نئی دہلی، 06 اگست (ہماری دنیا نیوز)۔
لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو سے واضح طور پر کہا ہے کہ مجوزہ حد بندی (Delimitation) بل اپوزیشن کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس اہم آئینی معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے فوری طور پر کل جماعتی اجلاس (آل پارٹی میٹنگ) طلب کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم کرنے کی کوششوں کے تحت کرن رجیجو نے راہل گاندھی سے ملاقات کی، جس میں حد بندی بل اور خواتین کے لیے ریزرویشن سے متعلق مجوزہ آئینی ترامیم پر تبادلۂ خیال ہوا۔ تاہم راہل گاندھی نے کانگریس اور اپوزیشن کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں حد بندی بل ان کے لیے ناقابل قبول ہے اور اس پر وسیع سیاسی مشاورت ضروری ہے۔
راہل گاندھی نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے حساس معاملے پر یکطرفہ پیش رفت کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حد بندی جیسے دور رس اثرات رکھنے والے آئینی معاملے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا جمہوری تقاضا ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر آل پارٹی میٹنگ بلا کر تمام فریقوں کی رائے سنے۔
اطلاعات کے مطابق ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے دیگر پارلیمانی امور پر بھی گفتگو کی اور اپوزیشن کے خدشات سے حکومت کو آگاہ کیا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں تعطل ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم حد بندی بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حد بندی بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے قائم نہیں ہوتا تو پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں اس معاملے پر مزید سیاسی کشیدگی اور ہنگامہ آرائی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
