نئی دہلی، 21 اگست( ہماری دنیا نیوز)۔
دہلی کے جنتر منتر پر 20 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ گن کے استعمال کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی طور پر گرم ہوگیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی جمعہ کو زخمی طالب علم ساحل لوچب کو ساتھ لے کر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچے اور مبینہ پیلٹ گن فائرنگ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولیس کی جانب سے کارروائی نہ ہونے پر راہل گاندھی ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔
زخمی طالب علم کو ساتھ لے کر تھانے پہنچے راہل گاندھی
رپورٹس کے مطابق راہل گاندھی کے ساتھ موجود ساحل لوچب نے دعویٰ کیا ہے کہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گن کی فائرنگ سے وہ زخمی ہوئے تھے۔ ان کے جسم اور آنکھ میں چوٹیں آنے کی اطلاعات ہیں۔ راہل گاندھی نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ شکایت درج کرکے معاملے کی منصفانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
’FIR درج نہیں ہوئی تو دھرنا جاری رہے گا‘
کانگریس کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ زخمی طالب علم نے 14 اگست کو پولیس کو تحریری شکایت دی تھی، لیکن ایف آئی آر درج کرنا تو دور، شکایت کا آئی او نمبر بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ پارٹی کے مطابق 17 اگست کو بھی معاملے میں فالو اَپ کیا گیا، تاہم پولیس کی جانب سے مناسب جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد راہل گاندھی خود طالب علم کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچے۔
راہل گاندھی نے پولیس سے سوال کیا کہ جب ایک شہری نے مبینہ پولیس فائرنگ میں زخمی ہونے کی شکایت کی ہے تو اس پر ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاملے میں کارروائی ہونے تک وہ دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔

20 جولائی کو جنتر منتر پر کیا ہوا تھا؟
20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں طلبہ نے مبینہ NEET بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران پولیس کارروائی میں طاقت کے مبینہ ضرورت سے زیادہ استعمال اور پیلٹ گن چلائے جانے کے الزامات سامنے آئے۔ دوسری جانب پولیس نے پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق الزامات کی تردید کی ہے۔
واقعے کے بعد زخمی مظاہرین کے جسم میں پیلٹ کے چھروں کے موجود رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس معاملے نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تنازع کو مزید شدت دے دی ہے۔
سپریم کورٹ نے بھی تشکیل دی ہائی پاور کمیٹی
پیلٹ گن اور پولیس کارروائی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے بھی اہم قدم اٹھایا ہے۔ عدالت نے پانچ رکنی ہائی پاور انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر. سُبھاش ریڈی کریں گے۔
کمیٹی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات کے ساتھ ساتھ مظاہرین کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مبینہ تشدد کے واقعات کا بھی جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
سیاسی تنازع مزید بڑھنے کے آثار
راہل گاندھی کے زخمی طالب علم کے ساتھ پولیس اسٹیشن پہنچنے اور دھرنے پر بیٹھنے سے یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ طلبہ پر طاقت کے استعمال کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر پیلٹ گن استعمال کی گئی ہے تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
دوسری جانب معاملے کی مکمل حقیقت اب سپریم کورٹ کی نگرانی میں قائم ہائی پاور کمیٹی کی تحقیقات اور پولیس کارروائی کے نتائج سے واضح ہونے کی توقع ہے۔
