نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جاری مشترکہ فوجی جارحیت کی ایک بار پھر سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ تصادم کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جانا چاہئے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ایران کی سرزمین پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جاری فوجی حملے اس کی قومی خودمختاری اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔مشرق وسطیٰ کی تازہ صورت حال پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں اور تباہیاں ہوئی ہیں۔ جنوبی ایران کے شہر میناب پر ہونے والے حالیہ فضائی حملے میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 165 طالبات جاں بحق ہوئیں۔ اس سانحے نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ معصوم شہریوں، بالخصوص بچوں پر اس طرح کے حملے انسانیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ اس حملے کا احتساب اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے فوری طور پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورت حال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے جب سفارتی مذاکرات جاری تھے۔ اس واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ نے پر امن مکالمے کے بجائے فوجی جارحیت کو ترجیح دی ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ موجودہ بحران دراصل فوجی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ،جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ میں دھکیل دیا ہے اور لاکھوں شہریوں کو تکلیف اور عدم تحفظ کا شکار بنادیا ہے۔ اسرائیل کی جارحانہ کاروائیوں کا ساتھ دے کر امریکہ جارحیت کے اس سلسلے کو طول دے رہا ہے جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خلیجی خطے کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے پڑوسی خلیجی ممالک میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو پڑوسی عرب ممالک کو اس تنازع میں کھینچ لائیں۔ موجودہ بحران کو ایران اور عرب ممالک کے درمیان تصادم میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے کیونکہ اس سے خطےمیں مزید تقسیم پیدا ہوگی اور مشرق وسطیٰ کے عوام کے لیے شدید بحران کا سبب بنیں گے۔ اس وقت دانشمندی، احتیاط اور مؤثر سفارت کاری کی فوری ضرورت ہے تاکہ خطے کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔ ہم عرب ممالک سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی سرزمین، فضائی حدود اور وسائل اس جارحیت کے لیے استعمال نہ ہوں۔
سید سعادت اللہ حسینی نے حکومت ہند سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنی سفارتی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی مسلسل خاموشی اور جارح قوتوں کے ساتھ یکجہتی کا تاثر نہ تو ملک کے سفارتی مفادات کے لیے بہتر ہے اور نہ ہی عالمی امور میں سامراج مخالف اس کے تاریخی موقف کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو امریکہ۔اسرائیل جارحیت کے خلاف واضح اور اصولی آواز بلند کرنی چاہیے اور عالمی سطح پر تشدد کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے عملی سفارتی کوششوں کو متحرک کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ سید سعادت اللہ حسینی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری اقدام کرتے ہوئے مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کرے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف مکالمے، خودمختاری اور بین الاقوامی تعلقات میں انصاف کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی ہند ہمیشہ جارحیت، سامراجیت اور قومی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مخالف رہی ہے اور موجودہ بحران کو فوجی مداخلت کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی حامی ہے تاکہ خطے کے عوام کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے۔
