عرب جماعتوں کے اتحاد ’القائمۃ المشترکۃ‘ اور عرب جماعت ’القائمۃ العربیہ‘ کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کا امکان، نیتن یاہو کا اتحاد 61 کے جادوئی ہندسے سے دور، اسرائیل میں حکومت سازی پر غیر یقینی کے بادل
تل ابیب، 28 اکتوبر: اسرائیل کے انتخابی منظرنامے میں عرب ووٹروں اور عرب سیاسی جماعتوں کا کردار فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ابتدائی انتخابی اندازوں کے مطابق وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد 120 رکنی کنیسٹ میں تقریباً 53 نشستیں حاصل کرتا نظر آ رہا ہے، جب کہ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ ایسے میں عرب جماعتوں کی حمایت اور پارلیمانی طاقت حکومت سازی کے عمل میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
دستیاب انتخابی اعداد و شمار کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً 53 نشستیں اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عرب جماعتوں کے حصے میں مجموعی طور پر 19 نشستیں آنے کا اندازہ ہے۔ ان میں القائمۃ المشترکۃ (Joint List) کو 12 اور القائمۃ العربیہ (United Arab List یا رام) کو 7 نشستیں ملنے کا امکان بتایا گیا ہے۔
رام اور عرب جماعتوں کا کردار اہم
عرب جماعت رام (Ra’am)، جس کی قیادت منصور عباس کرتے ہیں، اسرائیلی سیاست میں عرب شہریوں کی نمائندگی کرنے والی اہم جماعت ہے۔ عرب جماعتوں کی پارلیمانی طاقت میں اضافہ حکومت سازی کے لیے مختلف سیاسی اتحادوں کی ضرورت کو بڑھا سکتا ہے۔ اگر عرب جماعتیں کسی ایک سیاسی بلاک کی حمایت میں متحد ہو جائیں تو ان کا کردار مزید فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ کہنا کہ اسرائیل کے مسلمانوں نے صرف رام کو ووٹ دے کر نیتن یاہو کو وزیراعظم بننے سے روک دیا، انتخابی نتائج اور حکومت سازی کی حتمی صورت حال کی مکمل تصدیق کے بغیر درست نہیں ہوگا۔ فی الحال پیش کردہ اعداد و شمار صرف اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت سے دور ہے اور عرب جماعتوں کی حمایت اہم ہو سکتی ہے۔
نیتن یاہو کے لیے حکومت بنانا آسان نہیں
نیتن یاہو کو حکومت بنانے کے لیے مزید ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ وہ اپوزیشن جماعتوں یا انفرادی ارکان سے رابطہ کرکے اکثریت پوری کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن انتخابی مہم کے دوران اپوزیشن کے متعدد رہنماؤں نے ان کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کیا تھا۔
اس صورت حال میں عرب جماعتوں کی حمایت کے علاوہ قومی اتحاد کی حکومت کا امکان بھی زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ ایسی حکومت میں لیکوڈ اور اپوزیشن کی ایک یا زیادہ جماعتیں شامل ہو سکتی ہیں، اگرچہ نظریاتی اختلافات اور انتخابی وعدے اس راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اسرائیل میں سیاسی تعطل کا خدشہ
اگر کوئی سیاسی بلاک 61 نشستوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل کو طویل سیاسی تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت سازی کے لیے مذاکرات کئی ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتے ہیں اور دوبارہ انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر عرب جماعتوں کی ممکنہ 19 نشستیں اسرائیلی سیاست میں ان کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کی سیاسی واپسی کا فیصلہ صرف عرب ووٹوں سے نہیں، بلکہ حتمی انتخابی نتائج، مختلف جماعتوں کے اتحاد اور کنیسٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی صلاحیت سے ہوگا۔
