تھی۔

جیل سے رہائی کے فوراً بعد ای ڈی نے کیا تھا گرفتار

واضح رہے کہ دو پین کارڈ معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت اور سزا معطل ہونے کے بعد اعظم خان ہفتہ کی شام رامپور جیل سے رہا ہوئے تھے۔ تاہم جیل سے باہر آتے ہی ای ڈی کی ٹیم نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ ای ڈی کی یہ کارروائی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور جوہر یونیورسٹی سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔

صحافیوں کے سوال پر اعظم خان کا درد چھلکا

اتوار کو عدالت میں پیشی کے دوران جب صحافیوں نے اعظم خان سے پوچھا کہ کیا وہ اس معاملے پر کچھ کہنا چاہیں گے تو انہوں نے مایوسی اور بے بسی کے انداز میں کہا، ’’اب کیا ہے، بولنے کے لیے۔‘‘ ان کے اس مختصر جواب نے عدالت احاطے میں موجود لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔

ڈاسنا جیل میں رہیں گے اعظم خان

عدالت کے 14 دنوں کی عدالتی حراست کے حکم کے بعد اعظم خان کو غازی آباد کی ڈاسنا جیل بھیج دیا گیا ہے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق ای ڈی آئندہ ایک دو دنوں میں دوبارہ عدالت سے اعظم خان کی پولیس تحویل (پی سی ریمانڈ) حاصل کرنے کی درخواست دے سکتی ہے، تاکہ انہیں لکھنؤ لے جا کر پوچھ گچھ کی جا سکے۔ 

اس معاملے پر سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو پہلے ہی سخت ردعمل ظاہر کر چکے ہیں۔ انہوں نے حکمراں جماعت پر سیاسی انتقام کے جذبے سے کارروائی کرنے کا الزام لگایا ہے۔

Related posts

اقتدار کے ایوانوں سے انصاف کی آواز خاموش، اجیت پوار کی ناگہانی رخصت ایک قومی خسارہ:سید جلال الدین

Hamari Duniya News

 ٹرمپ کے ’ غزہ بورڈ آف پیس‘ میں سعودی عرب اور قطر کی شمولیت کا اعلان

Hamari Duniya News

 جیو آروگیہ اے آئی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی  کلینک  ماڈل پیش کیا

Hamari Duniya News