ستمبر 5, 2026
National قومی خبریںTop News

سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع قدیم مسجد کا انہدام انتہائی افسوسناک: مولانا ارشد مدنی

مولانا سید ارشد مدنی

نئی دہلی، 5 ستمبر(ہماری دنیا نیوز)۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع ایک قدیم مسجد کو صبح تقریباً پانچ بجے منہدم کیے جانے پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واقعے نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ملک میں آئین اور قانون کا اطلاق ہر شہری اور ہر مذہب کے لیے یکساں ہے؟

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر آئین تمام شہریوں کو مساوات، مذہبی آزادی اور قانون کے یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے تو پھر اس کے عملی نفاذ میں دوہرا معیار کیوں نظر آتا ہے؟ ان کے مطابق سہارنپور کا واقعہ محض ایک مسجد سے متعلق معاملہ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور ریاست کی غیر جانب داری سے جڑا ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے۔

’’کارروائی قانون کے مطابق اور سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے‘‘

مولانا مدنی نے کہا کہ 1991 کا عبادت گاہوں سے متعلق قانون (Places of Worship Act) اب بھی نافذ ہے۔ ان کے بقول انتظامیہ کی کارروائی پر اس قانون کی روشنی میں بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے نئے وقف قانون میں موجود وقف بائی یوزر کی شق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ مسجد وقف بورڈ میں 451 نمبر سے رجسٹرڈ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زمین شروع سے ہی یعقوب خان اور وحید خان کے نام پر رہی ہے، اس کے باوجود مسجد کے خلاف کارروائی کس قانونی بنیاد پر کی گئی، یہ واضح کیا جانا چاہیے۔

’’اگر تجاوزات معیار ہے تو سب کے لیے یکساں ہو‘‘

جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے کہا کہ اگر غیر قانونی قبضہ یا تجاوزات کے خلاف کارروائی ہی واحد معیار ہے تو یہی معیار ہر مذہب اور ہر طبقے کے لیے یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف بہانوں اور وجوہات کی بنیاد پر ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ کسی بھی مذہبی مقام کے معاملے میں انتظامیہ شفاف، غیر جانب دار اور یکساں قانونی معیار اختیار کرے۔

مذہبی تعمیرات پر یکساں کارروائی کا سوال

مولانا ارشد مدنی نے سوال اٹھایا کہ ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری اراضی، سڑکوں، عوامی مقامات اور دیگر جگہوں پر برسوں اور دہائیوں سے مذہبی نوعیت کی تعمیرات موجود ہیں، تو کیا انتظامیہ ان تمام معاملات میں بھی اسی تیزی، سختی اور معیار کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو کسی ایک مذہبی مقام کے خلاف غیر معمولی سختی سے کارروائی انصاف اور مساوات کے اصولوں پر سوال کھڑا کرتی ہے۔

’’ملکیت کا تنازع عدالت میں طے ہونا چاہیے‘‘

مولانا مدنی نے کہا کہ کسی بھی مذہبی مقام کی زمین یا ملکیت سے متعلق قانونی تنازع کا فیصلہ عدالت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، تاہم طویل عرصے سے جاری مذہبی استعمال، تاریخی دستاویزات اور زمینی حقائق کو بھی قانون کے دائرے میں پوری سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا سوال بالکل واضح ہے کہ جو قانون مسجد کے لیے ہے، وہی قانون ہر مذہبی مقام کے لیے کیوں نہیں؟ جو معیار ایک مسلمان شہری کے لیے ہے، وہی معیار دوسرے شہری کے لیے کیوں نہیں؟

مولانا ارشد مدنی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئین اور قانون ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں ہیں تو ان کا تحفظ اور نفاذ بھی سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی اور شہری معاملات میں غیر جانب داری برقرار رکھتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

Related posts

اترپردیش میں مسلمانوں کو جوڑنے کیلئے کانگریس نے بنایا خاص پلان، حسیب خان کو ملی بڑی ذمہ داری

Hamari Duniya News

دی اسکالر اسکول جامعہ نگر میں اسکول مینجمنٹ ورکشاپ منعقد

Hamari Duniya News

قومی تعلیمی بیداری مہم کے تحت کشمیر میں کامیاب تعلیمی کانفرنس کا انعقاد

Hamari Duniya News