19.9 C
New York
ستمبر 20, 2026
Business بزنسNational قومی خبریںTop News

دو ہزار روپے سے زائد یوپی آئی ادائیگیوں پر لگے گا چارج!، آر بی آئی گورنر نے افواہوں پر لگایا بریک

نئی دہلی: وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز (ترمیمی) بل، 2027 پیش کیے جانے کے بعد یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ اب ₹2,000 سے زیادہ کی یو پی آئی (UPI) ادائیگیوں پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) نافذ کر دیا جائے گا۔ تاہم ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے گورنر سنجے ملہوترا نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور معاملہ ابھی غور و خوض کے مرحلے میں ہے۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے مجوزہ ترمیمی بل کا مقصد فوری طور پر یو پی آئی پر کوئی نیا چارج عائد کرنا نہیں، بلکہ حکومت کو مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق فیس یا ایم ڈی آر کے بارے میں فیصلہ کرنے کا قانونی اختیار فراہم کرنا ہے۔ بل میں نہ تو کسی مخصوص شرح کا ذکر ہے اور نہ ہی کسی تاریخ کا تعین کیا گیا ہے۔
آر بی آئی گورنر سنجے ملہوترا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مستقبل میں ایم ڈی آر نافذ ہوگا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مضبوط نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی لاگت کسی نہ کسی کو برداشت کرنا پڑتی ہے، تاہم حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے پر ابھی غور کر رہے ہیں۔
ایم ڈی آر کیا ہے؟
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) وہ فیس ہوتی ہے جو کسی دکان یا تاجر کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے پر بینک یا پیمنٹ سروس فراہم کرنے والے ادارے کو ادا کی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ رقم براہِ راست صارف سے وصول نہیں کی جاتی بلکہ تاجر برداشت کرتا ہے، اگرچہ بعض صورتوں میں اس کا اثر اشیاء یا خدمات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
کن لین دین پر بحث ہو رہی ہے؟
اطلاعات کے مطابق اگر مستقبل میں ایم ڈی آر نافذ کیا بھی جاتا ہے تو اس کا دائرہ زیادہ تر بڑے تجارتی (Person-to-Merchant) یو پی آئی لین دین تک محدود ہو سکتا ہے، خاص طور پر ₹2,000 سے زائد ادائیگیوں پر۔ عام صارفین کے درمیان ہونے والی Person-to-Person (P2P) ٹرانزیکشنز پر فی الحال کسی قسم کا چارج عائد کرنے کی کوئی تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔
عوام افواہوں سے محتاط رہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ₹2,000 سے زیادہ کی ہر یو پی آئی ادائیگی پر فوری طور پر فیس وصول کی جائے گی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابھی نہ کوئی نیا قانون نافذ ہوا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا ایم ڈی آر لاگو کیا گیا ہے۔ حکومت اور آر بی آئی کی جانب سے حتمی پالیسی سامنے آنے کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ مؤثر ہوگا۔

Related posts

جامعہ میڈیکل کالج کا خواب تعبیرہونے جا رہا ہے، عنقریب ہی ایم بی بی ایس کورس شروع کیا جائے گا

Hamari Duniya News

معاشرے میں تعلیمی بیداری کے لیے بچوں اوربچیوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری، تعلیم ترقی کا زینہ ہے: مولانا عظمت

Hamari Duniya News

سعودی عرب کے نئے سفیرفہد بن محمد بن منیخر نے صدر جمہوریہ کے سامنے اپنے کاغذات پیش کئے: راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کی طرف سے دل کی گہرائیوں سے شاندار مبارکباد

Hamari Duniya News