25.9 C
New York
ستمبر 4, 2026
Delhi دہلیTop News

ساکیت میں دو خاتون صحافیوں سے مبینہ مارپیٹ پر عمران پرتاپ گڑھی برہم، پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

نئی دہلی، 4 ستمبر:
جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں دو خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور مارپیٹ کا معاملہ اب سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین اور راجیہ سبھا کے رکن عمران پرتاپ گڑھی نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے دہلی پولیس کے سربراہ سے معاملے کا ذاتی طور پر نوٹس لینے اور مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے 4PM نیوز نیٹ ورک سے وابستہ دونوں خاتون صحافیوں، شاہین خان اور نفیسہ خان، سے فون پر بات کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں صحافیوں نے جو واقعہ بیان کیا، وہ انتہائی دردناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساکیت پولیس نے وزیر اعلیٰ سے سوال پوچھنے والی ان صحافی بیٹیوں کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی کی اور نام پوچھنے کے بعد ان کے ساتھ مارپیٹ کی، جو دہلی پولیس کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو ساکیت میں میکس ہسپتال کے ایک پروگرام کے دوران پیش آیا، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا بھی موجود تھیں۔ دونوں خواتین صحافی پروگرام کی کوریج کے لیے وہاں پہنچی تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے سوال کرنا چاہتی تھیں۔

خاتون صحافیوں کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں حراست میں لے کر ساکیت تھانے پہنچایا، جہاں ان کے ساتھ مبینہ طور پر جسمانی تشدد کیا گیا۔ ایک صحافی کی جانب سے جاری ویڈیو میں مبینہ طور پر جسم پر چوٹوں کے نشانات بھی دکھائے گئے۔ دونوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے ان کی برادری کے بارے میں پوچھا اور ان کے مطابق نام میں ’’خان‘‘ سننے کے بعد مبینہ بدسلوکی مزید بڑھ گئی۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

پولیس نے الزامات مسترد کردیئے

دوسری جانب دہلی پولیس نے خاتون صحافیوں کے الزامات کو ’حقائق کے منافی‘ اور ’گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں خواتین نے وی آئی پی روٹ کے قریب اسکوٹی کھڑی کرکے راستہ متاثر کیا تھا اور بار بار ہٹانے کی ہدایت کے باوجود اسے نہیں ہٹایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وی آئی پی سکیورٹی پروٹوکول کے تحت دونوں خواتین کو مزید پوچھ گچھ کے لیے مقامی تھانے لے جایا گیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے سلسلے میں سینئر افسران دونوں خواتین سے رابطے میں تھے، جبکہ دستیاب رپورٹس کے مطابق جمعرات کی شام تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

صحافتی تنظیموں نے بھی کارروائی کا مطالبہ کیا

واقعے پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ساکیت تھانے میں تعینات متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی اور معاملے کی غیر جانب

دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

عمران پرتاپ گڑھی نے کہا—’’کانگریس ملک کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑی ہے‘‘

عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ صحافیوں کا بنیادی کام سوال پوچھنا اور عوام کے مسائل کو اقتدار تک پہنچانا ہے۔ اگر کسی صحافی کے سوال پوچھنے پر اس کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کیا جاتا ہے تو یہ جمہوری اقدار اور آزادیٔ صحافت کے حوالے سے سنجیدہ معاملہ ہے۔

انہوں نے دہلی پولیس کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا ذاتی طور پر نوٹس لے کر مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور اگر پولیس اہلکاروں کے خلاف الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

عمران پرتاپ گڑھی نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ’’کانگریس پارٹی ملک کی بیٹیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ خواتین صحافیوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور پولیس کا موقف دونوں کو خبر میں شامل کیا گیا ہے۔ واقعے میں مبینہ مارپیٹ کے الزامات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

Related posts

سعودی عرب میں ملازمت کرنا ہوا مزید آسان، ’کفالہ نظام‘ ختم

admin@hamariduniyanews.com

اقلیتی عبادت گاہوں پر حملوں کے خلاف آئی ایم سی آر اور اے پی سی آر کا مشترکہ اجلاس

Hamari Duniya News

جمعیة علماءہند کے اعلیٰ سطحی وفد کی ریزیڈنٹ ایڈیشنل کلکٹر سے ملاقات

Hamari Duniya News