ریاض/صنعا، 9 ستمبر: یمن میں ایران نواز حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں بزدلانہ حملے کئے جس کا جواب سعودی عرب نے منہ توڑ انداز میں دیا ہے۔ حوثیوں کے ناپاک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی زیر قیادت اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں کے تازہ حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام نے ان حملوں کو مملکت کی خودمختاری کے خلاف خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے حوثیوں کو سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
میزائل اور ڈرون حملوں سے توانائی تنصیبات بھی متاثر
سعودی وزارت توانائی کے مطابق جنوبی علاقوں میں توانائی کے شعبے سے وابستہ متعدد تنصیبات اور مقامات بھی حملوں کی زد میں آئے، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بعض آپریشنز کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے اہم فوجی اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں کا الزام ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی حملے کیے گئے تھے۔
سعودی عرب کا سخت جواب دینے کا اعلان
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے حوثیوں کے حملوں کو "خطرناک تصعيد” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی افواج حوثی گروپ کو روکنے اور اس کے حملوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری عملی اقدامات کریں گی۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ ریاض اپنی خودمختاری، قومی تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری تمام اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سعودی موقف کے مطابق حوثیوں کی جانب سے شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین چیلنج ہے۔ سعودی اتحاد نے حوثیوں کے حملوں کے ذرائع کو نشانہ بنانے اور خطرے کو ختم کرنے کے لیے ضروری کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
سعودی عرب کا منہ توڑ جواب
دوسری جانب حوثی ذرائع نے خود دعویٰ کیا ہے کہ مزائل حملوں کے جواب میں سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق الجوف، مارب، البیضا اور تعز کے علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں نے شمالی یمن کے صوبہ الجوف کے علاقے الحزم میں ایک جیل پر سعودی فضائی حملے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ حوثی ذرائع کے مطابق اس حملے میں سات افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ تاہم سعودی حکام نے اس مخصوص حملے کے دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
کشیدگی میں اضافے سے علاقائی صورتحال تشویشناک
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب یمن کے اندر بھی سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔ حالیہ جھڑپوں اور فوجی کارروائیوں نے 2022 میں قائم ہونے والی نسبتاً طویل جنگ بندی کو شدید خطرے سے دوچار کردیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے خطے سے باہر بھی اثرات مرتب کرسکتے ہیں، کیونکہ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ تازہ کشیدگی کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
صورتحال اس وقت مزید حساس ہوگئی ہے کیونکہ سعودی عرب نے حوثی حملوں کو برداشت نہ کرنے اور سخت جوابی کارروائی کا واضح عندیہ دے دیا ہے، جبکہ حوثیوں نے بھی سعودی حملوں کے جواب میں مزید کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح یمن اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پورے خطے میں ایک نئے تصادم کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔
