21.1 C
New York
ستمبر 3, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

ایرانی فوج کا بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

ایرانی فوج کے ڈرون حملے

تہران،03 ستمبر: ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ’آپریشن تھنڈر بولٹ‘ کے 30ویں مرحلے کے تحت کی گئیں، جن میں امریکی فوج کے ریڈار سسٹمز اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں واقع الظفرہ اور المنہاد فوجی اڈوں پر ڈرون حملے کیے گئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں دونوں اڈوں پر موجود امریکی فوج کے ریڈار سسٹمز کو خصوصی طور پر ہدف بنایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایرانی ڈرونز نے امریکی فوج کی نگرانی اور فضائی دفاع سے متعلق نظام کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کے دوران متعدد ڈرونز استعمال کیے گئے، تاہم ان حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ایرانی فوج کے مطابق بحرین میں بھی امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے بالخصوص شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی فوج کے ریڈار سسٹم کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بھی ’آپریشن تھنڈر بولٹ‘ کے تحت کی گئی اور اس کا مقصد امریکی فوج کے نگرانی اور دفاعی نظام کو نقصان پہنچانا تھا۔

امریکی فوجی موجودگی کے خلاف کارروائی

ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اس کی کارروائیوں کے اہم اہداف میں شامل ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی فوجی تنصیبات سے اس کے خلاف فوجی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جس کے جواب میں ان اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام نے اس سے قبل بھی خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کے دعوے کیے ہیں۔ تازہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

حملوں کے نقصانات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی

ایرانی فوج کی جانب سے الظفرہ، المنہاد اور شیخ عیسیٰ اڈوں پر حملوں کے دعوے کے باوجود حملوں سے ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ اسی طرح امریکی حکام کی جانب سے ان مخصوص حملوں کے نتائج کے بارے میں فوری طور پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق اگر امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے خلیجی خطے میں جاری فوجی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ خصوصاً بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث ان ممالک کی سلامتی بھی براہِ راست متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

خلیجی خطے میں کشیدگی تشویشناک مرحلے میں

ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے نے خلیجی خطے میں سکیورٹی صورتحال پر نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ خطے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے نتیجے میں توانائی کی عالمی سپلائی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایرانی فوج نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں امریکی فوجی اہداف کے خلاف جاری رہ سکتی ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کے گرد سکیورٹی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔

Related posts

یو جی سی کے مساواتی ضوابط پر پابندی قابلِ تشویش، روہت ویمولا ایکٹ نافذ کیا جائے: طلبہ قائدین

Hamari Duniya News

اقرا انٹرنیشنل اسکول کا سالانہ تعلیمی و ثقافتی پروگرام انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد

Hamari Duniya News

جامعہ اسسٹنٹ پروفیسر تقرری تنازعہ: بغاوت کے الزام پر ڈاکٹر چنگیز خان کی وضاحت، کہا: مقدمہ پہلے ہی ختم ہو چکا

Hamari Duniya News