نئی دہلی، 7 اکتوبر: کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وہ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ جنتر منتر جارہے ہیں، جہاں وہ احتجاج کریں گے۔ راہل گاندھی اور اپوزیشن پارٹیاں چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کیلئے بضد ہوگئی ہیں۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ گیانیش کمار نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، انہیں ہر حال میں جانا ہوگا اور جس کے حکم پر انہوں نے جمہوریت کو کمزور کیا ہے ان کو بھی جانا ہوگا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کل ہم چیف الیکشن کمشنر سے ملنا چاہتے تھے لیکن ہمیں ملنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایف آئی آر درج کرکے ہمیں ڈرا دیں گے لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ اپوزیشن رہنما نے کہا کہ ایف آئی آر میرے لئے میڈل ہے۔ اب تک میرے خلاف 45 ایف آئی آر درج ہوچکے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے خلاف 100 ایف آئی آر درج کریں۔ اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے معاملے پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی اپیل پر انڈیا بلاک کے ارکان دہلی کے جن پتھ واقع ساگر رتن ریستوران میں جمع ہوئے تھے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’ہم اب جنتر منتر جارہے ہیں اور وہیں دھرنا دیں گے۔‘‘ اپوزیشن ارکان کا احتجاج انتخابی عمل اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ان کے اعتراضات سے متعلق ہے۔
ساگر رتن ریستوران جنتر منتر سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ احتجاج کے پیش نظر علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 163 بھی نافذ کر رکھی ہے۔
دہلی پولیس اپوزیشن ارکان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھ رہی ہے۔ پولیس فی الحال ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی حکمت عملی پر عمل کررہی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اگر ارکان پارلیمنٹ جنتر منتر، کناٹ پلیس یا ونڈسر پیلس کی جانب بڑھتے ہیں تو انہیں روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ پولیس اہلکاروں کو ارکان کو روکنے اور ضرورت پڑنے پر حراست میں لینے کے طریقہ کار کے بارے میں بھی ہدایات دی گئی ہیں۔
آکاش وانی بھون میں داخلے پر ایف آئی آر کا معاملہ
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اپوزیشن کے گزشتہ احتجاج کے سلسلے میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی وڈرا اور دیگر افراد کے خلاف آکاش وانی بھون میں مبینہ طور پر بغیر اجازت داخل ہونے اور احتجاج کرنے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق منگل کو پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کے دوران پولیس نے اپوزیشن ارکان کو روک دیا تھا۔ اس کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر ارکان آکاش وانی بھون کے احاطے میں داخل ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے احتجاج کیا۔ پولیس نے متعدد ارکان پارلیمنٹ اور حامیوں کو حراست میں بھی لیا تھا۔
اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گ نظرثانی (SIR) اور انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔ اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کا الزام ہے کہ انتخابی نظام میں شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں اور ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہیے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن اور حکومت اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
جنتر منتر پر اپوزیشن کے ممکنہ دھرنے کے پیش نظر پولیس نے سکیورٹی مزید سخت کردی ہے اور کسی بھی غیر مجاز مارچ یا احتجاج کو روکنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
