تہران،25 اکتوبر: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بندر عباس شہر کی فضائی حدود میں ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں کہا ہے کہ حملہ کل ہی ہو سکتا ہے، تاہم کسی بڑے معاہدے پر پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق بندر عباس کی فضائی حدود میں امریکی ڈرون کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کے حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے کسی تصدیق یا تردید کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی ممکنہ حملے کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے۔ ان کے اس بیان سے خطے میں فوجی کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے کو بہت اچھے طریقے سے نمٹایا گیا ہے، تاہم اب ممکن ہے کہ باقی کام بھی مکمل کرنا پڑے۔ امریکی صدر کے اس بیان کو ایران کے خلاف مزید کارروائی کے امکان سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے ایک طرف ایران پر جلد حملے کے امکان کا ذکر کیا، تو دوسری جانب بڑے معاہدے کی امید بھی ظاہر کی۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے سفارتی معاہدے اور فوجی کارروائی، دونوں امکانات برقرار ہیں۔
ایرانی ڈرون مار گرانے کے دعوے اور امریکی صدر کے تازہ بیان کے بعد خطے کی صورت حال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔ تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں صورت حال ابھی واضح نہیں ہے۔
