31.6 C
New York
اگست 6, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

۔Jamaat-e-Islami Hind نے وندے ماترم قانون پر نظرثانی اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ

Jamaat-e-Islami Hind

| Latest Urdu News

 جماعت اسلامی ہند نے وندے ماترم سے متعلق ترمیمی قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

 جماعت اسلامی نے کہا کہ حب الوطنی کو کسی مخصوص قومی گیت سے نہیں ناپا جا سکتا۔

 تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات اور تعلیم پر جی ڈی پی کا 6 فیصد خرچ کرنے کا مطالبہ۔

 آسام، اڈیشہ، گجرات اور کیرالہ میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اختیار کرنے کی اپیل۔

جماعت اسلامی ہند کا وندے ماترم ترمیمی قانون پر اعتراض، حکومت سے نظرثانی اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ

نئی دہلی، 6 اگست(محمد خان ؍ ہماری دنیا نیوز): جماعت اسلامی ہند (Jamaat-e-Islami Hind) نے پریوینشن آف انسلٹس ٹو نیشنل آنر (ترمیمی) بل، 2026 کے تحت وندے ماترم سے متعلق قانون پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حب الوطنی کو کسی مخصوص قومی گیت، نعرے یا علامتی عمل میں شرکت کی بنیاد پر نہیں ناپا جا سکتا، بلکہ آئین، جمہوری اقدار اور ملک سے وفاداری ہی حقیقی حب الوطنی کی بنیاد ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر، نئی دہلی میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر ملک محتشم خان نے کہا کہ جماعت ملک کے آئین، قومی پرچم اور تمام قومی علامات کے احترام پر یقین رکھتی ہے، تاہم وندے ماترم کے بعض اشعار، جن میں مادرِ وطن کو دیوی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، اسلامی عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقف نیا نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی اور جمہوری نظام میں پہلے بھی تسلیم کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ترمیمی قانون میں وندے ماترم گانے کو لازمی قرار نہیں دیا گیا، لیکن "توہین” اور "بے احترامی” جیسے مبہم الفاظ کو قابلِ سزا جرم بنانے سے قانون کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے بجوئے ایمانوئیل فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی عقیدے کی بنیاد پر احترام کے ساتھ قومی گیت میں شریک نہ ہونا آئین کے تحت محفوظ حق ہے۔ جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قانون میں ایسی واضح ضمانتیں شامل کی جائیں جن سے قومی علامات کے احترام کے ساتھ شہریوں کی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق بھی محفوظ رہیں۔

پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر پروفیسر سلیم انجینئر نے ملک کے تعلیمی نظام پر بھی اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ (NEET) تنازع کے بعد مرکزی وزیر تعلیم کا استعفیٰ عوامی ناراضی کی عکاسی کرتا ہے، تاہم صرف ایک فرد کی تبدیلی سے تعلیمی نظام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے نیتی آیوگ کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً 94 ہزار سرکاری اسکول بند ہوئے، جس سے سرکاری تعلیمی نظام کمزور اور تعلیمی عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیم پر سرکاری اخراجات کو جی ڈی پی کے کم از کم 6 فیصد تک بڑھایا جائے، سرکاری اسکولوں اور جامعات کو مضبوط بنایا جائے، اقلیتی طلبہ کے وظائف بحال کیے جائیں، امتحانی نظام میں شفافیت لائی جائے، تعلیم کو روزگار اور جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے اور تعلیمی اداروں کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔

سیلاب کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے آسام، اڈیشہ، گجرات اور کیرالہ سمیت مختلف ریاستوں میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال آنے والے سیلاب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حکومتیں صرف امدادی کارروائیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ سائنسی بنیادوں پر دریاؤں کے انتظام، ویٹ لینڈز کے تحفظ، نکاسیٔ آب کے مؤثر نظام، بروقت وارننگ سسٹم، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے اور متاثرہ خاندانوں کی مستقل بازآبادکاری کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں۔

انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جماعت اسلامی ہند کے رضاکاروں اور دیگر سماجی تنظیموں کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومت، سماجی اداروں، کارپوریٹ شعبے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کریں تاکہ وہ جلد از جلد معمول کی زندگی بحال کر سکیں۔

Related posts

ہلدوانی بن بھول پورہ معاملہ میں سپریم کورٹ کا اہم حکم، متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی نہیں

Hamari Duniya News

قرآن پر عمل کامیابی کی ضمانت، مدارس دین کی اساس: مولانا زبیر رحمانی

Hamari Duniya News

ہند۔ پاک کرکٹ شائقین کیلئے خوشخبری، پاکستان کا 15فروری کو ہندوستان کے خلاف میچ کھیلنے کا اعلان

Hamari Duniya News