4.9 C
New York
اکتوبر 25, 2026
National قومی خبریںTop News

’’مودی کو جیل بھیجیں گے، مودی کا باپ بھی جیل جائے گا‘‘، کھڑگے کے بیان پر پٹنہ میں ہنگامہ

ووٹ چوری کے الزامات اور وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کی بات پر کانگریس صدر برہم، مجمع سے آواز آنے پر دیا متنازع بیان؛ بی جے پی نے کی مذمت

پٹنہ، 25 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز)۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتوار کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک تقریب کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں متنازع بیان دے دیا، جس کے بعد ہنگامہ برپا ہوگیا۔ کھڑگے ڈاکٹر سری کرشن سنگھ کے یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذمہ دار لوگوں کو جیل بھیجا جائے گا۔ اسی دوران مجمع سے ایک شخص کی آواز آئی کہ مودی کہیں نہیں جائیں گے، جس پر کھڑگے نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’مودی کا باپ بھی جائے گا۔‘‘ اس جملے کے بعد تقریب میں ہنگامہ ہوگیا۔ 

کھڑگے کو غصہ کیوں آیا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق کھڑگے اپنے خطاب میں الزام لگا رہے تھے کہ مختلف ریاستوں میں انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے ذریعے حکومتیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ انتخابی عمل میں مبینہ گڑبڑیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی تناظر میں وہ وزیر اعظم مودی کو جیل بھیجنے سے متعلق بات کر رہے تھے کہ مجمع سے ایک شخص نے مداخلت کی۔ اس کی آواز کو مودی کے اقتدار سے نہ ہٹنے کے بیان کے طور پر لیا گیا، جس پر کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ 

مجمع میں مداخلت کرنے والے شخص نے کیا کہا؟

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، تقریب سے باہر نکالے جانے کے بعد مذکورہ شخص سنتوش کمار نے دعویٰ کیا کہ اس کی بات کو غلط سمجھا گیا۔ اس کے مطابق وہ کہنا چاہتا تھا کہ بغاوت کے بغیر مودی نہیں جائیں گے، لیکن اس کے جملے کا صرف ایک حصہ سنا گیا۔ واقعے کے دوران اس شخص کے ساتھ دھکا مکی اور مارپیٹ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ 

بی جے پی نے کھڑگے کے بیان کی مذمت کی

کھڑگے کے بیان پر بی جے پی نے سخت اعتراض کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے اسے وزیر اعظم اور ان کے مرحوم والد کی توہین قرار دیا۔ دوسری جانب کانگریس کی طرف سے اس بیان کا دفاع کرتے ہوئے اسے محاوراتی اندازِ گفتگو قرار دیا گیا۔ اس طرح انتخابی شفافیت کے معاملے پر شروع ہونے والی بحث نے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرلی۔ 

واضح رہے کہ کھڑگے نے اپنی تقریر میں کالے دھن کی واپسی، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے اور ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کے وعدوں پر بھی مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک اور سماجی مساوات کے مسائل کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوری حقوق اور سماجی انصاف کا تحفظ ضروری ہے۔

Related posts

دہلی میں ‘غیر اعلانیہ ایمرجنسی’ : سپریم کورٹ کی مرکزی حکومت کی سخت سرزنش، سڑکوں سے بیریکیڈنگ ہٹانے اور عوامی آمدورفت آسان بنانے پر زور

Hamari Duniya News

کینیڈا میں اسکول میں فائرنگ، حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک، 25 زخمی ہوگئے

Hamari Duniya News

رمضان میں شوگر کے مریضوں کے لیے صحت کی مکمل گائیڈ

Hamari Duniya News