21.6 C
New York
اکتوبر 9, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج سے پہلے دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات، 57 میٹرو اسٹیشنوں کے گیٹ بند کرنے کی تیاری، کئی ٹرینیں منسوخ، پولس نے نہیں دی احتجاج کی اجازت

نئی دہلی، 9 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز)۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کے مجوزہ احتجاج کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ احتجاج 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے حالانکہ دہلی پولس نے مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے میٹرو، ریلوے، سڑکوں اور حساس مقامات پر نگرانی بڑھا دی ہے۔

حکام کے مطابق، دہلی پولیس نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) سے کہا ہے کہ 9 اکتوبر کی رات 9 بجے سے 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلے اور باہر نکلنے کے گیٹ بند کرنے اور ان اسٹیشنوں سے گزرنے والی میٹرو ٹرینوں کی تعداد یا آمدورفت کی رفتار کم کرنے پر غور کیا جائے۔ یہ اقدامات 10 اکتوبر کو حالات معمول پر آنے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ تاہم، دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ پولیس کی جانب سے دی گئی ہدایت اور مجوزہ انتظام ہے، اسے تمام 57 اسٹیشنوں کی مکمل بندش کے حتمی اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ 

57 میٹرو اسٹیشنوں پر پابندی کا امکان

پولیس کی فہرست میں نئی دہلی اور وسطی دہلی کے علاوہ شمالی، جنوبی اور مشرقی دہلی کے کئی اسٹیشن شامل ہیں۔ ان میں جن پتھ، پٹیل چوک، سینٹرل سکریٹریٹ، لوک کلیان مارگ، راجیو چوک، نئی دہلی، سیوا تیرتھ (اُدیوگ بھون)، منڈی ہاؤس، بارہ کھمبا روڈ، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، خان مارکیٹ، آر کے آشرم مارگ، جھانڈے والان، سپریم کورٹ، اندرا پرستھ، شیواجی اسٹیڈیم، آئی این اے، حوض خاص، جور باغ، ارجن گڑھ، سرائے کالے خان نظام الدین، لاجپت نگر، جنگ پورہ، آشرم، کالندی کنج، جسولا، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اوکھلا وہار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ چاوڑی بازار، جامع مسجد، قرول باغ، راجندر پلیس، وشو ودیالیہ، ودھان سبھا، سول لائنز، کشمیری گیٹ، اندرلوک، جی ٹی بی نگر، کنہیا نگر، نیتاجی سبھاش پلیس، آزادپور، آدرش نگر، جہانگیر پوری، حیدرپور بادلی موڑ، مجلس پارک، شالیمار باغ، سیلم پور، موج پور، جعفرآباد، ویلکم، یمنا وہار،کھجوری خاص، شاہدرہ، رٹھالا، روہنی ایسٹ اور روہنی ویسٹ بھی فہرست میں شامل ہیں۔

مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے دہلی میٹرو کی تازہ سرکاری اطلاع ضرور دیکھیں، کیونکہ گیٹ بند ہونے یا ٹرینوں کی تعداد کم کیے جانے سے سفر کے معمولات متاثر ہو سکتے ہیں۔

نئی دہلی اور حضرت نظام الدین آنے والی میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ

ریلوے نے 10 اکتوبر کو صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشن پہنچنے والی میل اور ایکسپریس ٹرینوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کے مطابق، وہ ٹرینیں جو 9 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے کے بعد اپنے ابتدائی اسٹیشن سے روانہ ہوں گی اور اگلے دن مقررہ مدت کے دوران ان دونوں اسٹیشنوں پر پہنچنے والی تھیں، اپنے ابتدائی اسٹیشن ہی سے منسوخ کی جائیں گی۔

ریلوے حکام نے یہ فیصلہ دونوں اسٹیشنوں کے اطراف سڑکوں پر شدید ٹریفک جام کے خدشے کے پیش نظر کیا ہے۔ دستیاب رپورٹوں میں منسوخ ہونے والی ٹرینوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی گئی ہے، اس لیے کسی مخصوص تعداد کا دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا۔ مسافروں کو روانگی سے پہلے اپنی ٹرین کا اسٹیٹس چیک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 

23 ہزار مرکزی فورس اہلکار تعینات کرنے کا انتظام

دہلی میں احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مرکزی مسلح پولیس فورسز کی 221 کمپنیاں، یعنی تقریباً 23 ہزار اہلکار، دہلی پولیس کی مدد کے لیے دستیاب کرائے گئے ہیں۔ یہ فورسز 8 سے 12 اکتوبر تک تعیناتی کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ ان میں خواتین اہلکاروں کی پانچ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

پولیس نے جنتر منتر اور پارلیمنٹ سمیت حساس علاقوں کی جانب جانے والی سڑکوں پر کئی سطحوں پر بیریکیڈنگ کی ہے۔ شہر کے داخلی راستوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر اہم مقامات پر نگرانی بڑھائی گئی ہے۔ پولیس کے انٹیلی جنس یونٹ کو خدشہ ہے کہ دہلی اور آس پاس کی ریاستوں سے 50 ہزار سے زیادہ افراد دارالحکومت پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ پولیس کا اندازہ ہے، احتجاج میں شریک ہونے والوں کی تصدیق شدہ تعداد نہیں۔ 

دفعہ 163 نافذ، احتجاج کی اجازت نہیں

دہلی پولیس نے کہا ہے کہ مجوزہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی، کیونکہ پولیس کے مطابق اطلاع دیر سے دی گئی تھی اور دارالحکومت میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت پابندیاں نافذ ہیں۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجتماع کرنے پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

پولیس اہلکار بازاروں کی انجمنوں، رہائشی فلاحی تنظیموں اور امن کمیٹیوں سے بھی رابطہ کر رہے ہیں۔ ہوٹلوں میں آخری وقت کی بکنگ اور ریلوے اسٹیشنوں پر آنے والے گروپوں کی نگرانی کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ مظاہرے کے دوران ممکنہ طور پر حراست میں لیے جانے والے افراد کو رکھنے کے لیے تقریباً 10 عارضی حراستی مراکز تیار کرنے کی بھی رپورٹ ہے۔ 

ٹیکسی خدمات اور شراب کی دکانوں پر بھی پابندیاں

سکیورٹی انتظامات کے تحت ایپ پر مبنی ٹیکسی خدمات پر بھی بعض علاقوں میں پابندیاں عائد کرنے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی میں 9 اور 10 اکتوبر کو تمام خوردہ شراب کی دکانیں بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم، دستیاب رپورٹ کے مطابق لائسنس یافتہ ریستوران، بار اور کلب معمول کے مطابق کھلے رہ سکتے ہیں۔ دیگر تمام کاروباری یا عوامی خدمات کی مکمل بندش کا کوئی عمومی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ 

کاکروچ جنتا پارٹی اور اس سے وابستہ تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر اعتراض کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرین کے الزامات اور مطالبات ہیں، انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے پیش نظر 10 اکتوبر کو نئی دہلی، جنتر منتر اور دونوں بڑے ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف سفر کرنے والوں کو خاص احتیاط برتنے، اضافی وقت لے کر نکلنے اور میٹرو و ٹرین کی تازہ معلومات حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

Related posts

 اے ایم پی کی دو روزہ انٹرنیشنل زکوٰۃ کانفرنس 2026 اجتماعی، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی زکوٰۃ نظام کے مطالبے کے ساتھ اختتام پذیر

Hamari Duniya News

تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد

Hamari Duniya News

نوجوانوں کی عالمی قیادت کو نیا پلیٹ فارم، مسک فاؤنڈیشن اور اقوام متحدہ کا ’گلوبل یوتھ نیٹ ورک‘ قائم

Hamari Duniya News