23.2 C
New York
اکتوبر 8, 2026
National قومی خبریںTop News

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے گرد گھیرا تنگ، دہلی، پٹنہ اور بنگلور سمیت ملک بھر میں مظاہرے

ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) پر اپوزیشن کا احتجاج تیز، استعفیٰ کا مطالبہ، دہلی میں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، پٹنہ میں تیجسوی یادو بھی پولیس کی کارروائی کا سامنا

نئی دہلی، 8 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز)۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اور مختلف شہری و طلبہ تنظیموں کا احتجاج اب ملک کے کئی شہروں تک پھیل گیا ہے۔ دہلی میں راہل گاندھی سمیت انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ نے احتجاج کیا، بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں تیجسوی یادو کی قیادت میں مہاگٹھ بندھن نے مارچ نکالا، جبکہ بنگلورو میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے ’جنَتا نیائے آلیہ‘ کے عنوان سے احتجاج کیا۔ مظاہرین کی بنیادی شکایت انتخابی فہرستوں کی Special Intensive Revision (SIR) اور اس عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔

دہلی میں راہل گاندھی کا احتجاج

دہلی میں احتجاج کے تیسرے روز کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے راج گھاٹ کا رخ کیا۔ اس سے قبل کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپوزیشن ارکان کے لیے کنّوٹ پلیس میں لنچ کا اہتمام کیا، جس کے بعد ارکان پارلیمنٹ راج گھاٹ پہنچے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ تقریباً 300 ارکان پارلیمنٹ پرامن احتجاج کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں مسلسل روکا گیا۔

اس سے ایک روز قبل بھی راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو جَنتر منتر کی جانب مارچ کے دوران پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، جبکہ دہلی پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔

راہل گاندھی نے احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے گیانیش کمار کے استعفیٰ تک جدوجہد جاری رکھنے کی بات کہی۔ اپوزیشن جماعتیں SIR کے عمل اور ووٹر لسٹوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر رہی ہیں۔

پٹنہ میں تیجسوی یادو کی قیادت میں مارچ

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بھی مہاگٹھ بندھن نے SIR اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف راج بھون مارچ نکالا۔ مارچ میں آر جے ڈی، کانگریس، وی آئی پی، بائیں بازو کی جماعتوں سمیت مختلف اپوزیشن گروپوں کے رہنما اور کارکن شریک ہوئے۔

اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی قیادت میں مارچ آگے بڑھا تو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر مظاہرین کو روک دیا۔ بعض مقامات پر رہنماؤں اور پولیس کے درمیان دھکم پیل کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔ تیجسوی یادو اور وی آئی پی کے سربراہ مکیش سہنی سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق مظاہرین ریاستی گورنر سے ملاقات کرکے SIR، ووٹر لسٹ اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے مطالبات پر مشتمل میمورنڈم پیش کرنا چاہتے تھے، تاہم مارچ کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔

کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں Cockroach Janta Party (CJP) نے فریڈم پارک میں احتجاج کیا۔ احتجاج میں CJP کے بانی ابھجیت دیپکے کے ساتھ اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج اور یوٹیوبر دھروو راٹھی بھی شریک ہوئے۔

مظاہرین نے ایس آئی آر کے عمل پر اعتراض کرتے ہوئے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔  دھروو راٹھی نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں اقتدار کی تبدیلی کے لیے نہیں آئے بلکہ عوامی مسئلے کو اٹھانے کے لیے شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن میں شفافیت اور جواب دہی کی کمی کا الزام بھی عائد کیا۔ یہ ان کے بیانات ہیں؛ الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

احتجاج کئی ریاستوں تک پھیلا

دہلی، بہار اور کرناٹک کے علاوہ تلنگانہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں دیکھنے کو ملیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت ضروری ہے اور کسی بھی اہل ووٹر کا نام فہرست سے حذف نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے اپوزیشن کے الزامات کی تردید کی ہے۔

یوں گیانیش کمار اور SIR کا معاملہ اب محض پارلیمانی یا سیاسی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف ریاستوں میں احتجاج اور سڑکوں پر سیاسی سرگرمیوں کا موضوع بن چکا ہے۔ دہلی میں راہل گاندھی، پٹنہ میں تیجسوی یادو اور بنگلورو میں CJP کے احتجاج نے اس معاملے کو ملک گیر سطح پر مزید نمایاں کردیا ہے۔

Related posts

دلاسہ تو سب نے دیا مگر کام جمعیۃ علماء ہند نے کیا،  گھر کی چابیاں وصول کرنے کے بعد جموں و کشمیر کے سیلاب متاثرین نے کہا کہ شکریہ

Hamari Duniya News

2027 میں مایاوتی کو پانچویں بار وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے کام کریں گے: بھارتیہ مسلم منچ کا اعلان

Hamari Duniya News

چار عدالتوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، خوف و ہراس

Hamari Duniya News