26.9 C
New York
اگست 6, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

ایران جنگ کے بعد امریکا کے فضائی دفاعی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، رپورٹ میں انکشاف

Thad interceptor missile

واشنگٹن(ہماری دنیا نیوز)۔

 امریکی میڈیا کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران امریکا نے اپنے جدید فضائی دفاعی نظاموں کے میزائل بڑے پیمانے پر استعمال کیے، جس کے باعث ان کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق باخبر امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج اپنے تھاڈ (THAAD) فضائی دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹر میزائل استعمال کر چکی ہے، جبکہ پیٹریاٹ (Patriot) دفاعی نظام کے بھی تقریباً 50 فیصد انٹرسیپٹرز خرچ ہو چکے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے سے قبل امریکا کے پاس جدید پیٹریاٹ نظام کے تقریباً 2,200 انٹرسیپٹر میزائل اور 452 تھاڈ میزائل موجود تھے، تاہم مسلسل دفاعی کارروائیوں کے باعث ان ذخائر میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے امریکا نے اپنے فضائی دفاعی نظاموں کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا، جس سے میزائلوں کی کھپت معمول سے کہیں زیادہ رہی۔

ادھر امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈرز اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ پینٹاگون کے اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں کسی بڑے فوجی تنازع کی صورت میں امریکا کو دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اسلحہ سازی کی رفتار بڑھانا پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک نے بھی فضائی دفاعی میزائلوں کی قلت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو فضائی دفاعی نظاموں کے لیے اضافی انٹرسیپٹرز کی فوری فراہمی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران نے حالیہ دنوں دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران اس نے اپنی مسلح افواج کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط بنایا ہے، جس سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

ماہرین دفاع کا کہنا ہے کہ اگر یہ اعداد و شمار درست ثابت ہوتے ہیں تو امریکا کو اپنے دفاعی میزائلوں کے ذخائر کی بحالی، اسلحہ سازی میں اضافہ اور اتحادی ممالک کے دفاعی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی، کیونکہ جدید فضائی دفاعی میزائلوں کی تیاری میں کئی ماہ بلکہ بعض صورتوں میں ایک سال سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

Related posts

عالمی اردو کانفرنس : اردو اور اس کے مصنفین نے دیگر زبانوں اور تہذیبوں کو بھی متاثر کیا: امتیاز حسنین

Hamari Duniya News

ریلائنس ریٹیل نے ہمالیہ کے قدرتی مصنوعات پر مبنی سکن کیئر برانڈ ’پہاڑی لوکل‘ کو خریدا

Hamari Duniya News

ایران کا 24 گھنٹے میں 200 امریکی فوجی ہلاک اور زخمی کرنے کا بڑا دعویٰ

Hamari Duniya News