تہران، 30 اگست: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجی ممالک کے حکمرانوں سے اپنے ’حقیقی دشمن‘ کو پہچاننے اور اس کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون اور مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ اپیل پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی ولادت کے موقع پر منائی جانے والی ہفتۂ وحدتِ اسلامی کے دوران جاری کیے گئے ایک تحریری پیغام میں کی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں بالخصوص مغربی ایشیا اور خلیجی ممالک کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کی شناخت کریں، اس کے منصوبوں کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات اور تقسیم ان کے مخالفین کے مفاد میں جاتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کو مسلم دنیا کا دشمن قرار دیا
ایرانی سپریم لیڈر کے پیغام میں امریکا اور اسرائیل پر سخت تنقید کی گئی۔ ان کے مطابق بیرونی طاقتیں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات سے فائدہ اٹھاتی ہیں، اس لیے مسلم دنیا کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ مفادات اور سلامتی کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے دفاع میں کھڑے ہونے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو عناصر مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرتے ہیں، وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اسلام کے دشمنوں کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں۔
فلسطین کا حوالہ، مسلم اتحاد کی ضرورت پر زور
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں فلسطینیوں کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر مسلم دنیا متحد ہوتی تو کیا فلسطینی اس قدر بے سہارا رہتے؟
انہوں نے خلیجی ممالک کے حکمرانوں سے بھی سوال کیا کہ اگر خلیج کے عوام اور حکومتیں اسلامی پرچم تلے متحد ہوتیں تو کیا بیرونی عناصر ان کی سرزمین اور وسائل پر نظر رکھنے کی جرأت کرتے؟
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خلیجی خطے کی سلامتی ایک اہم عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے منظرِ عام پر نہیں آئے
ایرانی سپریم لیڈر کا یہ تحریری پیغام اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ کئی ماہ سے عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے۔ رپورٹس کے مطابق وہ امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے عوامی طور پر دکھائی نہیں دیے۔ ان کی صحت اور موجودہ صورتحال سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی امور میں فعال ہیں۔
مسعود پزشکیان: ایران جنگ کا خواہاں نہیں
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی اور وہ جنگ کا خواہاں بھی نہیں ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔
پزشکیان نے کہا کہ کوئی بھی طاقت ایسی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتی جو اپنے دفاع کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ کھڑی ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو تیار ہے۔
ایرانی صدر نے امریکا کے ساتھ طے پانے والے مفاہمتی فریم ورک کو ایران، خطے اور عالمی مفاد میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور معاہدے پر عمل درآمد کے ذریعے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مزید کشیدگی پیدا نہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
خطے میں سفارت کاری اور کشیدگی ساتھ ساتھ
ایران کی اعلیٰ قیادت کے حالیہ بیانات سے ایک جانب خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے خلاف سخت مزاحمت کا پیغام ملتا ہے، تو دوسری جانب تہران سفارتی مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن دباؤ یا دھمکی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
دوسری طرف مجتبیٰ خامنہ ای کا خلیجی حکمرانوں کو دیا گیا پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران خطے میں مسلم ممالک کے درمیان سیاسی و دفاعی تعاون بڑھانے کو موجودہ حالات میں اہم سمجھتا ہے۔
