1.8 C
New York
مارچ 17, 2026
Delhi دہلیRegional News علاقائی خبریںTop News

جامعہ اسسٹنٹ پروفیسر تقرری تنازعہ: بغاوت کے الزام پر ڈاکٹر چنگیز خان کی وضاحت، کہا: مقدمہ پہلے ہی ختم ہو چکا

ڈاکٹر چنگیز خان

نئی دہلی، 16 مارچ: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مؤرخ ڈاکٹر چنگیز خان کی اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تقرری کے بعد ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ چند نیوز پورٹلز نے انہیں “بغاوت کے ملزم” قرار دیتے ہوئے ان کی تقرری پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم ڈاکٹر خان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض ویب سائٹس، جن میں اوپ انڈیا اور پنچجنیہ شامل ہیں، نے منی پور میں درج ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر چنگیز خان پر بغاوت کا الزام ہے۔ یہ مقدمہ ایک ایسے ترجمہ شدہ مضمون سے متعلق بتایا گیا جس میں مبینہ طور پر متنازعہ خیالات پیش کیے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ تمام دعوے حقیقت کے منافی ہیں اور ایک علمی مضمون کی غلط تشریح پر مبنی ہیں۔
ڈاکٹر خان نے واضح کیا کہ جس مقدمے کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ پہلے ہی امپھال کی عدالت میں ختم کردیا گیا ہے اور اسے جاری معاملہ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس امپھال ویسٹ کی عدالت، سول جج جونیئر ڈویژن/جے ایم ایف سی، میں پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔ مجھے بغاوت کا ملزم کہنا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ عدالت کے فیصلے کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔”
ڈاکٹر خان کے مطابق تنازعہ دراصل ایک مشترکہ علمی مضمون سے شروع ہوا جو انہوں نے اسکالر محمد امتیاز خان کے ساتھ تحریر کیا تھا۔ انگریزی زبان میں یہ مضمون ‘Chronicle of Identity Crisis of Pangals in Manipur’ کے عنوان سے اخبار دی پائنیئر میں شائع ہوا تھا۔
ڈاکٹر چنگیز خان کا کہنا ہے کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب اس مضمون کا ترجمہ ایک منی پوری اخبار میں شائع ہوا، جہاں ان کے مطابق اصل مضمون کے لہجے اور مفہوم کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا “منی پوری ترجمے میں ایسا عنوان اور ایسی تشریح شامل کی گئی جس کی ہم نے کبھی منظوری نہیں دی۔ میں اس ترجمہ شدہ ورژن سے متفق نہیں ہوں اور نہ ہی اس کے مندرجات یا اندازِ بیان کی تائید کرتا ہوں۔” ان کے مطابق مضمون کا ترجمہ مصنفین کو اس کے حتمی متن سے آگاہ کیے بغیر شائع کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اخبار کے مدیر نے ایک وضاحت جاری کرتے ہوئے اصل مضمون کی غلط تشریح کا اعتراف بھی کیا۔ ڈاکٹر چنگیز خاں نے کہا کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بدنام کرنے کی ایک سوچی سمجھی شازش ہے۔

Related posts

نیشنل سینئر کالج ناسک میں پائیدار ترقی اور اعلیٰ تعلیم پر دو روزہ قومی سمینار کا شاندار افتتاح

Hamari Duniya News

مسلمانوں کی پستی و زوال کی اصل وجہ قرآن کی تعلیمات کو نظر اندازکرنا ہے

Hamari Duniya News

محفلِ ادب میں شاعر عارفؔ قمر کے فن کو خراجِ عقیدت، شیلڈ سے عزت افزائی

Hamari Duniya News