پروفیسر مظہر آصف
وائس چانسلر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک جناب موہن بھاگوت کا حالیہ خطاب محض ایک سیاسی و تنظیمی بیان نہیں بلکہ ایک ایسی تہذیبی گفتگو کا نمونہ ہے جسے ایک ماہرِتعلیم اور تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے سنجیدگی کے ساتھ پرکھنا لازم ہے۔ بحیثیت ایک ہندوستانی مسلمان، اور ادب کا طالب علم، میں اس خطاب کو محض تائید یا تردید کے آسان خانوں میں تقسیم کرنے کے بجائے اس کے تہذیبی مضمرات پر غور کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
تنقیدی بصیرت کسی بھی علمی روایت کی بنیاد ہوتی ہے، اور کسی شخصیت یا تنظیم کے بارے میں محتاط رہنا دانش مندی کی علامت ہے۔ لیکن دیانت دارانہ علمی رویہ یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ جب کوئی بیان انسانی وقار، مذہبی تکثیریت اور قومی یکجہتی کی حمایت میں سامنے آئے، تو اسے بھی اسی توجہ کے ساتھ زیر بحث لایا جائے جس توجہ کے ساتھ ہم تنقید کرتے ہیں۔ علم و دانش کا تقاضا توازن ہے، نہ کہ یک طرفہ موقف۔
جناب بھاگوت نے نیویارک کے اس اجتماع میں ایک ایسا جملہ ادا کیا جو، میری دانست میں، برسوں کی فکری مغالطہ آرائی کا ازالہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جو ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے جگہ نہیں، وہ حقیقی معنوں میں ہندو کہلانے کا مستحق نہیں۔ انہوں نے انسانی وقار، تکثیری مذہبی راستوں اور بنیادی انسانی وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عقائد کا اختلاف ممکن ہے، مگر انسانیت کی اصل ایک ہے۔ یہ بیان محض سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس تاریخی حقیقت کا اعتراف ہے کہ برصغیر کی تہذیب کبھی بھی ایک مذہبی شناخت میں محدود نہیں رہی۔ گنگا جمنی تہذیب، جس کی جڑیں صدیوں کی مشترکہ لسانی، فنی اور علمی روایت میں پیوست ہیں، اسی کثرت میں وحدت کی گواہ ہے۔ فارسی و اردو ادب کی وہ عظیم روایت جس کا میں خود ایک طالب علم ہوں، ہندو اور مسلم قلم کاروں کے مشترکہ تخلیقی سرمائے کے بغیر نامکمل ہے۔ اگر کوئی ہندوستانی مسلمان یہ محسوس کرے کہ اس کا وجود کسی دوسرے مذہب کی شناخت کے منافی ہے، تو ہندوستان کی صدیوں پرانی تہذیبی روایت خود اس تصور کی تردید کرتی ہے۔ ہمارا یقین کامل ہے کہ اس دو جہاں میں جو کچھ بھی ہے اللہ کی تخلیق ہے اور سارے انسان حضرت آدم کی اولاد ہیں۔
اس خطاب اور اس جیسے مکالموں میں ایک تصور بار بار سامنے آتا ہے جس پر علمی سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا ہر ہندوستانی شہری، بالخصوص ایک اہلِ علم کا فرض ہے: جنم بھومی اور کرم بھومی کا فلسفیانہ فرق۔ اس تصور کی رو سے کسی عقیدے یا قوم کی تاریخی، جغرافیائی یا روحانی اصل خواہ کہیں بھی ہو، مگر وہ سرزمین جس نے ہمیں پروان چڑھایا، جس کی مٹی میں ہمارے اسلاف آسودۂ خاک ہیں، جس کی زبان و ثقافت نے ہماری فکری تشکیل کی، وہی ہماری حقیقی کرم بھومی ہے، اور اسی سے وفاداری کا تقاضا سب سے مقدم ٹھہرتا ہے۔
یہ سبق ایک ہندوستانی مسلمان کے لیے کوئی اجنبی فکر نہیں۔ اسلام خود وطن دوستی کی تلقین کرتا ہے اور اس سے محبت کرنا ایمان کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ قرآن شریف کے سورہ طہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "منھا خلقنکم و فیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخریٰ” یعنی ہم نے اسی زمین سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی زمین سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔ برصغیر کے علماء و مشائخ کی ایک طویل فہرست ایسی ملتی ہے جنہوں نے اسی سرزمین کی آزادی، تعمیر اور استحکام کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں۔ مثنوی نُہ سپہر میں خسرو لکھتے ہیں کہ وقتیکہ آدم از بہشت بیرون راندہ شد با امر خدا بہ ہند آمد چوں ہند تنہا بدل جنت بروئے زمین بود۔ امیر خسرو نے ہندوستان کو جنت پر ترجیح دی ہے۔ علامہ اقبال، جن کا فکری سرمایہ ہندوستانی مسلمانوں کی علمی وراثت کا ایک اہم ستون ہے، نے وطن سے وابستگی کو ایک اعلیٰ اخلاقی قدر کے طور پر پیش کیا۔ ان کے نزدیک ملت کا تصور کسی محدود جغرافیائی حد بندی سے بالاتر تھا، مگر اس کے باوجود انہوں نے اسی سرزمین سے محبت کو ایک لازمی انسانی جذبہ قرار دیا جس نے انسان کو زندگی اور شناخت بخشی۔
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
بندے کلیم جس کے پربت جہاں کے سینا
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا
رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
جب جناب بھاگوت یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے وجود سے انکار ہندوتوا کی نمائندگی نہیں کرتا، تو درحقیقت وہ اسی کرم بھومی کے فلسفے کی ایک وسیع تر تعبیر پیش کر رہے ہیں۔ یہ اعتراف کہ عقیدے کی اصل کہیں سے بھی ہو، وفاداری، محنت اور تعلق کا اصل معیار وہی سرزمین ہے جس پر انسان جیتا اور جس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ دیش بھکتی کا حقیقی مفہوم یہی ہے۔ زمین کا ادب، آئین کا احترام اور اجتماعی تعمیر میں برابر کی شرکت۔
اس خطاب کی اہمیت محض مندرجات تک محدود نہیں بلکہ اس کے مقام سے بھی جڑی ہے۔ نیویارک، جو عالمی سیاست، معیشت اور ابلاغ عامہ کا ایک اہم مرکز ہے، وہاں ہندوستان کے بارے میں کہی گئی بات صرف داخلی سامعین تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی برادری کے سامنے ایک بیانیہ تشکیل دیتی ہے۔ ایسے دور میں جب ہندوستان کے بارے میں عالمی سطح پر متضاد تصورات موجود ہیں، میڈیسن اسکوائر گارڈن جیسے وقیع پلیٹ فارم سے "Unity in Diversity” کی بات کرنا ایک اہم علامتی اقدام تھا۔ جناب بھاگوت نے کہا کہ تنوع میں اتحاد ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے اور ہندوستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اس نمونے کو پیش کرے۔
ادب کے طالب علم کی حیثیت سے میں اس بات پر فخر محسوس کرتا ہوں کہ ہندوستان کی شناخت محض اقتصادی ترقی، دفاعی طاقت یا تکنیکی برتری تک محدود نہیں بلکہ اس کی گہرائی اس امر میں پنہاں ہے کہ ہم اپنے تہذیبی و مذہبی تنوع کو کس دانش مندی سے سنبھالتے ہیں۔ اگر ایک ارب سے زائد آبادی رکھنے والا یہ ملک متنوع مذاہب کے پیروکاروں کو ایک مشترکہ قومی شناخت میں پرو سکے، تو یہ ہندوستان کی سب سے بڑی تہذیبی کامیابی ہوگی۔
جناب بھاگوت کے خطاب میں "وَسُدھَیْو کُٹُمبکم” یعنی "پوری دنیا ایک خاندان ہے” کا فلسفہ بھی نمایاں تھا۔ پروگرام کا عنوان ہی "One World, One Humanity” رکھا گیا، جس میں مذہبی راستوں کے اختلاف کے باوجود انسانی وحدت اور باہمی احترام پر زور دیا گیا۔ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس تصور میں اسلامی فکر کی بازگشت صاف سنائی دیتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۔ یعنی انسانوں کو مختلف اقوام اور قبائل میں اس لیے تخلیق کیا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہندوستانی تہذیبی فکر اور اسلامی اخلاقی فلسفہ ایک مشترکہ افق پر ملتے ہیں۔مذہب مختلف ہو سکتا ہے، مگر انسانیت اور کرم بھومی سے وفا کا اصول مشترک رہتا ہے۔
ایک سنجیدہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہندوستان کی مذہبی تکثیریت اتنی اہم ہے، تو اس پیغام کو ہندوستان کے اندر بھی اسی قوت اور تسلسل کے ساتھ کیوں نہ دہرایا جائے؟ یہ سوال بجا ہے، اور کسی مثبت بیان کا خیرمقدم کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم مستقبل کے بارے میں تنقیدی سوالات پوچھنا ترک کر دیں۔ بلکہ اس کے برعکس، اگر کسی بڑی تنظیم کے سربراہ نے عالمی پلیٹ فارم پر یہ واضح کیا ہے کہ مسلمانوں کے وجود سے انکار ہندوتوا کی نمائندگی نہیں کرتا، تو ہندوستانی معاشرے، بالخصوص تعلیمی و علمی اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس بیان کو ایک سنجیدہ سماجی اور تعلیمی عہد میں تبدیل کریں۔ امریکہ میں کہی گئی بات ہندوستان کی عملی زندگی، ہماری جامعات، ہمارے تعلیمی نصاب اور ہمارے سماجی برتاؤ کا حصہ بنے ۔ اس سے بہتر نتیجہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ جناب بھاگوت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مستقل سماجی تبدیلی محض سیاسی اقتدار سے نہیں بلکہ معاشرے کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔ میں اس مشاہدے سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں۔ ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات کا مسئلہ محض پارلیمانی یا انتظامی سطح کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ محلے، تعلیمی اداروں، جامعات اور روزمرہ کے سماجی برتاؤ کی سطح پر حل طلب ہے۔ علم کے ذریعے تعصب کا خاتمہ، تحقیق کے ذریعے مکالمے کا فروغ، اور تعلیم کے ذریعے کرم بھومی سے وفاداری کے جذبے کی آبیاری ہونی چاہیے۔
ہندوستان میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور جناب بھاگوت کے بارے میں مختلف اور بسا اوقات متضاد آراء موجود ہیں، اور کسی جمہوری و تکثیری معاشرے میں یہ بالکل فطری امر ہے۔ نیویارک میں ان کے دورے اور خطاب کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے، جو اس بات کی علامت ہیں کہ ان کی شخصیت اور تنظیم کی سیاست پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ایک علمی روایت میں پروان چڑھنے والا شخص ان اختلافات سے صرف نظر نہیں کر سکتا، اور نہ کرنا چاہیے۔ لیکن علمی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اگر کوئی بیان انسانی وقار، مذہبی تکثیریت اور قومی یکجہتی کی حمایت میں سامنے آئے، تو اسے تسلیم کرنے میں تامل نہ کیا جائے۔ تنقید اپنی جگہ لازم ہے، مگر انصاف بھی اتنا ہی لازم ہے۔ علم کا اصل وقار اسی توازن میں پنہاں ہے۔
میری خواہش ہے کہ دنیا ہندوستان کو محض اس کی معیشت، دفاعی طاقت یا تکنیکی برتری کے حوالے سے نہ پہچانے، بلکہ ایک ایسی تہذیب کے طور پر بھی جانے جو اپنے تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتی ہے۔ ایک ایسی تہذیب جہاں ہر شہری، خواہ اس کی عقیدت کی جنم بھومی کہیں بھی ہو، اپنی کرم بھومی سے سچی اور غیر مشروط وفاداری نبھاتا ہے۔ اگر نیویارک میں ہندوستان کی یہی تصویر پیش کی گئی ہے، تو بحیثیت ایک ہندوستانی مسلمان اور ادب کا طالب علم، میں اس تصویر کا خیرمقدم کرتا ہوں، اور اسے محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک تعلیمی و تہذیبی عہد کے طور پر دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں۔
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
