تل ابیب، 30 اگست: اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل دوبارہ حملہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا، چاہے ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ ہی کیوں نہ طے پا جائے۔ اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے یہ بات اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہی۔
ایلی کوہن نے کہا کہ اگر ایران جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسرائیل اسے دوبارہ نشانہ بنائے گا۔ ان کے بقول، واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے باوجود اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھی جانے والی کارروائی کا حق محفوظ رکھے گا۔
’ایران نے غلطی دہرائی تو دوبارہ حملہ کریں گے‘
اسرائیلی وزیر نے ایران کے جوہری پروگرام کی بحالی کو ’غلطی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے دوبارہ جوہری یا میزائل صلاحیتیں حاصل کرنے کی سمت قدم بڑھایا تو اسرائیل ایک بار پھر کارروائی کرے گا۔
ایلی کوہن کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی مشترکہ فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو دو سے چار سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔ تاہم یہ مدت اسرائیلی اندازے کا حصہ ہے، جسے ایک آزاد بین الاقوامی تصدیق شدہ تخمینہ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
’اسرائیل حملہ نہ کرتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرلیتا‘
ایلی کوہن نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائی کو ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پہلے ہی اپنی فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکا ہے۔
امریکا اور ایران کے ممکنہ معاہدے پر بھی اسرائیل کا سخت مؤقف
اسرائیلی وزیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے کی کوششیں زیرِ بحث رہی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والا کوئی معاہدہ لازماً اسرائیل کو فوجی کارروائی سے نہیں روکے گا، اگر اسرائیل کو یہ محسوس ہوا کہ ایران دوبارہ جوہری یا بیلسٹک میزائل صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی برقرار
ایلی کوہن کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام بدستور اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی کا مرکزی مسئلہ ہیں۔ دوسری جانب خطے میں جاری طویل تنازع نے خلیجی ممالک، آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق چھ ماہ سے جاری تنازع نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو طول دیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
اسرائیل کی تازہ دھمکی نے اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ اگر ایران اپنے جوہری یا میزائل پروگرام کو دوبارہ آگے بڑھاتا ہے تو خطے میں ایک مرتبہ پھر براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
