16.8 C
New York
اکتوبر 6, 2026
National قومی خبریںTop News

آکاش وانی بھون میں چار گھنٹوں سے دھرنے پر بیٹھے ہیں راہل گاندھی، گیانیش کمار سے ملنے پر بضد، اپوزیشن کا احتجاج میں شدت 

نئی دہلی، 6 اکتوبر: الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج منگل کو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر اپوزیشن رہنما آکاش وانی بھون کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، کے سی وینو گوپال سمیت تمام اپوزیشن لیڈر آکاش وانی کے راستے الیکشن کمیشن کے دفتر جانا چاہتے تھے جہاں سے الیکشن کمیشن کا دفتر 270 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔لیکن پولیس انتظامیہ نے ان کو آکاش وانی دفتر میں روک دیا جس کے بعد راہل گاندھی اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ وہیں دھرنے بیٹھ گئے۔ وہ گزشتہ چار گھنٹے سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ تینوں الیکشن کمشنروں سے ملنا چاہتے ہیں اور بغیر ملے یہاں سے جانے والے نہیں ہیں۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر نرواچن سدن تک مارچ شروع کیا تھا، تاہم پولیس نے انہیں آکاش وانی بھون کے قریب روک دیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی سمیت کئی رہنما سڑک پر بیٹھ گئے۔ پولیس نے متعدد اپوزیشن ارکان کو حراست میں بھی لیا۔

احتجاج کے دوران راہل گاندھی پولیس بیریکیڈ پر چڑھے اور ہاتھ میں ترنگا لہراتے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب بہت ہو چکا ہے، استعفیٰ دینے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں میں ووٹروں کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن اس کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ یہ لڑائی کسی ایک سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ ہندوستان کے ووٹروں اور جمہوریت کو بچانے کی لڑائی ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹوں سے متعلق اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینا چاہیے اور انتخابی عمل میں مکمل شفافیت یقینی بنانی چاہیے۔

احتجاج میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو، ابھیشیک بنرجی، ڈیرک اوبرائن سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔ اپوزیشن نے SIR (خصوصی نظرثانی) کے عمل کو واپس لینے، ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

آکاش وانی بھون میں راہل گاندھی اور دیگر رہنماؤں کے دھرنے کے باعث سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ پولیس نے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں اور ووٹر کے حقوق کا معاملہ عوام کے درمیان لے جایا جائے گا اور احتجاج کو مزید وسیع کیا جائے گا۔

Related posts

16 اضلاع کے 60 اساتذہ نے سائنس و ریاضی ورکشاپ میں لیا حصہ

Hamari Duniya News

پانی پت روڈ پر نالے اوور فلو، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

Hamari Duniya News

کیرانہ میں ہولی اور رمضان کے پیش نظر بازاروں میں بے ہنگم بھیڑ، شہریوں کو شدید دشواری

Hamari Duniya News