18.5 C
New York
اکتوبر 15, 2026
Articles مضامینTop News

بڑھتی حوثی جارحیت اور بلادِ حرمین کی حفاظت: شمیم احمد ندویؔ

ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ

شمیم احمد ندویؔ

(ناظم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر، نیپال)

سعودی اتحاد اور حوثی انتہا پسندوں ودہشت گردوں کے درمیان چندمہینوںکی خاموشی کے بعد ایک بار پھر ہولناک جنگ کے مہیب بادل چھا گئے ہیں اور حالات انتہائی دھماکہ خیز بن گئے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے اسٹریٹجک و دفاعی اہمیت کے حامل مقامات پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے ہیں جس سے نہ صرف علاقائی امن کے لیے بلکہ عالمی امن و سلامتی اور محفوظ جہازرانی کے لئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
دونوں فریقوں کے حملوں اور ایک دوسرے کو نقصان پہونچانے کی کوششوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک طرف جہاں یمن کی یواین کی تسلیم شدہ جائز حکومت کی جانب سے حوثی ملیشیا کے فوجی اہداف، اسلحہ کے گوداموں، رسد کے ذخیروں، عسکری ٹھکانوں، فوجی گاڑیوں اور دیگر فوجی اہمیت کے حامل مقامات پر زمینی و فضائی حملے کئے جا رہے ہیں، یمن کی اس جائز حکومت کو سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اتحاد کی حمایت حاصل ہے وہیں حوثی دہشت گرد عالمی جنگی قوانین، اسلامی تعلیمات اور امن عالم کو تار تار کرتے ہوئے سعودی عرب کے شہری ہوابازی کے مستعمل ہونے والے ہوائی اڈوں پر حملے کر کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ حوثی دہشت گرد جو پہلے بھی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے رہے ہیں، جنگوں میں بچوں کو اپنی حفاظت کے لئے ڈھال بناتے رہے ہیں، معصوم بچوں اور بے گناہ شہریوں کو جبراً جنگ میں جھونکتے رہے ہیں اور اپنے ناجائز قبضہ کو طول دینے اور اپنے مفاد کے لیے لڑی جانے والی ان جنگوں کے ذریعہ انھوں نے یمن کو افلاس و تنگ دستی اور بھک مری و فقر و فاقہ کی آگ میں جھونک دیا ہے، بچے تعلیم وتربیت اور شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ادھر چند دنوں سے ان کے میزائل و ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے انھوں نے بعض حملوں کے ذریعہ بین الاقوامی اصولوں، جنگی قوانین اور اسلامی غیرت و حمیت کو تار تار کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ان حملوں کو سعودی دفاع نے اگرچہ اپنی جنگی مہارت اور دفاعی صلاحیت سے ناکام بناد یا لیکن اس سے ان کی اسلام پسندی کے دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے، انہوں نے چند دنوں قبل مدینہ منورہ میں واقع بجلی کی ان تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جہاں سے مسجد نبوی کوبجلی سپلائی ہوتی ہے، ان کی ان دہشت گردانہ اور انسانیت سوز کاروائیوں سے ان کی نیت کا بھی پتہ چلتا ہے اور ان کے چہرہ پر پڑے ہوئے شرافت و معصومیت اور نام نہاد اسلام دوستی کا نقاب بھی اتر جاتا ہے۔

سعودی دفاعی نظام
حوثی حملوں کو ناکام بنانے کیلئے خانہ کعبہ کے قریب نصب سعودی عرب کا دفاعی نظام

اسی ہفتہ سنیچر کی شب میں ان حوثی دہشت گردوں نے سعودی عرب کے دارالسلطنت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس کے مسافر لاؤنج کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملہ کیا جس سے بڑا جانی و مالی نقصان ہوا جس میں 12؍بے گناہ مسافروں کی ہلاکت ہوئی اور تین سو نومسافر اور ایئرپورٹ کے عملہ سے تعلق رکھنے والے افراد زخمی ہوئے، دنیا اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں دنیا کا کوئی بھی جنگ و امن کا قانون اس طرح کے حملوں کی اجازت نہیں دیتا جس میں بے گناہ شہریوں و مسافروں کو نشانہ بنایا جائے اور امن و انسانیت کو تہ و بالا کیا جائے، ان مسافروں میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی اور دیگر ۶؍ میں امریکہ سمیت ۶؍ ملکوں کے ایک ایک شہری شامل تھے، یہ واقعہ انتہائی بزدلانہ ، بے رحمانہ اوربہت ہی انسانیت سوزہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، دنیا کے تمام انصاف پسند ملکوں، امن کے پیامبروں اور تمام سماجی وملی تنظیموں کو اس طرح کے واقعات کی مذمت کرنی چاہئے، لیکن بعض لوگوں کی بے حسی وبے غیرتی پر اس وقت ماتم کرنے کا جی چاہتا ہے جب اس طرح کے دہشت گردانہ واقعات پر ان کی مذمت کرنے کی بجائے سعودی عرب کی فوجی قوت اور دفاع حرمین کی اس کی اہلیت پر سوال اٹھانے لگتے ہیں، یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی کے گھر پر قذاقوں کا حملہ ہو جائے اور اس سے اس کی جان و مال اوراملاک کو کچھ نقصان پہونچ جائے تو ان قذاقوں کو برا کہنے کی بجائے ان کے حملوں کے شکار لوگوں میں ہی خامی نکالی جائے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کی مسلح افواج اور اس کی دفاعی تنصیبات اس طرح کی سینکڑوں کوششوں اور میزائل حملوں کو ناکام بناچکی ہیں،اور ایسے میزائلوں کو ہوا میں تباہ کر چکی ہیں لیکن پھر بعض میزائل اپنے اہداف کونشانہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن یہ سعودی عرب کے دفاع کی کوئی ایسی خامی اور ناکامی نہیں ہے جسے ہدف تنقید بنایا جائے کیونکہ گذشتہ مارچ میں ایران اور اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل کے بے شمار فوجی اہداف اور شہری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور خلیجی خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں وہوائی جہازوں کو اپنے میزائلوں سے تباہ کیا اور باوجود اس کے کہ امریکہ و اسرائیل دونوں دنیا کے فوجی و عسکری اعتبارسے طاقتور ترین ممالک میںشمار کئے جاتے ہیں وہ ایران کے بعض میزائلوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے، دنیا جانتی ہے کہ حوثی ملیشیا ایران کے حمایت یافتہ اور وہیں کے تربیت یافتہ ہیں، انھوں نے عراق و لبنان میں موجود ایرانی پراکسیز کے اڈوں اور خود ایران میں وہاں کے فوجی اہلکاروں سے جنگی حکمت عملی ،گوریلا وار اور میزائل چلانے کی تربیت حاصل کی ہے، اس لیے ان کی حربی صلاحیتوں کو کمتر سمجھنا اور سعودی عرب کو دفاع حرمین کی صلاحیتوں سے عاری یا کمزورسمجھنا جنگی حالات سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
حوثی ملیشیا کے پاس کھونے اور گنوانے کے لیے کچھ نہیں ہے ان میں سے بیشتر پہاڑی دروں اور غاروں میں رہتے ہیں، ہر طرح کی شہری سہولیات سے محروم ہیں، کچھ عرصہ قبل پتھریلی زمین پر چلنے کے لیے ان کے پاس جوتے تک نہیں تھے لیکن جہاں انہیں ایران سے تباہ کن اسلحے ودورمار میزائل ملے، ایران سے جنگی تربیت ملی وہیں زندگی کی کچھ آسائشوں سے وہ آشنا ہوئے لیکن سعودی عرب ایک مضبوط و طاقتور معیشت کا مالک ملک ہے، تیل سعودی عرب کا اہم ترین تزویراتی اثاثہ ہے، کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں مملکت سعودی عرب تیل کی برآمدات کے اعتبار سے دنیا میں سب سے آگے اور اوپیک میں قائدانہ حیثیت کا مالک ہے، تیل کی اضافی پیداوار کی اہلیت کے ساتھ اسے ذخیرہ کرنے کی بھی اس کے پاس غیر معمولی صلاحیت ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی دولت و معیشت کے لئے صرف تیل پر انحصار کرنے کی بجائے ایک پائیدار اور متنوع معیشت اور ترقی کی طرف گامزن ہے، ٹیکنالوجی، ادارتی اثرورسوخ ، سرمایہ کاری، سیاحت و صنعت، فنون لطیفہ، نقل و حمل،مینوفیکچرنگ، معدنیات، قابل تجدید توانائی، جوہری توانائی اور دفاعی پیداوار سمیت دیگر مصنوعات جدید سعودی عرب کی شناخت اور دنیا میں اس کی معاشی برتری کے اہم حوالے بن رہے ہیں۔
یہ تمام حصولیابیاںوکامرانیاں تو اس کی دنیادی ترقیات اور مستقبل کی منصوبہ بندیوں کا حصہ ہیں لیکن دینی قیادت و مرکزیت کے معاملہ میں اسے جو امتیاز اور فضیلت حاصل ہے اس کا موازنہ دنیا کے کسی بھی اسلامی ملک سے نہیں کیا جاسکتا، وہاں پوری دنیا کے ہر مکتب فکر کے مسلمانوں کا قبلہ وکعبہ ہے اور دنیا کے بت کدے میں اللہ کا پہلا گھر ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان پانچوں وقت کی نمازوں میں رخ کرتے ہیں، سعودی عرب ہر سال لاکھوں حجاج اور معتمرین کا استقبال کرتا ہے اور حج وعمرہ کے محیر العقول انتظامات کرتا ہے، یہ فضیلت واعزازاور یہ شرف وامتیاز دنیا کے کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں، یہ دنیا کے تمام مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے، اس کے دفاعی حصار کو کمزور کرنے اور اس کی دینی وسیاسی طاقت کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش مسلمانانِ عالم کے لئے ناقابل برداشت ہے۔
جبکہ اس کے برعکس حوثی ایک دہشت گرد تنظیم ہے، نہ اسے کوئی دینی حیثیت حاصل ہے نہ سیاسی اعتبار سے کوئی ملک اسے تسلیم کرتا ہے وہ خانہ بدوش ڈاکوؤں اور غاروں میں رہنے والے اٹھائی گیروں کا ایک بے وقعت ٹولہ ہے جسے ایران نے اپنے مفادات کے لئے کیل کانٹے سے لیس کر دیا ہے۔
ہمیں سعودی عرب کی حکومت، اس کی مسلح افواج کی قوت و تربیت، اس کے شہریوں کی قوت برداشت اور ملک سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی فہم و بصیرت اورجنگی و سیاسی حکمت عملی پر پورا بھروسہ ہے اور ہم سعودی عرب کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کر سکتے۔
اللہ تعالی حرمین شریفین، حکومت سعودی عرب اور وہاں کے شہریوں کی حفاظت فرمائے اور دنیا میں امن و سلامتی سے بہرہ ور فرمائے! آمین۔

Related posts

نیوزی لینڈ کی شاندار جیت، ٹی 20 عالمی کپ 2026 کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی امید زندہ

Hamari Duniya News

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم میں مسلمانوں کو بھی نمایاں نمائندگی، پروفیسر طارق منصور قومی نائب صدر مقرر

Hamari Duniya News

استقبال ماہ رمضان مبارک پروگرام، مفتیان کرام اور ائمہ کرام کی عزت افزائی

Hamari Duniya News