21.9 C
New York
اگست 21, 2026
National قومی خبریںTop News

’جنوب کو حق دو، ہم بھارت کا مستقبل سنواریں گے‘، حد بندی پر ڈی کے شیوکمار کا دوٹوک مطالبہ

ڈی کے شیوکمار حد بندی مطالبہ

مہابلی پورم، 20 اگست: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کے معاملے پر جنوبی ریاستوں کے مفادات کے تحفظ کی زور دار وکالت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی تعداد آئندہ 25 سال تک برقرار رکھی جائے اور اس مقصد کے لیے 1971 کی مردم شماری کو بنیاد بنایا جائے۔

تمل ناڈو کے مہابلی پورم میں منعقدہ 31ویں جنوبی علاقائی کونسل کی میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ جنوبی ریاستیں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور انہیں ان کے سیاسی و مالی حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے ساتھ چلیں، ہمیں مناسب فنڈ دیں اور جنوب کو اس کا حق دیں، ہم بھارت کو اس کا مستقبل دیتے رہیں گے۔‘‘

ڈی کے شیوکمار حد بندی مطالبہ

543 نشستیں برقرار رکھنے کا مطالبہ

کرناٹک حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں لوک سبھا کی مجموعی نشستوں کی تعداد 543 پر برقرار رکھنے پر خاص زور دیا گیا۔ شیوکمار نے کہا کہ آبادی کی بنیاد پر حد بندی کی صورت میں جنوبی ریاستوں کی سیاسی نمائندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے کم از کم اگلے 25 برس تک موجودہ تعداد برقرار رہنی چاہیے۔

انہوں نے خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے کی بھی حمایت کی، تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے لوک سبھا کی مجموعی نشستوں میں اضافہ ضروری نہ ہو، بلکہ موجودہ 543 نشستوں کے اندر ہی خواتین کے لیے ریزرویشن کا انتظام کیا جائے۔

’کرناٹک شکایت لے کر نہیں آیا‘

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ کرناٹک کسی شکایت کے ساتھ نہیں آیا بلکہ وہ بھارت کی ترقی کی سفر میں ایک مضبوط شراکت دار ہے۔ ریاست صرف انصاف اور برابری چاہتی ہے۔ انہوں نے مرکز سے مالی وسائل، سیاسی نمائندگی اور جنوبی ریاستوں کے وقار کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، ’’جب کرناٹک مضبوط ہے تو جنوب مضبوط ہے اور جب جنوب مضبوط ہے تو بھارت مضبوط ہے۔‘‘

ڈی کے شیوکمار حد بندی مطالبہ

جنوبی ریاستوں کو سیاسی نمائندگی کم ہونے کا خدشہ

جنوبی ریاستوں کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ اگر مستقبل میں آبادی کی بنیاد پر لوک سبھا حلقوں کی حد بندی کی جاتی ہے تو زیادہ آبادی والی ریاستوں کی پارلیمانی نشستوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جنوبی ریاستوں کی موجودہ سیاسی نمائندگی کا تناسب کم ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی وجہ سے جنوبی ریاستیں 1971 کی مردم شماری کو حد بندی کی بنیاد برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

مالی حصے میں اضافے کا مطالبہ

ڈی کے شیوکمار نے مرکز سے کرناٹک کے مالی حصے میں بھی اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے قابل تقسیم ٹیکس پول میں ریاست کا حصہ 3.6 فیصد سے بڑھا کر 4.7 فیصد کرنے کی بات کہی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت ریاست کا حصہ کم ہونے کے باعث کرناٹک کو چھ برس کے دوران تقریباً 65 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

کرناٹک نے مرکز سے 5,495 کروڑ روپے کے خصوصی گرانٹ اور 6,000 کروڑ روپے کے ریاستی خصوصی گرانٹ جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

بیداری، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل بھی اٹھائے

جنوبی علاقائی کونسل کی میٹنگ میں کرناٹک کی جانب سے بنگلورو-ممبئی ہائی اسپیڈ ریل، رائچور میں ایمس، کلیان کرناٹک کے لیے خصوصی پیکیج سمیت کئی اہم مطالبات پیش کیے گئے۔

اس کے علاوہ پانی، صحت، تعلیم، کان کنی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے مسائل بھی اجلاس میں اٹھائے گئے۔ شیوکمار نے کہا کہ جنوبی ریاستیں ملک کی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالتی ہیں، اس لیے قومی وسائل اور سیاسی نمائندگی میں بھی انہیں ان کا مناسب حصہ ملنا چاہیے۔

Related posts

مودی حکومت ملک کو امریکہ کا غلام بنا رہی ہے، اپوزیشن پارٹی کانگریس کا بہت بڑا الزام

Hamari Duniya News

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش،قطری وزیراعظم کی امریکی نائب صدر سے ملاقات

Hamari Duniya News

سال 2025: اصلاحات کا سال، بقلم: نریندر مودی، وزیراعظم ہند

Hamari Duniya News