20.9 C
New York
ستمبر 9, 2026
National قومی خبریںTop News

سہارنپور کلکٹریٹ مسجد کا انہدام قانون و انصاف کے تقاضوں پر سوالیہ نشان، جمعیۃ علماء ہند کا مرکزی وفد سہارنپور پہنچا

سہارنپور، 8 ستمبر: سہارنپور کی تاریخی کلکٹریٹ مسجد کے انہدام کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کا اعلیٰ سطحی مرکزی وفد ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں سہارنپور پہنچا۔ وفد نے شہر کے ذمہ داران، قانونی ماہرین، سیاسی شخصیات اور مسجد کے معاملے سے وابستہ افراد سے ملاقات کرکے موجودہ صورتِ حال اور آئندہ کی قانونی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی خصوصی ہدایت پر وفد نے مسجد کے انہدام سے پیدا ہونے والے قانونی اور سماجی مسائل کا جائزہ لیا۔ وفد نے سابق رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن، موجودہ رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، اراضی سے وابستہ مرحوم یعقوب خان کے پوتے فیروز خان، شاہ ہارون خان، ایڈووکیٹ نوشاد اور مقدمے کے فریق ایڈووکیٹ تنویر سمیت دیگر افراد سے ملاقات کی۔

قانونی ریکارڈ پر اٹھائے گئے سوالات

مرکزی وفد کے مطابق ملاقاتوں کے دوران یہ معاملہ سامنے آیا کہ جس دستاویز کی بنیاد پر فیصلہ سنائے جانے کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ عدالتی ریکارڈ میں موجود نہیں تھی اور نہ ہی اسے باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا تھا۔ وفد کے مطابق ’قیصرِ ہند‘ یا ’سرکارِ ہند‘ کے عنوان سے پیش کیے جانے والے حوالہ کا متنازعہ زمین کی ملکیت سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق دوسری کھتونی سے بتایا گیا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کا کہنا ہے کہ ان نکات کی مکمل قانونی جانچ ضروری ہے اور اگر دستیاب دستاویزات سے یہ دعوے ثابت ہوتے ہیں تو معاملے میں قانونی طریقۂ کار اور اراضی ریکارڈ سے متعلق اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری

وفد نے وکلا کے ساتھ خصوصی نشست بھی کی، جس میں ریونیو ریکارڈ، مسجد سے متعلق تاریخی دستاویزات، زمین کی ملکیت کے دعووں اور اب تک ہونے والی عدالتی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے مطابق تمام اہم دستاویزات اور شواہد یکجا کیے جا رہے ہیں اور مناسب قانونی ریلیف کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی دستاویزات اور شواہد جمع کر لیے گئے ہیں، جنہیں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ان کی رہنمائی اور مشاورت کے بعد آئندہ کا قانونی قدم اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے مسجد کے انہدام کے طریقۂ کار اور کارروائی میں مبینہ عجلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی متاثرہ فریق کو اپنے دفاع اور آئینی حقوق کے استعمال کا مناسب موقع دیے بغیر اچانک انہدام کی کارروائی قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔

’’انصاف کے ہر قانونی دروازے پر دستک دیں گے‘‘

مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ عدالت سے رجوع کا حق محض رسمی رعایت نہیں بلکہ آئینی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔ ان کے مطابق انتظامی کارروائی اس انداز میں نہیں ہونی چاہیے کہ متاثرہ فریق کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کا راستہ عملاً بند ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ سہارنپور کا واقعہ محض کسی ایک مذہب یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، آئینی حقوق اور عدل و انصاف کے بنیادی اصولوں سے متعلق معاملہ ہے۔ جمعیۃ علماء ہند آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس معاملے میں اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند انصاف کے ہر دستیاب قانونی دروازے پر دستک دے گی اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ فریق کو قانونی معاونت فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور عبادت گاہوں سمیت ہر شہری کے حقوق کا تحفظ جمہوری نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ہندو مسلم اتحاد پر زور

مولانا حکیم الدین قاسمی نے سہارنپور کے عوام کی جانب سے امن و امان اور باہمی رواداری برقرار رکھنے کو قابلِ ستائش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود شہر کے باشعور عوام نے تاریخی بھائی چارے اور گنگا جمنی تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر ہندو اور مسلمان دونوں ہی غمزدہ ہیں اور عوام کا اتحاد فرقہ وارانہ کشیدگی اور تعصب کے خلاف مضبوط پیغام ہے۔

مرکزی وفد میں مولانا محمد قاسم نوری، مولانا علی حسن مظاہری، مولانا عظیم اللہ صدیقی، مولانا محمد یوسف قاسمی اور حافظ ابوبکر ابن مولانا حکیم الدین قاسمی بھی شامل تھے۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور کے صدر مولانا گلفام مظاہری، جنرل سکریٹری مولانا سرتاج احمد قاسمی، نائب صدر مولانا شمشیر قاسمی، صدر شہر یونٹ مولانا اطہر حقانی، مولانا فرید مظاہری، مولانا حارث، قاری شوقین الحسنی، مولانا عبداللہ شاہ، مولانا عبدالعلیم اور مولانا الطاف رشیدی سمیت متعدد مقامی ذمہ داران اور عمائدین موجود رہے۔

Related posts

ایران کی حمایت میں میدان میں کود پڑا متحدہ عرب امارات

Hamari Duniya News

محمد سلیم دہلوی کی لوکسبھا سیکریٹریٹ میں انڈرسکریٹری کے عہدے پر تقرری ہونے پر استقبالیہ تقریب کا انعقاد

Hamari Duniya News

رمضان المبارک کے پہلے جمعہ پر روح پرور اجتماعات، فضائلِ صوم و عبادات پر مؤثر بیانات

Hamari Duniya News