نئی دہلی،27 اکتوبر ( ہماری دنیا نیوز)۔ دہلی میں یکم نومبر کو انڈیا اتحاد کی مجوزہ مہاریلی سے پہلے کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’عوامی مواخذے‘ کے نام سے ایک پروگرام منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن کانگریس کے مطابق دہلی پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے دعویٰ کیا کہ یہ پروگرام 30 اکتوبر کو منعقد ہونا تھا، تاہم اشوکا ہوٹل اور بعد میں رام لیلا میدان میں بھی اس کے انعقاد کی اجازت نہیں ملی۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ اسے رام لیلا میدان میں 25 اکتوبر سے 3 نومبر تک پروگرام منعقد کرنے کی اجازت حاصل تھی، اس کے باوجود 30 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مجوزہ پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس معاملے میں دہلی پولیس کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
امت شاہ یا وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر بھی پروگرام کر سکتے ہیں: وینوگوپال
پروگرام کے لیے متبادل مقام کے سوال پر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس جانتی ہے کہ اسے یہ پروگرام کس طرح منعقد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی وزیر داخلہ امت شاہ یا وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر بھی ایسا پروگرام کر سکتی ہے۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کی مہاریلی
کانگریس یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ کے نعرے کے ساتھ انڈیا اتحاد کی مہاریلی منعقد کرنے جا رہی ہے۔ پارٹی انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision — SIR) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر مہم چلا رہی ہے۔
کانگریس کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ناموں کو حذف کرنے اور انتخابی عمل میں شفافیت سے متعلق کئی سوالات ہیں۔ پارٹی ان معاملات کو قومی سطح سے لے کر بوتھ سطح تک اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
26 اکتوبر سے 26 نومبر تک جاری رہے گی مہم
آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کے جنرل سکریٹری اویناش پانڈے نے پیر کو کہا کہ یکم نومبر کی مہاریلی کے بعد بھی یہ مہم جاری رہے گی۔ ان کے مطابق 26 اکتوبر سے 26 نومبر تک مختلف مراحل میں مہم چلائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس قومی سطح سے لے کر بوتھ سطح تک انتخابی عمل میں شفافیت کے معاملے کو اٹھائے گی اور عوام تک اپنا پیغام پہنچائے گی۔
اویناش پانڈے کے مطابق کانگریس چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ان کے مبینہ غیر آئینی اقدامات کی مقررہ مدت میں جانچ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا مطالبہ بھی اٹھا رہی ہے۔
کھڑگے کے بیان پر کانگریس کا موقف
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق بیان پر پیدا ہونے والے تنازع پر اویناش پانڈے نے کہا کہ ان کے بیان کے پس منظر اور اس کے مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پانڈے نے دعویٰ کیا کہ کھڑگے نے اپنے بیان کے ذریعے ملک کے لوگوں کے غصے اور ان کے جذبات کی ترجمانی کی تھی۔
کانگریس کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پارٹی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، انتخابی عمل میں شفافیت اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار کو لے کر اپنی مہم تیز کر رہی ہے۔ یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ہونے والی انڈیا اتحاد کی مہاریلی کو بھی اسی مہم کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
