21.9 C
New York
اگست 21, 2026
National قومی خبریںTop News

آسام کے سیلاب متاثرین کیلئے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام نے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے

آسام سیلاب متاثرین امداد

جمعیۃ علماء ہند مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ بلا تفریق مذہب و ملت کھڑی ہے: مولانا ارشد مدنی

بلا تفریق مذہب و ملت متاثرین کی مدد، 2,400 سے 2,500 خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد؛ جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور یتیم بچوں کے لیے بھی خصوصی تعاون

نئی دہلی/آسام، 18 اگست 2026: بالائی آسام میں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ ہزاروں خاندانوں کی فوری امداد اور مستقل بازآبادکاری کے لیے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام نے بڑے پیمانے پر امدادی مہم شروع کر رکھی ہے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت و سرپرستی اور صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں جاری اس مہم کے تحت مجموعی طور پر 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

جمعیۃ کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں میں غذائی اجناس اور گھریلو ضروریات کی فراہمی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا گھر گھر سروے، نقصانات کا تخمینہ، مستحق خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی معاونت، یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت اور متاثرہ خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری شامل ہے۔

’’مصیبت مذہب پوچھ کر نہیں آتی‘‘: مولانا ارشد مدنی

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے آسام میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفت کسی سے اس کا مذہب، ذات یا برادری پوچھ کر نہیں آتی۔ جب مصیبت آتی ہے تو وہ سب کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، اس لیے متاثرین کی مدد بھی بلا تفریق مذہب و ملت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کا مقصد صرف چند دن کا راشن تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے جن کے گھر، گھریلو سامان اور ذرائع معاش سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی طویل تاریخ ہے کہ اس نے قدرتی آفات، فسادات اور دیگر انسانی بحرانوں کے دوران بلا تفریق مذہب و ملت متاثرین کی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی انسانیت کا تقاضا ہے اور اسلام بھی انسانیت کی خدمت کا یہی درس دیتا ہے۔

2 کروڑ 25 لاکھ روپے امدادی مہم کے لیے مختص

بالائی آسام کے سیلاب متاثرین کے لیے جاری امدادی و بازآبادکاری مہم کے لیے مجموعی طور پر 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

  • 1 کروڑ روپے مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے
  • 1 کروڑ 25 لاکھ روپے عنفر فاؤنڈیشن کی جانب سے

یہ رقم جمعیۃ علماء آسام کے توسط سے متاثرین کی فوری امداد اور مرحلہ وار مستقل بازآبادکاری پر خرچ کی جائے گی۔

ابتدائی ریلیف پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ

سیلاب کے ابتدائی دنوں میں جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر چاول، دال، پیاز، آلو، سرسوں کا تیل، نمک اور دیگر اشیائے خوردونوش تقسیم کیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے ملبوسات، فینائل اور روزمرہ استعمال کا ضروری گھریلو سامان بھی فراہم کیا گیا۔

ابتدائی امدادی سرگرمیوں پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ مزید برآں تقریباً 4 لاکھ روپے مالیت کی ٹین کی چادریں، ایک لاکھ روپے کا فینائل اور ڈھائی لاکھ روپے کی ادویات بھی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔

چار اضلاع میں گھر گھر سروے مکمل

جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے شیوساگر، جورہاٹ، گولاگھاٹ اور چرائی دیو کے متاثرہ علاقوں میں گھر گھر سروے مکمل کرلیا ہے۔

اس مقصد کے لیے تقریباً 30 سے 35 افراد پر مشتمل خصوصی سروے ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مکانات، گھریلو سامان اور ذرائع معاش کو پہنچنے والے نقصانات کی نوعیت اور شدت کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی درجہ بندی کررہی ہے۔

متاثرین کے آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ اور دیگر ضروری دستاویزات کی بھی تصدیق کی جارہی ہے، تاکہ مالی امداد براہِ راست حقیقی مستحقین تک پہنچائی جاسکے۔

2,400 سے 2,500 خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد

سروے اور نقصانات کی درجہ بندی کے بعد تقریباً 2,400 سے 2,500 متاثرہ خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

  • شدید نقصان والے خاندانوں کو 10 ہزار روپے
  • درمیانے درجے کے نقصان والے خاندانوں کو 7 ہزار روپے
  • نسبتاً کم نقصان والے مستحق خاندانوں کو 5 ہزار روپے تک

مالی امداد فراہم کی جائے گی اور کوشش ہوگی کہ رقم مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں براہِ راست منتقل کی جائے۔

جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے خصوصی امداد

سیلاب یا اس سے متعلق حادثات میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے بھی خصوصی مالی تعاون کا انتظام کیا گیا ہے۔ بعض خاندانوں کو 50 ہزار روپے جبکہ انتہائی ضرورت مند خاندانوں کو ایک لاکھ روپے تک خصوصی امداد فراہم کی گئی ہے۔

مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ کسی انسانی جان کا کوئی مالی نعم البدل نہیں ہوسکتا، تاہم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے دکھ میں شریک ہونا اور اسے مالی سہارا فراہم کرنا انسانی ذمہ داری ہے۔

یتیم بچوں کی دو سالہ تعلیمی کفالت

سروے کے دوران ایسے یتیم اور بے سہارا بچوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن کی تعلیم سیلاب اور گھریلو مشکلات سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ابتدائی طور پر دو بچوں کی دو سالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے۔ انہیں فی بچہ 2 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے تاکہ مالی مشکلات کی وجہ سے ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہو۔

اس کے علاوہ تقریباً 5 لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔

مقامی تنظیموں کے تعاون سے 400 خاندانوں تک امداد

جمعیۃ علماء آسام نے امدادی سرگرمیوں میں مقامی سماجی تنظیموں کو بھی شامل کیا ہے۔ مختلف مقامی تنظیموں اور ان کے ذمہ داران کے توسط سے تقریباً 400 سیلاب متاثرہ خاندانوں کو اشیائے خوردونوش، رہائشی اور گھریلو ضروری سامان فراہم کیا گیا ہے۔

’’شفافیت ہماری اولین ترجیح‘‘: مولانا مشتاق عنفر

صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امدادی کام کو صرف راشن یا ضروری سامان کی تقسیم تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ابتدا ہی سے متاثرہ خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیمیں مسلسل گھر گھر پہنچ رہی ہیں تاکہ حقیقی مستحقین کی نشاندہی، نقصانات کا درست تخمینہ اور ضرورت کے مطابق امداد کی شفاف تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔

مولانا مشتاق عنفر کے مطابق امداد میں شفافیت اور مستحق تک براہِ راست تعاون پہنچانا اولین ترجیح ہے۔

ریلیف سے بازآبادکاری تک جاری رہے گا مشن

جمعیۃ علماء آسام کی امدادی مہم کو تین بنیادی مراحل میں منظم کیا گیا ہے:

ریلیف → گھر گھر جامع سروے → براہِ راست مالی امداد و مستقل بازآبادکاری

جمعیۃ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو صرف چند روزہ امداد دے کر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ حقیقی مستحقین کی مکمل بازآبادکاری تک یہ مہم جاری رہے گی۔

مولانا مشتاق عنفر نے واضح کیا کہ اس پورے عمل میں شفافیت، بلاامتیاز خدمت اور ضرورت مند تک براہِ راست امداد پہنچانے کے اصول کو مقدم رکھا جائے گا۔

Related posts

ایران جنگ کے بعد امریکا کے فضائی دفاعی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، رپورٹ میں انکشاف

Hamari Duniya News

آئین کی پاسداری اور ملک کی تعمیر وترقی کے لیے جدوجہد سب کا فریضہ ہے: مولانااصغر علی امام مہدی سلفی

Hamari Duniya News

216 کلومیٹر کی رفتار سے آرہی ہے آفت، جاپان کے بعد چین میں بھی خوف، ہندوستان پر بھی پڑے گا اثر

Hamari Duniya News