اگست 24, 2026
Delhi دہلیTop News

ٹیلی ویژن نے اردو زبان و ادب اور تہذیبی روایات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا

ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی کتاب ’’اردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت میں ٹیلی ویژن کا کردار‘‘ کی رسمِ اجرا، ممتاز ادیبوں و دانشوروں کی شرکت

نئی دہلی، 24 اگست(ہماری دنیا نیوز): سوشل کیئر ٹرسٹ، دہلی کے زیرِ اہتمام نئی دہلی کے تسمیہ آڈیٹوریم میں دوردرشن نیوز سے وابستہ ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی تصنیف ’’اردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت میں ٹیلی ویژن کا کردار‘‘ کی رسمِ اجرا کے موقع پر ایک علمی و ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں ٹیلی ویژن کے کردار، بدلتے ہوئے ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل دور میں اردو کے تحفظ و اشاعت کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

پروگرام کی صدارت تسمیہ آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ایس۔ فاروق نے کی۔ انہوں نے مصنف ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن اور اردو زبان و ادب کے باہمی تعلق کو دستاویزی شکل دینا ایک اہم علمی کام ہے۔ ان کے مطابق کتاب اردو ادب کی ترویج میں ذرائع ابلاغ کے کردار کو سمجھنے کے لیے مفید مواد فراہم کرتی ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر راشد جمال شمسی، ڈاکٹر خان رضوان، سنیئر صحافی جناب احمد جاوید، ڈاکٹر اسد اللہ، جناب عبد الواحد، ڈاکٹر شعیب رضا وارثی، جناب اطہر سعید، جناب اشرف علی بستوی، سنیئر صحافی مفیض الرحمٰن، عبد الحفیظ اور جناب وصل اعظم سمیت ممتاز اہلِ علم و ادب پر مشتمل پینل نے اظہارِ خیال کیا۔ دوردرشن نیوز کی اینکر محترمہ ریشما فاروقی بھی پروگرام میں موجود تھیں۔

مقررین نے کہا کہ ٹیلی ویژن نے اردو زبان، ادب، شاعری اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے وابستہ روایات کو ایک وسیع ناظرین تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مختلف ادوار میں ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ادبی و ثقافتی پروگراموں نے اردو کے فروغ کے ساتھ ساتھ نئی نسل کو اردو ادب اور تہذیبی ورثے سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ ڈیجیٹل عہد میں اردو زبان کے تحفظ، فروغ اور اشاعت کے لیے روایتی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارم، سوشل میڈیا اور دیگر جدید ذرائع کو بھی مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ مقررین کے مطابق بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے میں اردو کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پروگرام میں متعدد ممتاز ادیبوں، دانشوروں اور تعلیمی شخصیات کی شرکت نے تقریب کی علمی و ادبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔ ان میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، آج کل کے سابق ڈائریکٹر جناب خورشید اکرم، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمد رحمت اللہ، اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ڈاکٹر سید احمد خان اور ڈاکٹر سجاد سید قابلِ ذکر ہیں۔

مقررین نے ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی اردو زبان و ادب کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی کتاب کو ایک اہم اور مفید تصنیف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت میں ٹیلی ویژن کا کردار‘‘ اردو کے فروغ، اشاعت اور تحفظ میں ٹیلی ویژن کے بدلتے ہوئے کردار کو سمجھنے کے لیے اہم حوالہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Related posts

بنگلہ دیش میں ووٹوں کی گنتی جاری، جماعت اسلامی کو دھچکا، بی این پی آگے

Hamari Duniya News

جمعیۃ السنۃ التعلیمیۃ والخیریۃ، لکھنؤ کے زیر اہتمام کلیۃ الصدیقۃ الإسلامیۃ للبنات کی فارغات کو ردائے فضیلت اور معہد الفرقان لتحفیظ القرآن کے حفاظ کی دستار بندی کی باوقار تقریب اختتام پذیر

Hamari Duniya News

نفرتی سیاست ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ: انوار احمد انصاری

Hamari Duniya News