5.5 C
New York
فروری 27, 2026
Articles مضامینTop News

اک سکوت تھا جو ٹوٹا، اک سحر ہے جو ہونے کو ہے، بارہ سالہ بن باس اور شمیم احمد کی اردو تحریک کا احیا

اردو تحریک

ڈاکٹر محمد فاروق
بنگال کی سنگلاخ سیاسی زمین پر اردو کے پودے کو پروان چڑھانے کی تاریخ جتنی طویل ہے، اتنی ہی صبر آزما بھی۔ اس تحریک کے نشیب و فراز پر نظرڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1980 میں جب پہلی بار اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کی صدا بلند ہوئی، تو اس وقت کی قیادت یعنی انجمن ترقی اردو کے مقتدر حلقے اور حکومت کے درمیان ایک ایسی مصلحت پسندانہ آنکھ مچولی شروع ہوئی جس نے تین دہائیوں تک اردو بولنے والوں کو صرف خواب دکھائے۔ سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسو کا وہ سخت گیر رویہ کہ تین فیصد کی زبان کسی پر تھوپی نہیں جائے گی، اور اس کے جواب میں پروفیسر حیدرحسن کاظمی کی جرات مندانہ تکرار، اردو کی تاریخ کا ایک اہم باب تو ہے، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس مہم جوئی کا حاصل محض چند مخصوص علاقوں تک محدود ایک بے روح نوٹیفیکیشن تھا۔

اردو تحریک
بنگال میں اردو تحریک کی داستان ایثار و قربانی اور مصلحت و بے حسی کے متضاد رنگوں سے عبارت ہے۔ ایک طویل عرصے تک اس تحریک کی باگ ڈور اردو کی اس اشرافیہ کے ہاتھوں میں رہی جس نے اسے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کے بجائے ڈرائنگ رومز کی نشستوں، بے اثر سیمیناروں اور روایتی مشاعروں کے حصار میں مقید کر دیا تھا۔ جب مخلص اردو دان طبقہ مایوسی کے اتھاہ اندھیروں میں بھٹک رہا تھا اور پروفیسر حیدر حسن کاظمی کی عوامی لہر کو مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا کر کچل دیا گیا تھا، تب 2005کے قریب بنگال کے افق پر ایک ایسی شخصیت کا ظہور ہوا جس نے اردو تحریک کا مزاج، رخ اور تقدیر بدل کر رکھ دی۔ یہ معتبر نام شمیم احمد کا تھا، جن کی آمد بنگال کی لسانی تاریخ میں ایک عہد ساز سنگِ میل ثابت ہوئی۔
شمیم احمد کی تحریک کی سب سے بڑی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے اردو کو محض روزی روٹی کا وسیلہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے مادری شناخت اور قومی عزتِ نفس کا مسئلہ بنا کر پیش کیا۔ جس وقت اردو کے نام نہاد علمبردار حکومت کی کاسہ لیسی اور خوشامد میں مگن تھے، شمیم احمد نے گاندھی مجسمے کے سائے تلے عوامی سطح پر اس تحریک کا وہ تاریخی آغاز کیا جس کی مثال بنگال کی سرزمین پر نہیں ملتی۔ یہ تحریک قدم بہ قدم نشیب و فراز سے گزرتی رہی، مگر اس کے عزم میں کبھی لرزش نہیں آئی۔

اس تحریک کا سب سے درخشاں اور ولولہ انگیز باب مسلم انسٹی ٹیوٹ ہال کا وہ تاریخی پروگرام تھا، جس کا میں خود عینی شاہد ہوں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا جو اردو کی تاریخ میں شاید ہی کبھی دہرایا گیا ہو۔ دسمبر کی کڑکڑاتی سردی میں، صبح نو بجے ہی سے اردو کے متوالے جوق در جوق مسلم انسٹی ٹیوٹ پہنچنا شروع ہوئے اور شام ڈھلے تک یہ مجمع ایک سمندر کی صورت اختیار کر گیا۔ اس وقت کے اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات گواہ ہیں (جن کی تصاویر آج بھی اس عظیم جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں) کہ کسی نے 30 ہزار تو کسی نے 40 ہزار کے مجمع کا ذکر کیا۔ رفیع احمد قدوائی روڈ کا وہ پورا علاقہ انسانی سروں سے اٹا پڑا تھا، جہاں لوگ بغیر کھائے پیے صرف اپنی زبان کی پکار پر لبیک کہنے آئے تھے۔ یہی وہ عوامی طاقت تھی جس نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، اسمبلی میں بل پاس ہوا اور گورنر کے دستخط کے بعد اردو کو بنگال میں اس کا آئینی حق حاصل ہوا۔
بنگال میں اردو تحریک کی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کامیابی کی منزلیں تو طے کی گئیں، مگر ان کی حفاظت کا شعور مفقود رہا۔ شمیم احمد نے جس والہانہ پن اور خلوصِ نیت کے ساتھ اردو کے بکھرے ہوئے شیرازے کو مجتمع کیا تھا اور اسمبلی سے بل پاس کرانے جیسی عظیم کامیابی حاصل کی تھی، اس کے بعد ان کی اچانک خاموشی اردو کے حق میں زہرِ قاتل ثابت ہوئی۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس خاموشی کے اسباب پر نہ تو اردو کے دانشور طبقے نے غور کیا اور نہ ہی عام آدمی کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ اپنے اس محسن سے پوچھے کہ آخر وہ کون سی وجوہات تھیں جنہوں نے اتنی توانا تحریک کو سلب کر لیا؟

اردو تحریک
آج کا موجودہ منظرنامہ ہماری اجتماعی بے حسی کا نوحہ ہے۔ عالمی یومِ مادری زبان کا موقع ہو یا کوئی اور لسانی تقریب، ہم محض رسمی کارروائیوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ کسی نے یہ جاننے کی زحمت ہی نہیں کی کہ جس شخص نے اپنی جان، مال اور وقت ملت کی زبان پر قربان کر دیا، وہ گوشہ نشین کیوں ہو گیا؟ یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ جب کوئی مخلص قائد اپنا سب کچھ لٹا کر قوم کی تقدیر بدلنے نکلتا ہے اور قوم اسے نظر انداز کر دیتی ہے، تو پھر وہی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ اردو دان طبقہ مخلص قیادت کو چھوڑ کر چند ٹکڑوں، چمک دھمک اور مصلحت پسند نام نہاد لیڈروں کے پیچھے بھاگنے لگا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اردو کا وقار ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہا ہے۔
اگر قوم کا رویہ یہی رہا، تو مستقبل میں کوئی بھی مخلص انسان مہینوں اور برسوں اپنی طاقت اور صلاحیتیں ملت کے لیے صرف کرنے کا حوصلہ نہیں کرے گا۔ جب قوم اپنے اصل خیر خواہوں کو پہچاننے سے عاری ہو جائے، تو تحریکیں بانجھ ہو جایا کرتی ہیں۔ اردو کی موجودہ ابتر حالت اسی نظریاتی بے وفائی کا نتیجہ ہے جس نے ایک جیتے جاگتے مشن کو جمود کا شکار کر دیا۔
آج جب ہم بنگال میں اردو کے موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ قانون بن جانے اور اسمبلی میں بل پاس ہونے کے باوجود، اردو کی حالت نزع کے عالم میں ہے۔ اردو اسکولوں کی ویرانی، اساتذہ کی کمی، سرکاری دفاتر میں اردو درخواستوں کی عدم سماعت اور نئی نسل کا اپنی زبان سے بڑھتا ہوا انقطاع اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ جو حق برسوں کی جدوجہد کے بعد کاغذوں پر ملا تھا، وہ زمین پر نافذ نہ ہو سکا۔ آج کی اردو اشرافیہ پھر سے خوابِ خرگوش میں ہے اور عام اردو دان طبقہ قیادت کے فقدان کی وجہ سے بے حسی کا شکار ہو چکا ہے۔
انہی تاریک لمحات میں یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ شمیم احمد کی اردو تحریک کو ایک بار پھر ازسرِ نو شروع کرنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ آج بنگال کو پھر سے اسی جنون، اسی خلوص اور اسی بے لچک قیادت کی ضرورت ہے جس نے 2009 میں مسلم انسٹی ٹیوٹ ہال کے اس تاریخی مجمع کو جنم دیا تھا جہاں ہزاروں لوگ اپنے حقوق کی خاطر دن بھر بھوکے پیاسے ڈٹے رہے تھے۔ شمیم احمد کی خاموشی نے جو خلا پیدا کیا ہے، اسے کسی مصلحت پسند سیاست سے نہیں بلکہ اسی انقلابی جذبے سے بھرا جا سکتا ہے جو گھروں سے نکل کر سڑکوں پر احتجاج کرنا جانتا ہو۔
اردو کی بہتری کے لیے اب محض سیمینار اور قراردادیں کافی نہیں، بلکہ شمیم احمد کے اس اسلوبِ کار کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے جس میں عوامی بیداری اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے سربکف ہو کر نکلنا پڑتا ہے۔ اگر آج پھر سے وہ تحریک منظم نہ ہوئی، تو آنے والی نسلیں ہمیں اس لسانی و تہذیبی خودکشی کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی۔ وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اردو کا وقار اسی صورت بحال ہو سکتا ہے جب شمیم احمد جیسا کوئی مخلص قائد دوبارہ اس کارواں کی قیادت سنبھالے اور اردو بولنے والوں کو ان کی مادری زبان کا وہ حق دلائے جو قانون کی کتابوں میں تو موجود ہے مگر عوامی زندگی سے غائب ہے۔
تاہم، مایوسی کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں حال ہی میں ایک امید کی کرن نظر آئی ہے۔ شمیم احمد کا بارہ سال بعد منظر عام پر آنے والا انٹرویو کسی معجزے سے کم نہیں۔ انصاف نیوز کے ذریعے سامنے آنے والی ان کی گفتگو نے اردو کے سچے شیدائیوں کے دلوں میں ایک بار پھر وہی تڑپ پیدا کر دی ہے۔ بارہ سال کی طویل خاموشی کے بعد ان کی آواز کا گونجنا اس بات کا اشارہ ہے کہ راکھ تلے چنگاری ابھی باقی ہے۔ یہ انٹرویو ایک گفتگو نہیں بلکہ ان تمام سوالوں کا جواب اور ایک نئی بیداری کا پیش خیمہ ہے جن کا اردو بستی کو شدت سے انتظار تھا۔ 12سال بعد ان کے ایک انٹرویو نے دوبارہ امید کی جو کرن جگائی ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی ہوگی۔ اب یہ اردو برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بے حسی کو توڑ کر باہر نکلے، کیونکہ اگر اب بھی ہم بیدار نہ ہوئے اور شمیم احمد جیسی مخلص قیادت کے پیچھے متحد نہ ہوئے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اردو کی بہتری اور اس کے روشن مستقبل کے لیے اس تحریک کا احیا ناگزیر ہے تاکہ جو حق کاغذوں پر ملا تھا، اسے زمین پر نافذ کیا جا سکے۔

Related posts

شہزادہ محمد بن سلمان نے روضہ رسول پر حاضری دی، ریاض الجنہ میں ادا کی نماز

Hamari Duniya News

مہاراشٹر کارپوریشن الیکشن میں عمران پرتاپ گڑھی جہاں بھی پہنچے، وہاں وہاں کانگریس کو ملی کامیابی

Hamari Duniya News

سی آر پی ایف کیمپ رامپور حملہ: پھانسی اور عمر قید کی سزائیں ختم کرنے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج 

Hamari Duniya News