:کیرانہ، 3 اپریل (عظمت خان)
قانون و نظم کے استحکام اور جرائم کے انسداد کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ’آپریشن کلین‘ کے تحت عدالت کے احکام پر کیرانہ کوتوالی کے مالخانہ میں گزشتہ 42 برسوں سے محفوظ غیر قانونی اسلحہ کو افسران کی مشترکہ ٹیم کی موجودگی میں مکمل طور پر تلف کر دیا گیا۔ اس کارروائی نے نہ صرف پولیس کی سنجیدگی کو ظاہر کیا بلکہ معاشرہ کو ایک مضبوط پیغام بھی دیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اب کوئی گنجائش باقی نہیں۔
واضح رہے کہ پولیس عظیم الشان مہم ’آپریشن کلین‘ کے تحت پولیس عظیمہ اترپردیش، لکھنؤ کی جانب سے ضبط شدہ غیر قانونی اسلحہ کے خاتمہ کے احکامات صادر کیے گئے تھے۔ اسی تسلسل میں عدالت نے بھی سال 1983 سے 2025 کے درمیان کیرانہ کوتوالی پولیس کے ذریعہ برآمد کیے گئے غیر قانونی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔
عدالتی احکام کی تعمیل میں ضلع مجسٹریٹ کے احکامات پر ایس پی شاملی کی ہدایت کے تحت ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں پولیس حلقہ افسر کیرانہ ہیمنت کمار، سینئر استغاثہ افسر شَیلی بھاردواج، کوتوالی انچارج انسپکٹر سمیہ پال اتری اور عدالت کے کلرک ہرینندن کو شامل کیا گیا۔
مذکورہ ٹیم نے اسلحہ ایکٹ سے متعلق 369 مختلف مقدمات میں ضبط شدہ ہتھیاروں کا مکمل ریکارڈ مرتب کرتے ہوئے عدالت سے تلفی کی اجازت حاصل کی۔ چنانچہ بدھ کے روز عدالتی احکامات کی روشنی میں کوتوالی کے مالخانہ میں موجود 315 و 12 بور کے 199 دیسی طمنچے، 14 بندوقیں و رائفلیں، 15 ریوالور و پسٹل، 2 اسلحہ سازی کے آلات، 148 چھریاں، 5 کلہاڑیاں، 4 گؤکشی کے آلات اور بڑی تعداد میں کارتوس کو نجی لوہار کی مدد سے ہتھوڑے، چھینی اور گرائنڈر مشین کے ذریعہ توڑ کر اور کاٹ کر مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا گیا۔
اس پوری کارروائی کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی بھی کرائی گئی، تاکہ آئندہ کے لیے یہ ایک مستند ریکارڈ کے طور پر محفوظ رہے۔ اس اقدام کو عوامی حلقوں میں قانون کی بالادستی کی جانب ایک مثبت اور مؤثر قدم قرار دیا جا رہا ہے
